<br />
<b>Warning</b>:  "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in <b>/home/www/iqbal.wiki/includes/json/FormatJson.php</b> on line <b>297</b><br />
<br />
<b>Warning</b>:  "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in <b>/home/www/iqbal.wiki/languages/LanguageConverter.php</b> on line <b>773</b><br />
<?xml version="1.0"?>
<feed xmlns="http://www.w3.org/2005/Atom" xml:lang="en">
	<id>http://iqbal.wiki/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=Zahra+Naeem</id>
	<title>IQBAL - User contributions [en]</title>
	<link rel="self" type="application/atom+xml" href="http://iqbal.wiki/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=Zahra+Naeem"/>
	<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=Special:Contributions/Zahra_Naeem"/>
	<updated>2026-04-17T22:38:42Z</updated>
	<subtitle>User contributions</subtitle>
	<generator>MediaWiki 1.31.0-rc.0</generator>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9507</id>
		<title>ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے احساس خطر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9507"/>
		<updated>2018-06-27T19:48:46Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہندوستان میں علامہ کو اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق بہت بڑا خطرہ نطر آتا تھا۔ جس کے انسداد کی بعض ایسی کوششیں ان مکاتیب سے ملت کے سامنے آتی ہیں جو آج تک سب کی نظر سے پوشیدہ تھیںَ مسلمانوں اور اسلام کے لیے خطرہ ان کو ہندوستان کی تحریک قومیت اور مسلمانوں کی بے حسی اور بے راہ روی کی وجہ سے تھا۔ اشاعت اسلام کے لیے ان کے دل میں ایک تڑپ تھی۔ میر غلام بھیک صاحب نیرنگ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پرمقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس کا عنصر نہیں جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتاہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں علیٰ درجہ البصیرت یہ کہتا ہوںاور سیاسیات حاضرہ کے تھوڑے سے تجربے کے بعد کہ ہندوستان کی سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرہ عظیم ہے۔ میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرہ کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا یا کم از کم شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس روشن ضمری اور عاقبت بینی آج کون صاحب نظر داد نہ دے گا۔ مخدوم میراں شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت ہمت اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشر و اشاعت میں صرف کریں۔ اس تاریک زمانے میں حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے… افسوس شمال مغربی ہندوستان میں جن لوگوں نے عالم اسلام بلند کیا ان کی اولادیں دنیوی جاہ و منصب کے پیچھے پڑ کر تباہ ہو گئیں اور آج ان سے زیادہ جاہل کوئی مسلمان مشکل سے ملے گا الا ماشاء اللہ!‘‘&lt;br /&gt;
منشی صالح محمد صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اسلام پر ایک بڑا نازک وقت ہندوستان میں آ رہا ہے۔ سیاسی حقوق اور ملی تمدن کا تحفظ ایک طرف خود اسلام کی ہستی معرض خطر میں ہے۔ میں ایک مدت سے ا س مسئلہ پر غور کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ مسلمانوں کے لیے مقدم ہے کہ ایک بڑا نیشنل فنڈ قائم کریں جو ایک ٹرسٹ کی صورت میں ہوا اور اس کا روپیہ مسلمانوں کے تمدن اور ان کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور ان کی دینی اشاعت وغیرہ پر خرچ کیا جائے۔ اسی طرح ان کے اخبارات کی حالت درست کی جائے اور وہ تمام وسائل اختیار کیے جائیں جو زمانہ حال میں اقوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں…‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’مسلمانوں کی مختلف مقامات میں دینی اور سیاسی اعتبار سے تنظیم کی جائے قومی عساکر بنائے جائیں اور ان تمام وسائل سے اسلام کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اس کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
عام مسلمانوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ا س حالت زار اور ان کے لیے خطرہ عظیم کے عدم احساس کا ماتم اور اس خطرے کی نوعیت کو یوں واضح فرمایا ہے:&lt;br /&gt;
’’میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے مسلمانوں کو ابھی تک اس اک احساس نہیں کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس ملک ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اور اگر وقت پر موجودہ حالت کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی تو مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل اس ملک میں کیا ہو جائے گا۔ آئندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور پھیل اقوام کی طرح ہو جائے۔ اور رفتہ رفتہ ان کا دین اور کلچر اس ملک میں فنا ہوجائے اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لیے مجھے اپنے تمام کام چھوڑنے پڑے تو انشاء اللہ چھوڑ دوں گا۔ او ر اپنی زندگی کے باقی ایام اس مقصد جلیل کے لیے وقف کر دوں گا… ہم لوگ قیامت کے روز خدا اور رسولؐ کے سامنے جواب دہ ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کے انحطاط کے اسباب اورملت ہندیہ کے احیائے جدید کی تدابیر پر ہمیشہ نظر رہتی تھی۔ مسلمانان ہند کے انحطاط کا ایک سبب ان میں تنظیم اور یک جہتی و ہم آہنگی کا فقدان ہے ۱۹۳۳ء میں شیخ عبداللہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم آہنگی ایک ایسی چیز ہے کہ جو تمام سیاسی اور تمدنی مشکلات کا علاج ہے ہندی مسلمانوںکے کام اب تک محض اس وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں کہ یہ قوم ہم آہنگ نہ ہو سکی۔ اس کے افراد بالخصوص علماء اوروں کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنے رہے بلکہ اس وقت ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کو خود متحد ہو کر ہمت کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور انہیں دوسروں کی عیاری سے ہوشیار رہنے کی تلقین کے سلسلہ میں سید سلیمان ندوی کو تحریک خلافت کے زمانے میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مدت سے یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ تاثر ایک چھوٹی سی تضمین کی صورت میں منتقل ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں آپ کا اس بارہ میںکیا خیال ہے۔ واقعات صاف اور نمایاں ہیں مگرہندوستان کے سادہ لوح مسلمان نہیں سمجھتے اور لندن کے شیعوں کے اشارے پر ناچتے چلے جاتے ہیں افسوس مفصل عرض نہیں کر سکتا کہ زمانہ نازک ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہت آزمایا ہے غیروں کو تو نے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مگر آج ہے وقت خویش آزمائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مراد از شکستن چناں عار ناید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ از دیگراں خواستن مومیائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اصل شعر میں دیگراں کی جگہ ناکساں ہے میں نے یہ لفظی تغیر ارادۃً کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
یہ نہ سمجھیے کہ اقبال کی نظر صرف ننگ اسلام علماء ہی کے گناہوں پر تھی انگریزی خواں طبقے کے وہ لوگ جو ذاتی نفع کی خاطر ملت فروشی پر مائل اور اس طرح ملت میں انتشار کا باعث ہوتے تھے ان کی سیاہ کاریوں سے بھی علامہ کو بے حد قلق تھا۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں خود مسلمانوں کے انتشار سے بے حد درد مند ہوں اور گزشتہ چار پانچ سال کے تجربہ سے مجھے بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ پست فطرت ہے&lt;br /&gt;
