Actions

Shaeer

From IQBAL

Revision as of 19:50, 24 May 2018 by Sana Maqsood (talk | contribs) (Created page with "شاعر قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم محفل نظم حکومت...")
(diff) ← Older revision | Latest revision (diff) | Newer revision → (diff)

شاعر

قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم محفل نظم حکومت، چہرہء زیبائے قوم شاعر رنگیں نوا ہے دیدہ بینائے قوم مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