Difference between revisions of "غلاموں کے ليے"
From IQBAL
Zahra Naeem (talk | contribs) (Created page with " حکمت مشرق و مغرب نے سکھايا ہے مجھے ايک نکتہ کہ غلاموں کے ليے ہے اکسير دين ہو ، فلسفہ ہو ، فقر ہو ،...") |
Zahra Naeem (talk | contribs) |
||
| Line 1: | Line 1: | ||
| − | + | "<div dir="rtl"> | |
حکمت مشرق و مغرب نے سکھايا ہے مجھے | حکمت مشرق و مغرب نے سکھايا ہے مجھے | ||
ايک نکتہ کہ غلاموں کے ليے ہے اکسير | ايک نکتہ کہ غلاموں کے ليے ہے اکسير | ||
| + | |||
دين ہو ، فلسفہ ہو ، فقر ہو ، سلطاني ہو | دين ہو ، فلسفہ ہو ، فقر ہو ، سلطاني ہو | ||
| Line 10: | Line 11: | ||
ہو گيا پختہ عقائد سے تہي جس کا ضمير | ہو گيا پختہ عقائد سے تہي جس کا ضمير | ||
| + | </div > | ||
Revision as of 23:15, 25 May 2018
"
حکمت مشرق و مغرب نے سکھايا ہے مجھے
ايک نکتہ کہ غلاموں کے ليے ہے اکسير
دين ہو ، فلسفہ ہو ، فقر ہو ، سلطاني ہو
ہوتے ہيں پختہ عقائد کي بنا پر تعمير
حرف اس قوم کا بے سوز ، عمل زار و زبوں
ہو گيا پختہ عقائد سے تہي جس کا ضمير