                               *[[فتنہ قومیت و وطنیت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''مذہب سے دلچسپی اور فقہ اسلامی کی تشکیل جدید'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال غلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ع عاشق دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ زمانے کی نبض پر ان کا ہاتھ تھا۔ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط پر ان کا دل دکھتا تھا۔ مخالف قوتوں کے زور و اثر کو دیکھتے تھے اسباب انحطاط او رمشکلات کے مقابلہ کی صورتیں ان کے ذہن میں تھیں۔ کبھی ہماری بے حسی پر ان کا دل بیٹھ جاتاتھا  کبھی نامساعد زمانہ سے اسلام کے لیے جنگ آزمائی کا عزم ہوتا تھا اور اسلام کی فتح اور مسلمانوں کی کامرانی کے یقین پر ان کی زندگی موقوف تھی۔ مکاتیب کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے لیکن یاد رہے کہ اقبال کی نگاہ میں مذہب او رسیاست کی علیحدگی جائز نہ تھی۔ جہاں وہ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط سے نالاں تھے وہاں ان کے سیاسی تنزل کا ماتم بھی جاری تھا جہاں دوستوں کو مذہب اسلام کے مسائل کی طرف متوجہ کرتے اور دنیا کے موجودہ رجحانات کے پیش نظر تعلیمات اسلامی کی بلندی کی دنیا میں تلقین کی تدابیر پیش کرتے تھے وہاں ممالک اسلامیہ کی سیاسی شیرازہ بندی اور استحکام کو ان کے لیے زندگی اور آبرو کا راز جانتے اور مانتے تھے اور جب اور جہاں جس طرح ممکن ہو ا ان ممالک کی خدمت کرتے تھے ان کی سب سے بڑی خدمت مسلمانوں کو اس مذہبی و سیاسی خدمت کی طرف متوجہ کرنا تھا اوران دونوں قسم کی خدمات میں ان کا حصہ رہنمایانہ تھا۔ سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ممالک اسلامیہ کے موجودہ حالات دیکھ کر بے انتہا اضطراب پیدا ہو رہاہے۔ ذاتی لحاظ سے خدا کے فضل وکرم سے میرا دل پورا مطمئن ہے۔ یہ بے چینی اور اضطراب محض اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل گھبر اکر کوئی دوسری راہ نہ اختیار کر لے۔ حال ہی میں ایک تعلیم یافتہ عرب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ فرانسیسی خوب بولتا تھا۔ مگر اسلام سے قطعاً بے خبر تھا۔ اس قسم کے واقعات مشاہدہ میں آتے ہیں تو سخت تکلیف ہوتی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی انحطاط کی علت ہندوستان میں تعلیم کا سراسر غیر مذہبی ہوجانا اور عربی زبان سے ناواقفیت بتائی گئی ہے۔ نیاز احمد خاں کو ۱۹۳۱ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مذہبی مسائل بالخصوص اسلامی مذہبی مسائل کے فہم کے لیے ایک خاص ترتیب کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں کی نئی پود اس سے باکل کوری ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تعلیم کا تمام تر غیر دینی ہو جانا اس مصیبت کا باعث ہوا ہے۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوست کوجو ہندوستان سے باہر گئے ہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’عربی سیکھنے کا موقع ہے خوب سیکھیے مگر مجھے اندیشہ ہے کہ عربی دانی سے آپ کی دلچسپی جو اب آپ کو فارسی لٹریچر سے ہے کم ہو جائے گی۔ کوئی آدمی عربی زبان کے چارم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے طالب علمی کے زمانے میں خاصی عربی سیکھ لی تھی مگر بعد میں اورمشاغل کی وجہ سے اس کا مطالعہ چھوٹ گیا تاہم مجھے اس زبان کی عظمت کا صحیح اندازہ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے دوست کو ۱۹۱۶ء میںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہندی مسلمانوں کی بڑی بدبختی یہ ہے کہ اس ملک سے عربی زبان کا علم اٹھ گیا ہے اورقرآن کی تفسیر میں محاورہ عرب سے بالکل کام نہیں لیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قناعت و توکل کے وہ معنی لیے جاتے ہیں جو عربی زبان میں ہرگز نہیں…اس طرح ان لوگوں نے نہایت بے دردی سے قرآن اور اسلام میں ہندی اور یونانی تخیلات داخل کر دیے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
مسلمانوں کی زبوں حالی اور بداعمالی اور ان کے مستقبل کی فکر دین و ملت کے دو خادموں کو رلاتی ہے۔ اور وہ ایک دوسرے کی تائید و اعانت کرتے اور ہمت بندھاتے ہیں سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا اس وقت ایک روحانی پیکار میںمصروف ہے۔ اس پیکار و انقلاب کا رخ معین کرنے والے قلوب و اذہان پر شک و ناامیدی کی حالت کبھی کبھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آ پ کا قلب قوی اور ذہن ہمہ گیر ہے۔ آپ اس حالت سے جلد نکل آئیں گے … آپ اس جماعت کا پیش خیمہ ہیں … اس جماعت کا دنیا میں عنقریب پیدا ہونا قطعی اور یقینی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی پستی اورناواقفیت کا فوری علاج بھی بتایا جا رہا ہے اور مذہبی شوق کے پیدا کرنے اور اسلام کی برتری دنیا پر واضح و ثابت کرنے کا مستقل نسخہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ مولانا عبدالماجد کو ۱۹۲۹ء میں مسلم یونیورسٹی کے نئے دور کا مطالعہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ علی گڑھ جا کر مذہبیی مضامین پر طلبہ سے گفتگوئیں کیا کریں تو نتائج بہت اچھے ہوں گے۔ باوجود بہت سی مخالف قوتوں کے جو ہندوستان میں مذہب کے خلاف (اور بالخصوص اسلام کے خلاف) ا س وقت عمل کر رہی ہیں مسلمان جوانوں کے دل میں اسلام کے لیے تڑپ ہے لیکن کوئی آدمی ہم میں نہیں کہ جس کی زندگی قلوب پر موثر ہو…‘‘&lt;br /&gt;
’’اسلام کے لیے اس ملک میں نازک وقت آ رہا ہے جن لوگوں کو کچھ احساس ہے ان کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش اس ملک میںکریں… علماء میں مداہنت آ گئی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’افسوس کہ زمانہ حال کے اسلامی فقہا یا تو زمانہ کے میلان طبیعت سے بالکل بے خبر ہیں یا قدامت پرستی میں مبتلا ہیں… ہندوستان میںعام حنفی اس بات کے قائل ہیں کہ اجتہاد کے تمام دروازے بند ہیں… میری رائے ناقص میں مذہب اسلام گویا زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے اور شاید تاریخ اسلام پر ایسا وقت اس سے پہلے نہیں آیا۔ ‘‘&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے فکر اسلامی کی تجدید و طرح نو کے لیے بہت کوشش فرمائی اور طرح طرح کے مسائل کی طرف خود بھی توجہ کی اور علماء کو بھی متوجہ کیا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ فقہ اسلامی پر نئے سرے سے کتابیں لکھی جائیں۔ ایک دوست کو ایک عالم دین کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کیا اچھا ہو کہ وہ شریف محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مبسوط کتاب تحریر فرما دیں جس میں عبادات و معالات کے متعلق صرف قرآن سے استدلال کیا گیا ہو معاملات کے متعلق خاص طور پر اس قسم کی کتاب کی آج کل شدید ضڑورت ہے… اس پر ایک آدھ کتاب بھی تصنیف ہو چکی ہے ۔ اس سے زیادہ تر زمانہ حال کے مغربی اصول فقہ کو ملحوظ رکھ کر فقہ اسلامی پر بحث کی گئی ہے… ایک مدت سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ قرآن کامل کتاب ہے اور خود اپنے کمال کا مدعی ہے…لیکن ضرورت اس امر کی ہے ہ اس کے کمال کو عملی طور پر ثابت کیا جائے کہ سیاسیات انسانی کے لیے تمام ضروری قواعد موجود ہیں اوراسمیںفلاں فلاں آیات سے فلاں فلاں قواعد کا استخراج ہوتاہے نیز جو جو قواعد عبادات یا معاملات کے متعلق (بالخصوص موخر الذکر کے متعلق ) دیگر اقوا م میں اس وقت مروج ہیں ان پر قرآن نقطہ نگاہ سے تنقید کی جائے اور دکھایا جائے کہ وہ بالکل ناقص ہیں اور ان پر عمل کرنے سے نوع انسانی کبھی سیاست سے بہرہ اندوز نہیں ہو سکتی۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے جورس پروڈنس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا وہی اسلام کا مجدد ہو گا اوربنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم وہی شخص ہو گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال اس صورت حال کا مقابلہ علماء اسلام کی ایک جماعت تیار کرکے کرنا چاہتے تھے۔ اس جماعت کی تعلیم و تربیت کے لیے کس پایہ اور کن اوصاف کے اساتذہ کی ضرورت سمجھتے  تھے۔ اس کا اندازہ شیخ جامعہ ازہر کے نا م تحریک داراسلام سے متعلق ان کا مکتوب لائق توجہ ہے ۔ فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم ان کے لیے ایک لائبریری قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر قسم کی نئی اور پرانی کتابیں موجود ہوں۔ اور ان کی رہنمائی کے لیے ہم ایک ایسا معلم جو کامل اور صالح ہو اور قرآن حکیم میں بصارت تامہ رکھتا ہو ور نیز انقلا ب دو رحاضرہ سے بھی واقف ہو مقرر کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کو کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سے واقف کرے اور تفکر اسلامی کی تجدید یعنی فلسفہ حکمت اقتصادیات اور سیاسیات کے علوم میںان کی مدد کرے تاکہ وہ اپنے علم اور تحریروں کے ذریعے تمدن اسلامی کے دوبارہ زندہ کرنے میں جہاد کر سکیں‘‘۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''کن کن مذہبی مسائل پر توجہ تھی'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر اقبال کی نظر حال و مستقبل دونوں پر تھی۔ دین اسلام کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر جن مسائل سے واسطہ پڑا ہے یا پڑے گا ا س کااندازہ علامہ مرحوم کو تھا اور وہ چاہتے تھے کہ سوچتے تھے دوستوں سے پوچھتے تھے اور خود تلاش کرتے تھے اس سلسلہ میں صرف ان مسائل کی طرف محض اشارات پر اکتفا کرتا ہوں جن سے انہیں دلچسپی تھی سید سلیمان ندوی کو ۱۹۳۴ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا عجب کشمکش میں ہے جمہوریت فنا ہو رہی ہے اور اس کی جگہ ڈکٹیٹر شپ قائم ہو رہی ہے ۔ جرمنی میں مادی قوت کی پرستش کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ سرمایہ دار کے خلاف ایک جہاد عظیم ہو رہاہے ۔ تہذیب و تمدن (بالخصوص یورپ) بھی حالت نزع میں ہے۔ غرض کہ نظام عالم ایک نئی تشکیل کا محتاج ہے۔ ان حالات میں آپ کے خیال میں اسلام اس جدید تشکیل کا کہاں تک ممد ہو سکتا ہے اس بحث پر اپنے خیالات سے مستفیض فرمائیے۔ اگر کوئی کتابیں ایسی ہوں جن کا مطالعہ اس ضمن میں مفید ہو تو ان کے نامو ں سے آگاہ فرمائیے‘‘۔&lt;br /&gt;
سید صاحب ہی سے دریافت کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’احکام منصوصہ میں توسیع اختیارات امام کے اصول کیا ہیں؟ اگر امام توسیع کر سکتا ہے تو کیا ان کے عمل کو بھی محدود کر سکتا ہے؟ اسکی کوئی تاریخی مثال ہو تو واضح فرمائیے!‘‘&lt;br /&gt;
’’زمین کا مالک قرآن کے نزدیک کون ہے؟  اسلامی فقہا کا مذہب اس بارے میں کیا ہے؟ اگر کوئی اسلامی ملک (روس کی طرح) زمین کو حکومت کی ملکیت قرار دے تو کیا یہ بات شرع اسلامی کے موافق ہو گی یا مخالف؟ اس مسئلہ کا سیاست اور اجتماع معاشر ت سے گہرا تعلق ہے کیایہ بات رائے امام کے سپرد ہو گی؟ &lt;br /&gt;
اس ضمن میں علامہ کا یہ سوال کہ کیا جماعت امام کی قام مقام ہو سکتی ہے مدنظر رہنا چاہیے۔&lt;br /&gt;
’’امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک طلاق یا خاوند کی موت کے دو سال بعد بھی اگر بچہ پیدا ہو تو اس بچہ کے ولد الحرام ہونے پر نہیںکیا جا سکتا۔ اس مسئلہ کی اساس کیا ہے؟ کیا یہ اصول محض ایک قائدہ شہادت ہے یا جزو قانون ہے؟ اس سوال کے پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ مروجہ ایکٹ شہادت کی رو سے تمام وہ قواعدشہادت جو اس ایکٹ کے نفاذ سے پہلے ملک میں مروج تھے منسوخ کیے گئے ہیںَ ہندوستان کی عدالتوں نے مذکورہ بالا اصول کو قاعدہ شہادت قرا ر دے کر منسوخ کردیا ہے۔ نتیجہ اس بات کابعض مقامات میں یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان بچہ جو فقہ اسلامی کی رو سے ولد الحلال ہے ایکٹ شہادت کی رو سے ولد الحرام قرار دیا جاتا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبا ل کو اعتراف ہے:&lt;br /&gt;
’’میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔ البتہ فرصت کے اوقات میں میںاس بات کی کوشش کیا کرتا ہوں کہ ان معلومات میں اضافہ ہو۔ یہ بات زیادہ تر ذاتی اطمینان کے لیے ہے نہ کہ تعلیم و تعلم کی غرض سے‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال مجبور ہیں کہ مسلمانوں کی مذہبی بیداری اور اسلام کی حقیقی تعلیم کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر دوسرے ضابطہ ہائے حیات سے بہتتر اور ابدی ثابت کرنے کے لیے جو کوشش ضروری ہے جہاں تک ان کے امکان میں ہے وہ کریں۔ وہ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مولوی صاحب مصوف یا ان کے رفقا کو جو کلام الٰہی اورمسلمانوں کے دیگر لٹریچر پر عبور رکھتے ہیں اس طر ف توجہ کرنی چاہیے۔ میں اور مجھ ایسے اور لوگ صرف ایک آنکھ رکھتے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے بالآخر تہیہ کر لیا کہ وہ ایک کتاب لکھیں جس میں حقائق قرآنیہ سے بحث ہو اور اس احتیاط کا یہ عالم ہے کہ اس کا عنوان اسلام میری نظر میں قرار دیا ہے:&lt;br /&gt;
’’اس عنوان سے مقصود یہ ہے  کہ کتاب کا مضمون میری ذاتی رائے تصور کیا جائے جو ممکن ہے غلط ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
اس کتاب کے متعلق اپنی عمر کے آخری ایام میں انہوںنے سید راس مسعود کو لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’تمنا ہے کہ مرنے سے پہلے قرآن کریم سے متعلق اپنے افکار قلم بند کر جائوںاور جو تھوڑی سی ہمت و طاقت مجھ میں موجود ہے اسے اسی خدمت کے لیے وقف کر دینا چاہتا ہوں‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید راس مسعود ہی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس طرح میرے لیے ممکن ہو سکتا تھا کہ میں قرآن کریم پر عہد حاضر کے افکار کی روشنی میںاپنے وہ نوٹ تیار کر لیتا جو عرصہ سے میرے زیر غور ہیں لیکن اب تو نہ معلوم کیوں ایسامحسوس ہوتا ہے کہ میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ اگر مجھے حیات مستعار کی بقیہ گھڑیاں وقف کر دینے کا سامان میسر آ جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کے ان نوٹوں سے بہتر میں کوئی پیشکش مسلمانان عالم کو نہیں دے سکتا‘‘۔&lt;br /&gt;
غیر اسلامی تصوف پر علامہ کے خیالات کسی دوسری جگہ موجود ہیں۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ تصوف کا وجود ہی سرزمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’خواجہ نقشبند اور مجدد سرہند کی میرے دل میں بہت بڑی عزت ہے مگر افسوس کہ آ ج یہ سلسلہ بھی عجمیت کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ یہی حال سلسلہ قادریہ کا ہے جس میں میں خود بیعت رکھتا ہوں حالانکہ حضرت محی الدین کا مقصود اسلامی تصوف کو عجمیت سے پاک کرنا تھا‘‘۔&lt;br /&gt;
سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’امریکہ کے ایک مصنف کی کتاب میںلکھا ہے کہ اجماع امت نص قرآنی منسوخ کر سکتاہے یعنی یہ کہ مثلاً مدت شیر خوارگی کی نص صڑیح کی رو سے دو سال ہے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے… مصنف نے لکھا ہے کہ بعض حنفاء اور معتزلیوں کے نزدیک اجماع امت یہ اخیتار رکھتا ہے کہ مگر اس نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ آپ سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ آیا مسلمانوں کے فقہی لٹریچر میں کوئی ایسا حوالہ موجود ہے… دریافت طلب امر یہ ہے کہ کوئی حکم ایسا بھی ہے کہ جو صحابہؓ نے نص قرآنی کے خلاف نافذ کیا ہو اور وہ کون سا حکم ہے‘‘&lt;br /&gt;
’’آیہ توریث میں حصص بھی ازلی و ابدی ہیں یا قاعدہ توریث میں جو اصول مضمر ہے صرف وہی ناقابل تبدیل ہے اور حصص میں حالات کے مطابق تبدیلی ہو سکتی ہے ؟ کیا روسی مسلمانوں میں بھی ابن تیممہ اور محمد عبدالوہاب نجدی کے حالات کی اشاعت ہوئی تھی؟… مفتی عالم جان جن کا حال میں انتقال ہو گیا ہے ان کی تحریک کی اصلی غایت کیا تھی؟ کیایہ محض تعلیمی تحریک تھی یا اس کامقصود ایک مذہبی انقلاب بھی تھا؟‘‘&lt;br /&gt;
اس وقت آئین پاکستان پر بحث مباحثہ جاری ہے۔ مذہبی مسئلہ میں امام کے اختیارات کی نوعیت پر بحث کرتے ہوئے علامہ اقبال سید سلیمان ندوی سے دریافت فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’زمانہ حال کی زبان میں یوںکہیے کہ آیا اسلامی کانسٹی ٹیوشن ان (امام) کو ایسا اختیار دیتی ہے امام ایک شخص واح د ہے یا جماعت بھی امام کے قائم مقا م ہو سکتیہے ۔۔ ؟ ہر اسلامی ملک کے لیے اپنا امام ہو یا تمام اسلامی ممالک کے لیے ایک واحد امام ہو؟ موخر الذکر صورت سے موجودہ فرق اسلامیہ کی موجودگی میں کیونکر بروئے کار آ سکتی ہے؟ مہربانی کر کے ان سوالات پر روشنی ڈالیے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی قسم کے بیسیوں سوالات ہیں جن کا حل تلاش کیاجا رہا ہے۔&lt;br /&gt;
                          &lt;br /&gt;
