Difference between revisions of "تن بہ تقدير"
From IQBAL
Zahra Naeem (talk | contribs) (Created page with " اسی قرآں ميں ہے اب ترک جہاں کی تعليم جس نے مومن کو بنايا مہ و پرويں کا امير 'تن بہ تقدير' ہے آج ان...") |
m (Reverted edits by Ghanwa (talk) to last revision by Zahra Naeem) (Tag: Rollback) |
||
| (3 intermediate revisions by 2 users not shown) | |||
| Line 1: | Line 1: | ||
| + | <div dir="rtl"> | ||
| + | '''تن بہ تقدير''' | ||
اسی قرآں ميں ہے اب ترک جہاں کی تعليم | اسی قرآں ميں ہے اب ترک جہاں کی تعليم | ||
| Line 11: | Line 13: | ||
کہ غلامی ميں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمير | کہ غلامی ميں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمير | ||
| + | </div> | ||
Latest revision as of 01:04, 20 July 2018
تن بہ تقدير
اسی قرآں ميں ہے اب ترک جہاں کی تعليم
جس نے مومن کو بنايا مہ و پرويں کا امير
'تن بہ تقدير' ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں ميں خدا کی تقدير
تھا جو 'ناخوب، بتدريج وہی ' خوب' ہوا
کہ غلامی ميں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمير
