Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/www/iqbal.wiki/includes/json/FormatJson.php on line 297

Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/www/iqbal.wiki/languages/LanguageConverter.php on line 773

Notice: Trying to access array offset on value of type null in /home/www/iqbal.wiki/includes/profiler/SectionProfiler.php on line 99

Notice: Trying to access array offset on value of type null in /home/www/iqbal.wiki/includes/profiler/SectionProfiler.php on line 99

Notice: Trying to access array offset on value of type null in /home/www/iqbal.wiki/includes/profiler/SectionProfiler.php on line 100

Notice: Trying to access array offset on value of type null in /home/www/iqbal.wiki/includes/profiler/SectionProfiler.php on line 100

Notice: Trying to access array offset on value of type null in /home/www/iqbal.wiki/includes/profiler/SectionProfiler.php on line 101

Notice: Trying to access array offset on value of type null in /home/www/iqbal.wiki/includes/profiler/SectionProfiler.php on line 101
Difference between revisions of "سلطانی" - IQBAL
 Actions

Difference between revisions of "سلطانی"

From IQBAL

(Created page with " کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے وہ فقر جس ميں ہے بے پردہ روح قرآنی خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپن...")
 
Line 2: Line 2:
  
 
کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
 
کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
 +
 
وہ فقر جس ميں ہے بے پردہ روح قرآنی
 
وہ فقر جس ميں ہے بے پردہ روح قرآنی
 +
 
خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
 
خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
 +
 
يہی مقام ہے کہتے ہيں جس کو سلطانی
 
يہی مقام ہے کہتے ہيں جس کو سلطانی
 +
 
يہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عيار
 
يہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عيار
 +
 
اسی مقام سے آدم ہے ظل سبحانی
 
اسی مقام سے آدم ہے ظل سبحانی
 +
 
يہ جبر و قہر نہيں ہے ، يہ عشق و مستی ہے
 
يہ جبر و قہر نہيں ہے ، يہ عشق و مستی ہے
 +
 
کہ جبر و قہر سے ممکن نہيں جہاں بانی
 
کہ جبر و قہر سے ممکن نہيں جہاں بانی
 +
 
کيا گيا ہے غلامی ميں مبتلا تجھ کو
 
کيا گيا ہے غلامی ميں مبتلا تجھ کو
 +
 
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی
 
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی
 +
 
مثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ سجود
 
مثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ سجود
 +
 
خريد لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی
 
خريد لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی
 +
 
ہوا حريف مہ و آفتاب تو جس سے
 
ہوا حريف مہ و آفتاب تو جس سے
 +
 
رہی نہ تيرے ستاروں ميں وہ درخشانی
 
رہی نہ تيرے ستاروں ميں وہ درخشانی

Revision as of 14:28, 25 May 2018


کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے

وہ فقر جس ميں ہے بے پردہ روح قرآنی

خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی

يہی مقام ہے کہتے ہيں جس کو سلطانی

يہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عيار

اسی مقام سے آدم ہے ظل سبحانی

يہ جبر و قہر نہيں ہے ، يہ عشق و مستی ہے

کہ جبر و قہر سے ممکن نہيں جہاں بانی

کيا گيا ہے غلامی ميں مبتلا تجھ کو

کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی

مثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ سجود

خريد لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی

ہوا حريف مہ و آفتاب تو جس سے

رہی نہ تيرے ستاروں ميں وہ درخشانی