                              *[[ممالک اسلامیہ…فلسطین]]*&lt;br /&gt;
                                   *[[افغانستان]]*&lt;br /&gt;
                                    *[[کشمیر]]*&lt;br /&gt;
                               *[[دوسرے اسلامی ممالک]]*&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9&amp;diff=9506</id>
		<title>دوسرے اسلامی ممالک</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9&amp;diff=9506"/>
		<updated>2018-06-27T19:47:45Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے جنگ ہائے طرابلس اور بلقان میں ایک دلدوز نوا بلند کی اور جنگ اول کے بعد تحریک خلافت میں ایک حدتک خود شامل رہے اور ایک زمانہ شاہد ہے کہ وہ ترکوںکی مصیبت جو جنگ اول کے بعد ان پر نازل ہوئی خود روئے اور دوسروں کو رلایا لیکن ان کا دل ہمیشہ امید سے معمور رہتا تھا۔ انہوںنے فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
۱۹۲۹ء میں ان کا ارادہ اسلامی ممالک کی سیاحت کرنا تھا۔ مولوی محمد جمیل صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اب باوجودمالی مشکلات کے ایران و ترکی کے سفر کی تیاری میں مصرو ف ہوں۔ خداوند تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ اور امید رکھتا ہوں کہ اس سفر کے لیے جو میں محض اسلام اور مسلمانو ں کی بہتری اور بلندی کے لیے اختیار کر رہا ہوں زاد راہ میسر آ جائے گا‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن مالی مشکلات نے امید کی روشنی کو مدھم کر دیا دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں ترکی اور مصر کے سفر کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں جیسا کہ آپ جانتے ہیں زرمی طلبہ والا معاملہ ہے اور ہندوستان کے مسلمان امراء اسلام کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت و اہمیت سے قطعاً نا آشنا ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
غرض علامہ مرحوم سے جب اور جیسا میسر ہوا انہوںنے اسلامی ممالک کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا تعلیم یافتہ طبقہ میں ان کے کلام کی بدولت ہی اتحاد ممالک و ملل اسلامیہ کا ایک قومی جذبہ پایا جاتا ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9&amp;diff=9505</id>
		<title>دوسرے اسلامی ممالک</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9&amp;diff=9505"/>
		<updated>2018-06-27T19:47:28Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;diy dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے جنگ ہائے طرابلس اور بلقان میں ایک دلدوز نوا بلند کی اور جنگ اول کے بعد تحریک خلافت میں ایک حدتک خود شامل رہے اور ایک زمانہ شاہد ہے کہ وہ ترکوںکی مصیبت جو جنگ اول کے بعد ان پر نازل ہوئی خود روئے اور دوسروں کو رلایا لیکن ان کا دل ہمیشہ امید سے معمور رہتا تھا۔ انہوںنے فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
۱۹۲۹ء میں ان کا ارادہ اسلامی ممالک کی سیاحت کرنا تھا۔ مولوی محمد جمیل صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اب باوجودمالی مشکلات کے ایران و ترکی کے سفر کی تیاری میں مصرو ف ہوں۔ خداوند تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ اور امید رکھتا ہوں کہ اس سفر کے لیے جو میں محض اسلام اور مسلمانو ں کی بہتری اور بلندی کے لیے اختیار کر رہا ہوں زاد راہ میسر آ جائے گا‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن مالی مشکلات نے امید کی روشنی کو مدھم کر دیا دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں ترکی اور مصر کے سفر کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں جیسا کہ آپ جانتے ہیں زرمی طلبہ والا معاملہ ہے اور ہندوستان کے مسلمان امراء اسلام کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت و اہمیت سے قطعاً نا آشنا ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
غرض علامہ مرحوم سے جب اور جیسا میسر ہوا انہوںنے اسلامی ممالک کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا تعلیم یافتہ طبقہ میں ان کے کلام کی بدولت ہی اتحاد ممالک و ملل اسلامیہ کا ایک قومی جذبہ پایا جاتا ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9&amp;diff=9504</id>
		<title>دوسرے اسلامی ممالک</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9&amp;diff=9504"/>
		<updated>2018-06-27T19:47:06Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;diy dir=&amp;quot;rtl&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے جنگ ہائے طرابلس اور بلقان میں ایک دلدوز نوا بلند کی اور جنگ اول کے بعد تحریک خلافت میں ایک حدتک خود شامل رہے اور ایک زمانہ شاہد ہے کہ وہ ترکوںکی مصیبت جو جنگ اول کے بعد ان پر نازل ہوئی خود روئے اور دوسروں کو رلایا لیکن ان کا دل ہمیشہ امید سے معمور رہتا تھا۔ انہوںنے فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
۱۹۲۹ء میں ان کا ارادہ اسلامی ممالک کی سیاحت کرنا تھا۔ مولوی محمد جمیل صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اب باوجودمالی مشکلات کے ایران و ترکی کے سفر کی تیاری میں مصرو ف ہوں۔ خداوند تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ اور امید رکھتا ہوں کہ اس سفر کے لیے جو میں محض اسلام اور مسلمانو ں کی بہتری اور بلندی کے لیے اختیار کر رہا ہوں زاد راہ میسر آ جائے گا‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن مالی مشکلات نے امید کی روشنی کو مدھم کر دیا دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں ترکی اور مصر کے سفر کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں جیسا کہ آپ جانتے ہیں زرمی طلبہ والا معاملہ ہے اور ہندوستان کے مسلمان امراء اسلام کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت و اہمیت سے قطعاً نا آشنا ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
غرض علامہ مرحوم سے جب اور جیسا میسر ہوا انہوںنے اسلامی ممالک کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا تعلیم یافتہ طبقہ میں ان کے کلام کی بدولت ہی اتحاد ممالک و ملل اسلامیہ کا ایک قومی جذبہ پایا جاتا ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9&amp;diff=9501</id>
		<title>دوسرے اسلامی ممالک</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%92_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9&amp;diff=9501"/>
		<updated>2018-06-27T19:46:40Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;diy dir=&amp;quot;rtl&amp;gt; حضرت علامہ نے جنگ ہائے طرابلس اور بلقان میں ایک دلدوز نوا بلند کی اور جنگ اول کے بعد تحری...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;diy dir=&amp;quot;rtl&amp;gt;&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے جنگ ہائے طرابلس اور بلقان میں ایک دلدوز نوا بلند کی اور جنگ اول کے بعد تحریک خلافت میں ایک حدتک خود شامل رہے اور ایک زمانہ شاہد ہے کہ وہ ترکوںکی مصیبت جو جنگ اول کے بعد ان پر نازل ہوئی خود روئے اور دوسروں کو رلایا لیکن ان کا دل ہمیشہ امید سے معمور رہتا تھا۔ انہوںنے فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
۱۹۲۹ء میں ان کا ارادہ اسلامی ممالک کی سیاحت کرنا تھا۔ مولوی محمد جمیل صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اب باوجودمالی مشکلات کے ایران و ترکی کے سفر کی تیاری میں مصرو ف ہوں۔ خداوند تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ اور امید رکھتا ہوں کہ اس سفر کے لیے جو میں محض اسلام اور مسلمانو ں کی بہتری اور بلندی کے لیے اختیار کر رہا ہوں زاد راہ میسر آ جائے گا‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن مالی مشکلات نے امید کی روشنی کو مدھم کر دیا دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں ترکی اور مصر کے سفر کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں جیسا کہ آپ جانتے ہیں زرمی طلبہ والا معاملہ ہے اور ہندوستان کے مسلمان امراء اسلام کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت و اہمیت سے قطعاً نا آشنا ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
غرض علامہ مرحوم سے جب اور جیسا میسر ہوا انہوںنے اسلامی ممالک کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا تعلیم یافتہ طبقہ میں ان کے کلام کی بدولت ہی اتحاد ممالک و ملل اسلامیہ کا ایک قومی جذبہ پایا جاتا ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9498</id>
		<title>ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے احساس خطر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9498"/>
		<updated>2018-06-27T19:40:23Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہندوستان میں علامہ کو اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق بہت بڑا خطرہ نطر آتا تھا۔ جس کے انسداد کی بعض ایسی کوششیں ان مکاتیب سے ملت کے سامنے آتی ہیں جو آج تک سب کی نظر سے پوشیدہ تھیںَ مسلمانوں اور اسلام کے لیے خطرہ ان کو ہندوستان کی تحریک قومیت اور مسلمانوں کی بے حسی اور بے راہ روی کی وجہ سے تھا۔ اشاعت اسلام کے لیے ان کے دل میں ایک تڑپ تھی۔ میر غلام بھیک صاحب نیرنگ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پرمقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس کا عنصر نہیں جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتاہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں علیٰ درجہ البصیرت یہ کہتا ہوںاور سیاسیات حاضرہ کے تھوڑے سے تجربے کے بعد کہ ہندوستان کی سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرہ عظیم ہے۔ میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرہ کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا یا کم از کم شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس روشن ضمری اور عاقبت بینی آج کون صاحب نظر داد نہ دے گا۔ مخدوم میراں شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت ہمت اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشر و اشاعت میں صرف کریں۔ اس تاریک زمانے میں حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے… افسوس شمال مغربی ہندوستان میں جن لوگوں نے عالم اسلام بلند کیا ان کی اولادیں دنیوی جاہ و منصب کے پیچھے پڑ کر تباہ ہو گئیں اور آج ان سے زیادہ جاہل کوئی مسلمان مشکل سے ملے گا الا ماشاء اللہ!‘‘&lt;br /&gt;
منشی صالح محمد صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اسلام پر ایک بڑا نازک وقت ہندوستان میں آ رہا ہے۔ سیاسی حقوق اور ملی تمدن کا تحفظ ایک طرف خود اسلام کی ہستی معرض خطر میں ہے۔ میں ایک مدت سے ا س مسئلہ پر غور کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ مسلمانوں کے لیے مقدم ہے کہ ایک بڑا نیشنل فنڈ قائم کریں جو ایک ٹرسٹ کی صورت میں ہوا اور اس کا روپیہ مسلمانوں کے تمدن اور ان کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور ان کی دینی اشاعت وغیرہ پر خرچ کیا جائے۔ اسی طرح ان کے اخبارات کی حالت درست کی جائے اور وہ تمام وسائل اختیار کیے جائیں جو زمانہ حال میں اقوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں…‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’مسلمانوں کی مختلف مقامات میں دینی اور سیاسی اعتبار سے تنظیم کی جائے قومی عساکر بنائے جائیں اور ان تمام وسائل سے اسلام کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اس کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
عام مسلمانوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ا س حالت زار اور ان کے لیے خطرہ عظیم کے عدم احساس کا ماتم اور اس خطرے کی نوعیت کو یوں واضح فرمایا ہے:&lt;br /&gt;
’’میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے مسلمانوں کو ابھی تک اس اک احساس نہیں کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس ملک ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اور اگر وقت پر موجودہ حالت کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی تو مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل اس ملک میں کیا ہو جائے گا۔ آئندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور پھیل اقوام کی طرح ہو جائے۔ اور رفتہ رفتہ ان کا دین اور کلچر اس ملک میں فنا ہوجائے اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لیے مجھے اپنے تمام کام چھوڑنے پڑے تو انشاء اللہ چھوڑ دوں گا۔ او ر اپنی زندگی کے باقی ایام اس مقصد جلیل کے لیے وقف کر دوں گا… ہم لوگ قیامت کے روز خدا اور رسولؐ کے سامنے جواب دہ ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کے انحطاط کے اسباب اورملت ہندیہ کے احیائے جدید کی تدابیر پر ہمیشہ نظر رہتی تھی۔ مسلمانان ہند کے انحطاط کا ایک سبب ان میں تنظیم اور یک جہتی و ہم آہنگی کا فقدان ہے ۱۹۳۳ء میں شیخ عبداللہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم آہنگی ایک ایسی چیز ہے کہ جو تمام سیاسی اور تمدنی مشکلات کا علاج ہے ہندی مسلمانوںکے کام اب تک محض اس وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں کہ یہ قوم ہم آہنگ نہ ہو سکی۔ اس کے افراد بالخصوص علماء اوروں کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنے رہے بلکہ اس وقت ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کو خود متحد ہو کر ہمت کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور انہیں دوسروں کی عیاری سے ہوشیار رہنے کی تلقین کے سلسلہ میں سید سلیمان ندوی کو تحریک خلافت کے زمانے میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مدت سے یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ تاثر ایک چھوٹی سی تضمین کی صورت میں منتقل ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں آپ کا اس بارہ میںکیا خیال ہے۔ واقعات صاف اور نمایاں ہیں مگرہندوستان کے سادہ لوح مسلمان نہیں سمجھتے اور لندن کے شیعوں کے اشارے پر ناچتے چلے جاتے ہیں افسوس مفصل عرض نہیں کر سکتا کہ زمانہ نازک ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہت آزمایا ہے غیروں کو تو نے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مگر آج ہے وقت خویش آزمائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مراد از شکستن چناں عار ناید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ از دیگراں خواستن مومیائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اصل شعر میں دیگراں کی جگہ ناکساں ہے میں نے یہ لفظی تغیر ارادۃً کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
یہ نہ سمجھیے کہ اقبال کی نظر صرف ننگ اسلام علماء ہی کے گناہوں پر تھی انگریزی خواں طبقے کے وہ لوگ جو ذاتی نفع کی خاطر ملت فروشی پر مائل اور اس طرح ملت میں انتشار کا باعث ہوتے تھے ان کی سیاہ کاریوں سے بھی علامہ کو بے حد قلق تھا۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں خود مسلمانوں کے انتشار سے بے حد درد مند ہوں اور گزشتہ چار پانچ سال کے تجربہ سے مجھے بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ پست فطرت ہے&lt;br /&gt;
                               *[[فتنہ قومیت و وطنیت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''مذہب سے دلچسپی اور فقہ اسلامی کی تشکیل جدید'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال غلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ع عاشق دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ زمانے کی نبض پر ان کا ہاتھ تھا۔ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط پر ان کا دل دکھتا تھا۔ مخالف قوتوں کے زور و اثر کو دیکھتے تھے اسباب انحطاط او رمشکلات کے مقابلہ کی صورتیں ان کے ذہن میں تھیں۔ کبھی ہماری بے حسی پر ان کا دل بیٹھ جاتاتھا  کبھی نامساعد زمانہ سے اسلام کے لیے جنگ آزمائی کا عزم ہوتا تھا اور اسلام کی فتح اور مسلمانوں کی کامرانی کے یقین پر ان کی زندگی موقوف تھی۔ مکاتیب کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے لیکن یاد رہے کہ اقبال کی نگاہ میں مذہب او رسیاست کی علیحدگی جائز نہ تھی۔ جہاں وہ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط سے نالاں تھے وہاں ان کے سیاسی تنزل کا ماتم بھی جاری تھا جہاں دوستوں کو مذہب اسلام کے مسائل کی طرف متوجہ کرتے اور دنیا کے موجودہ رجحانات کے پیش نظر تعلیمات اسلامی کی بلندی کی دنیا میں تلقین کی تدابیر پیش کرتے تھے وہاں ممالک اسلامیہ کی سیاسی شیرازہ بندی اور استحکام کو ان کے لیے زندگی اور آبرو کا راز جانتے اور مانتے تھے اور جب اور جہاں جس طرح ممکن ہو ا ان ممالک کی خدمت کرتے تھے ان کی سب سے بڑی خدمت مسلمانوں کو اس مذہبی و سیاسی خدمت کی طرف متوجہ کرنا تھا اوران دونوں قسم کی خدمات میں ان کا حصہ رہنمایانہ تھا۔ سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ممالک اسلامیہ کے موجودہ حالات دیکھ کر بے انتہا اضطراب پیدا ہو رہاہے۔ ذاتی لحاظ سے خدا کے فضل وکرم سے میرا دل پورا مطمئن ہے۔ یہ بے چینی اور اضطراب محض اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل گھبر اکر کوئی دوسری راہ نہ اختیار کر لے۔ حال ہی میں ایک تعلیم یافتہ عرب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ فرانسیسی خوب بولتا تھا۔ مگر اسلام سے قطعاً بے خبر تھا۔ اس قسم کے واقعات مشاہدہ میں آتے ہیں تو سخت تکلیف ہوتی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی انحطاط کی علت ہندوستان میں تعلیم کا سراسر غیر مذہبی ہوجانا اور عربی زبان سے ناواقفیت بتائی گئی ہے۔ نیاز احمد خاں کو ۱۹۳۱ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مذہبی مسائل بالخصوص اسلامی مذہبی مسائل کے فہم کے لیے ایک خاص ترتیب کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں کی نئی پود اس سے باکل کوری ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تعلیم کا تمام تر غیر دینی ہو جانا اس مصیبت کا باعث ہوا ہے۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوست کوجو ہندوستان سے باہر گئے ہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’عربی سیکھنے کا موقع ہے خوب سیکھیے مگر مجھے اندیشہ ہے کہ عربی دانی سے آپ کی دلچسپی جو اب آپ کو فارسی لٹریچر سے ہے کم ہو جائے گی۔ کوئی آدمی عربی زبان کے چارم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے طالب علمی کے زمانے میں خاصی عربی سیکھ لی تھی مگر بعد میں اورمشاغل کی وجہ سے اس کا مطالعہ چھوٹ گیا تاہم مجھے اس زبان کی عظمت کا صحیح اندازہ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے دوست کو ۱۹۱۶ء میںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہندی مسلمانوں کی بڑی بدبختی یہ ہے کہ اس ملک سے عربی زبان کا علم اٹھ گیا ہے اورقرآن کی تفسیر میں محاورہ عرب سے بالکل کام نہیں لیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قناعت و توکل کے وہ معنی لیے جاتے ہیں جو عربی زبان میں ہرگز نہیں…اس طرح ان لوگوں نے نہایت بے دردی سے قرآن اور اسلام میں ہندی اور یونانی تخیلات داخل کر دیے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
مسلمانوں کی زبوں حالی اور بداعمالی اور ان کے مستقبل کی فکر دین و ملت کے دو خادموں کو رلاتی ہے۔ اور وہ ایک دوسرے کی تائید و اعانت کرتے اور ہمت بندھاتے ہیں سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا اس وقت ایک روحانی پیکار میںمصروف ہے۔ اس پیکار و انقلاب کا رخ معین کرنے والے قلوب و اذہان پر شک و ناامیدی کی حالت کبھی کبھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آ پ کا قلب قوی اور ذہن ہمہ گیر ہے۔ آپ اس حالت سے جلد نکل آئیں گے … آپ اس جماعت کا پیش خیمہ ہیں … اس جماعت کا دنیا میں عنقریب پیدا ہونا قطعی اور یقینی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی پستی اورناواقفیت کا فوری علاج بھی بتایا جا رہا ہے اور مذہبی شوق کے پیدا کرنے اور اسلام کی برتری دنیا پر واضح و ثابت کرنے کا مستقل نسخہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ مولانا عبدالماجد کو ۱۹۲۹ء میں مسلم یونیورسٹی کے نئے دور کا مطالعہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ علی گڑھ جا کر مذہبیی مضامین پر طلبہ سے گفتگوئیں کیا کریں تو نتائج بہت اچھے ہوں گے۔ باوجود بہت سی مخالف قوتوں کے جو ہندوستان میں مذہب کے خلاف (اور بالخصوص اسلام کے خلاف) ا س وقت عمل کر رہی ہیں مسلمان جوانوں کے دل میں اسلام کے لیے تڑپ ہے لیکن کوئی آدمی ہم میں نہیں کہ جس کی زندگی قلوب پر موثر ہو…‘‘&lt;br /&gt;
’’اسلام کے لیے اس ملک میں نازک وقت آ رہا ہے جن لوگوں کو کچھ احساس ہے ان کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش اس ملک میںکریں… علماء میں مداہنت آ گئی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’افسوس کہ زمانہ حال کے اسلامی فقہا یا تو زمانہ کے میلان طبیعت سے بالکل بے خبر ہیں یا قدامت پرستی میں مبتلا ہیں… ہندوستان میںعام حنفی اس بات کے قائل ہیں کہ اجتہاد کے تمام دروازے بند ہیں… میری رائے ناقص میں مذہب اسلام گویا زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے اور شاید تاریخ اسلام پر ایسا وقت اس سے پہلے نہیں آیا۔ ‘‘&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے فکر اسلامی کی تجدید و طرح نو کے لیے بہت کوشش فرمائی اور طرح طرح کے مسائل کی طرف خود بھی توجہ کی اور علماء کو بھی متوجہ کیا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ فقہ اسلامی پر نئے سرے سے کتابیں لکھی جائیں۔ ایک دوست کو ایک عالم دین کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کیا اچھا ہو کہ وہ شریف محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مبسوط کتاب تحریر فرما دیں جس میں عبادات و معالات کے متعلق صرف قرآن سے استدلال کیا گیا ہو معاملات کے متعلق خاص طور پر اس قسم کی کتاب کی آج کل شدید ضڑورت ہے… اس پر ایک آدھ کتاب بھی تصنیف ہو چکی ہے ۔ اس سے زیادہ تر زمانہ حال کے مغربی اصول فقہ کو ملحوظ رکھ کر فقہ اسلامی پر بحث کی گئی ہے… ایک مدت سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ قرآن کامل کتاب ہے اور خود اپنے کمال کا مدعی ہے…لیکن ضرورت اس امر کی ہے ہ اس کے کمال کو عملی طور پر ثابت کیا جائے کہ سیاسیات انسانی کے لیے تمام ضروری قواعد موجود ہیں اوراسمیںفلاں فلاں آیات سے فلاں فلاں قواعد کا استخراج ہوتاہے نیز جو جو قواعد عبادات یا معاملات کے متعلق (بالخصوص موخر الذکر کے متعلق ) دیگر اقوا م میں اس وقت مروج ہیں ان پر قرآن نقطہ نگاہ سے تنقید کی جائے اور دکھایا جائے کہ وہ بالکل ناقص ہیں اور ان پر عمل کرنے سے نوع انسانی کبھی سیاست سے بہرہ اندوز نہیں ہو سکتی۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے جورس پروڈنس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا وہی اسلام کا مجدد ہو گا اوربنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم وہی شخص ہو گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال اس صورت حال کا مقابلہ علماء اسلام کی ایک جماعت تیار کرکے کرنا چاہتے تھے۔ اس جماعت کی تعلیم و تربیت کے لیے کس پایہ اور کن اوصاف کے اساتذہ کی ضرورت سمجھتے  تھے۔ اس کا اندازہ شیخ جامعہ ازہر کے نا م تحریک داراسلام سے متعلق ان کا مکتوب لائق توجہ ہے ۔ فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم ان کے لیے ایک لائبریری قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر قسم کی نئی اور پرانی کتابیں موجود ہوں۔ اور ان کی رہنمائی کے لیے ہم ایک ایسا معلم جو کامل اور صالح ہو اور قرآن حکیم میں بصارت تامہ رکھتا ہو ور نیز انقلا ب دو رحاضرہ سے بھی واقف ہو مقرر کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کو کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سے واقف کرے اور تفکر اسلامی کی تجدید یعنی فلسفہ حکمت اقتصادیات اور سیاسیات کے علوم میںان کی مدد کرے تاکہ وہ اپنے علم اور تحریروں کے ذریعے تمدن اسلامی کے دوبارہ زندہ کرنے میں جہاد کر سکیں‘‘۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''کن کن مذہبی مسائل پر توجہ تھی'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر اقبال کی نظر حال و مستقبل دونوں پر تھی۔ دین اسلام کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر جن مسائل سے واسطہ پڑا ہے یا پڑے گا ا س کااندازہ علامہ مرحوم کو تھا اور وہ چاہتے تھے کہ سوچتے تھے دوستوں سے پوچھتے تھے اور خود تلاش کرتے تھے اس سلسلہ میں صرف ان مسائل کی طرف محض اشارات پر اکتفا کرتا ہوں جن سے انہیں دلچسپی تھی سید سلیمان ندوی کو ۱۹۳۴ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا عجب کشمکش میں ہے جمہوریت فنا ہو رہی ہے اور اس کی جگہ ڈکٹیٹر شپ قائم ہو رہی ہے ۔ جرمنی میں مادی قوت کی پرستش کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ سرمایہ دار کے خلاف ایک جہاد عظیم ہو رہاہے ۔ تہذیب و تمدن (بالخصوص یورپ) بھی حالت نزع میں ہے۔ غرض کہ نظام عالم ایک نئی تشکیل کا محتاج ہے۔ ان حالات میں آپ کے خیال میں اسلام اس جدید تشکیل کا کہاں تک ممد ہو سکتا ہے اس بحث پر اپنے خیالات سے مستفیض فرمائیے۔ اگر کوئی کتابیں ایسی ہوں جن کا مطالعہ اس ضمن میں مفید ہو تو ان کے نامو ں سے آگاہ فرمائیے‘‘۔&lt;br /&gt;
سید صاحب ہی سے دریافت کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’احکام منصوصہ میں توسیع اختیارات امام کے اصول کیا ہیں؟ اگر امام توسیع کر سکتا ہے تو کیا ان کے عمل کو بھی محدود کر سکتا ہے؟ اسکی کوئی تاریخی مثال ہو تو واضح فرمائیے!‘‘&lt;br /&gt;
’’زمین کا مالک قرآن کے نزدیک کون ہے؟  اسلامی فقہا کا مذہب اس بارے میں کیا ہے؟ اگر کوئی اسلامی ملک (روس کی طرح) زمین کو حکومت کی ملکیت قرار دے تو کیا یہ بات شرع اسلامی کے موافق ہو گی یا مخالف؟ اس مسئلہ کا سیاست اور اجتماع معاشر ت سے گہرا تعلق ہے کیایہ بات رائے امام کے سپرد ہو گی؟ &lt;br /&gt;
اس ضمن میں علامہ کا یہ سوال کہ کیا جماعت امام کی قام مقام ہو سکتی ہے مدنظر رہنا چاہیے۔&lt;br /&gt;
’’امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک طلاق یا خاوند کی موت کے دو سال بعد بھی اگر بچہ پیدا ہو تو اس بچہ کے ولد الحرام ہونے پر نہیںکیا جا سکتا۔ اس مسئلہ کی اساس کیا ہے؟ کیا یہ اصول محض ایک قائدہ شہادت ہے یا جزو قانون ہے؟ اس سوال کے پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ مروجہ ایکٹ شہادت کی رو سے تمام وہ قواعدشہادت جو اس ایکٹ کے نفاذ سے پہلے ملک میں مروج تھے منسوخ کیے گئے ہیںَ ہندوستان کی عدالتوں نے مذکورہ بالا اصول کو قاعدہ شہادت قرا ر دے کر منسوخ کردیا ہے۔ نتیجہ اس بات کابعض مقامات میں یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان بچہ جو فقہ اسلامی کی رو سے ولد الحلال ہے ایکٹ شہادت کی رو سے ولد الحرام قرار دیا جاتا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبا ل کو اعتراف ہے:&lt;br /&gt;
’’میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔ البتہ فرصت کے اوقات میں میںاس بات کی کوشش کیا کرتا ہوں کہ ان معلومات میں اضافہ ہو۔ یہ بات زیادہ تر ذاتی اطمینان کے لیے ہے نہ کہ تعلیم و تعلم کی غرض سے‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال مجبور ہیں کہ مسلمانوں کی مذہبی بیداری اور اسلام کی حقیقی تعلیم کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر دوسرے ضابطہ ہائے حیات سے بہتتر اور ابدی ثابت کرنے کے لیے جو کوشش ضروری ہے جہاں تک ان کے امکان میں ہے وہ کریں۔ وہ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مولوی صاحب مصوف یا ان کے رفقا کو جو کلام الٰہی اورمسلمانوں کے دیگر لٹریچر پر عبور رکھتے ہیں اس طر ف توجہ کرنی چاہیے۔ میں اور مجھ ایسے اور لوگ صرف ایک آنکھ رکھتے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے بالآخر تہیہ کر لیا کہ وہ ایک کتاب لکھیں جس میں حقائق قرآنیہ سے بحث ہو اور اس احتیاط کا یہ عالم ہے کہ اس کا عنوان اسلام میری نظر میں قرار دیا ہے:&lt;br /&gt;
’’اس عنوان سے مقصود یہ ہے  کہ کتاب کا مضمون میری ذاتی رائے تصور کیا جائے جو ممکن ہے غلط ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
اس کتاب کے متعلق اپنی عمر کے آخری ایام میں انہوںنے سید راس مسعود کو لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’تمنا ہے کہ مرنے سے پہلے قرآن کریم سے متعلق اپنے افکار قلم بند کر جائوںاور جو تھوڑی سی ہمت و طاقت مجھ میں موجود ہے اسے اسی خدمت کے لیے وقف کر دینا چاہتا ہوں‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید راس مسعود ہی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس طرح میرے لیے ممکن ہو سکتا تھا کہ میں قرآن کریم پر عہد حاضر کے افکار کی روشنی میںاپنے وہ نوٹ تیار کر لیتا جو عرصہ سے میرے زیر غور ہیں لیکن اب تو نہ معلوم کیوں ایسامحسوس ہوتا ہے کہ میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ اگر مجھے حیات مستعار کی بقیہ گھڑیاں وقف کر دینے کا سامان میسر آ جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کے ان نوٹوں سے بہتر میں کوئی پیشکش مسلمانان عالم کو نہیں دے سکتا‘‘۔&lt;br /&gt;
غیر اسلامی تصوف پر علامہ کے خیالات کسی دوسری جگہ موجود ہیں۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ تصوف کا وجود ہی سرزمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’خواجہ نقشبند اور مجدد سرہند کی میرے دل میں بہت بڑی عزت ہے مگر افسوس کہ آ ج یہ سلسلہ بھی عجمیت کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ یہی حال سلسلہ قادریہ کا ہے جس میں میں خود بیعت رکھتا ہوں حالانکہ حضرت محی الدین کا مقصود اسلامی تصوف کو عجمیت سے پاک کرنا تھا‘‘۔&lt;br /&gt;
سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’امریکہ کے ایک مصنف کی کتاب میںلکھا ہے کہ اجماع امت نص قرآنی منسوخ کر سکتاہے یعنی یہ کہ مثلاً مدت شیر خوارگی کی نص صڑیح کی رو سے دو سال ہے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے… مصنف نے لکھا ہے کہ بعض حنفاء اور معتزلیوں کے نزدیک اجماع امت یہ اخیتار رکھتا ہے کہ مگر اس نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ آپ سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ آیا مسلمانوں کے فقہی لٹریچر میں کوئی ایسا حوالہ موجود ہے… دریافت طلب امر یہ ہے کہ کوئی حکم ایسا بھی ہے کہ جو صحابہؓ نے نص قرآنی کے خلاف نافذ کیا ہو اور وہ کون سا حکم ہے‘‘&lt;br /&gt;
’’آیہ توریث میں حصص بھی ازلی و ابدی ہیں یا قاعدہ توریث میں جو اصول مضمر ہے صرف وہی ناقابل تبدیل ہے اور حصص میں حالات کے مطابق تبدیلی ہو سکتی ہے ؟ کیا روسی مسلمانوں میں بھی ابن تیممہ اور محمد عبدالوہاب نجدی کے حالات کی اشاعت ہوئی تھی؟… مفتی عالم جان جن کا حال میں انتقال ہو گیا ہے ان کی تحریک کی اصلی غایت کیا تھی؟ کیایہ محض تعلیمی تحریک تھی یا اس کامقصود ایک مذہبی انقلاب بھی تھا؟‘‘&lt;br /&gt;
اس وقت آئین پاکستان پر بحث مباحثہ جاری ہے۔ مذہبی مسئلہ میں امام کے اختیارات کی نوعیت پر بحث کرتے ہوئے علامہ اقبال سید سلیمان ندوی سے دریافت فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’زمانہ حال کی زبان میں یوںکہیے کہ آیا اسلامی کانسٹی ٹیوشن ان (امام) کو ایسا اختیار دیتی ہے امام ایک شخص واح د ہے یا جماعت بھی امام کے قائم مقا م ہو سکتیہے ۔۔ ؟ ہر اسلامی ملک کے لیے اپنا امام ہو یا تمام اسلامی ممالک کے لیے ایک واحد امام ہو؟ موخر الذکر صورت سے موجودہ فرق اسلامیہ کی موجودگی میں کیونکر بروئے کار آ سکتی ہے؟ مہربانی کر کے ان سوالات پر روشنی ڈالیے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی قسم کے بیسیوں سوالات ہیں جن کا حل تلاش کیاجا رہا ہے۔&lt;br /&gt;
                          &lt;br /&gt;
                              *[[ممالک اسلامیہ…فلسطین]]*&lt;br /&gt;
                                   *[[افغانستان]]*&lt;br /&gt;
                                    *[[کشمیر]]*&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1&amp;diff=9496</id>
		<title>کشمیر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1&amp;diff=9496"/>
		<updated>2018-06-27T19:39:16Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;  تنم گلے از خیابان جنت کشمیر   کہنے والے اقبال نے:   دل از حریم حجاز و نواز شیراز است  کہہ ک...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تنم گلے از خیابان جنت کشمیر&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
کہنے والے اقبال نے:&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
دل از حریم حجاز و نواز شیراز است&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہہ کر اپنے جسم و روح کے تعلق اور نسبت کوواضح کر دیاھتا۔ جب تن کو ایذاپہنچی تو دل متاثر ہوا۔ کشمیر میں جب مسلمانوں پر سخت مصیبت نازل ہوئی اور حکومت نے انہیں قید و بند میں ڈالنا شروع کیا تو اقبال نے انہیں یک جہتی کاپیغام دیا۔ اسیران قید و بند کے لے پٹنہ سے نعیم الحق صاحب بیرسٹر کی خدمات بطور وکیل حاصل کیں۔ لاہور سے وکیل ان کی مدد کو بھیجے اور کشمیریوں کی حالت زار پر اپنے کلام میں بڑا ماتم کیا۔ لیکن شاعر امید کی زبان پر یہ الفاظ بھی جاری ہوئے کہ  میجھے امید ہے کہ کشمیر کی قسمت عنقریب پانسہ پلٹنے والی ہے خدا کرے جلد علامہ مرحوم کی پیش گوئی پوری ہو!&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9494</id>
		<title>ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے احساس خطر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9494"/>
		<updated>2018-06-27T19:37:10Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہندوستان میں علامہ کو اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق بہت بڑا خطرہ نطر آتا تھا۔ جس کے انسداد کی بعض ایسی کوششیں ان مکاتیب سے ملت کے سامنے آتی ہیں جو آج تک سب کی نظر سے پوشیدہ تھیںَ مسلمانوں اور اسلام کے لیے خطرہ ان کو ہندوستان کی تحریک قومیت اور مسلمانوں کی بے حسی اور بے راہ روی کی وجہ سے تھا۔ اشاعت اسلام کے لیے ان کے دل میں ایک تڑپ تھی۔ میر غلام بھیک صاحب نیرنگ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پرمقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس کا عنصر نہیں جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتاہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں علیٰ درجہ البصیرت یہ کہتا ہوںاور سیاسیات حاضرہ کے تھوڑے سے تجربے کے بعد کہ ہندوستان کی سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرہ عظیم ہے۔ میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرہ کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا یا کم از کم شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس روشن ضمری اور عاقبت بینی آج کون صاحب نظر داد نہ دے گا۔ مخدوم میراں شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت ہمت اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشر و اشاعت میں صرف کریں۔ اس تاریک زمانے میں حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے… افسوس شمال مغربی ہندوستان میں جن لوگوں نے عالم اسلام بلند کیا ان کی اولادیں دنیوی جاہ و منصب کے پیچھے پڑ کر تباہ ہو گئیں اور آج ان سے زیادہ جاہل کوئی مسلمان مشکل سے ملے گا الا ماشاء اللہ!‘‘&lt;br /&gt;
منشی صالح محمد صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اسلام پر ایک بڑا نازک وقت ہندوستان میں آ رہا ہے۔ سیاسی حقوق اور ملی تمدن کا تحفظ ایک طرف خود اسلام کی ہستی معرض خطر میں ہے۔ میں ایک مدت سے ا س مسئلہ پر غور کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ مسلمانوں کے لیے مقدم ہے کہ ایک بڑا نیشنل فنڈ قائم کریں جو ایک ٹرسٹ کی صورت میں ہوا اور اس کا روپیہ مسلمانوں کے تمدن اور ان کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور ان کی دینی اشاعت وغیرہ پر خرچ کیا جائے۔ اسی طرح ان کے اخبارات کی حالت درست کی جائے اور وہ تمام وسائل اختیار کیے جائیں جو زمانہ حال میں اقوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں…‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’مسلمانوں کی مختلف مقامات میں دینی اور سیاسی اعتبار سے تنظیم کی جائے قومی عساکر بنائے جائیں اور ان تمام وسائل سے اسلام کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اس کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
عام مسلمانوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ا س حالت زار اور ان کے لیے خطرہ عظیم کے عدم احساس کا ماتم اور اس خطرے کی نوعیت کو یوں واضح فرمایا ہے:&lt;br /&gt;
’’میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے مسلمانوں کو ابھی تک اس اک احساس نہیں کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس ملک ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اور اگر وقت پر موجودہ حالت کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی تو مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل اس ملک میں کیا ہو جائے گا۔ آئندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور پھیل اقوام کی طرح ہو جائے۔ اور رفتہ رفتہ ان کا دین اور کلچر اس ملک میں فنا ہوجائے اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لیے مجھے اپنے تمام کام چھوڑنے پڑے تو انشاء اللہ چھوڑ دوں گا۔ او ر اپنی زندگی کے باقی ایام اس مقصد جلیل کے لیے وقف کر دوں گا… ہم لوگ قیامت کے روز خدا اور رسولؐ کے سامنے جواب دہ ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کے انحطاط کے اسباب اورملت ہندیہ کے احیائے جدید کی تدابیر پر ہمیشہ نظر رہتی تھی۔ مسلمانان ہند کے انحطاط کا ایک سبب ان میں تنظیم اور یک جہتی و ہم آہنگی کا فقدان ہے ۱۹۳۳ء میں شیخ عبداللہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم آہنگی ایک ایسی چیز ہے کہ جو تمام سیاسی اور تمدنی مشکلات کا علاج ہے ہندی مسلمانوںکے کام اب تک محض اس وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں کہ یہ قوم ہم آہنگ نہ ہو سکی۔ اس کے افراد بالخصوص علماء اوروں کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنے رہے بلکہ اس وقت ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کو خود متحد ہو کر ہمت کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور انہیں دوسروں کی عیاری سے ہوشیار رہنے کی تلقین کے سلسلہ میں سید سلیمان ندوی کو تحریک خلافت کے زمانے میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مدت سے یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ تاثر ایک چھوٹی سی تضمین کی صورت میں منتقل ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں آپ کا اس بارہ میںکیا خیال ہے۔ واقعات صاف اور نمایاں ہیں مگرہندوستان کے سادہ لوح مسلمان نہیں سمجھتے اور لندن کے شیعوں کے اشارے پر ناچتے چلے جاتے ہیں افسوس مفصل عرض نہیں کر سکتا کہ زمانہ نازک ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہت آزمایا ہے غیروں کو تو نے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مگر آج ہے وقت خویش آزمائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مراد از شکستن چناں عار ناید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ از دیگراں خواستن مومیائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اصل شعر میں دیگراں کی جگہ ناکساں ہے میں نے یہ لفظی تغیر ارادۃً کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
یہ نہ سمجھیے کہ اقبال کی نظر صرف ننگ اسلام علماء ہی کے گناہوں پر تھی انگریزی خواں طبقے کے وہ لوگ جو ذاتی نفع کی خاطر ملت فروشی پر مائل اور اس طرح ملت میں انتشار کا باعث ہوتے تھے ان کی سیاہ کاریوں سے بھی علامہ کو بے حد قلق تھا۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں خود مسلمانوں کے انتشار سے بے حد درد مند ہوں اور گزشتہ چار پانچ سال کے تجربہ سے مجھے بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ پست فطرت ہے&lt;br /&gt;
                               *[[فتنہ قومیت و وطنیت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''مذہب سے دلچسپی اور فقہ اسلامی کی تشکیل جدید'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال غلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ع عاشق دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ زمانے کی نبض پر ان کا ہاتھ تھا۔ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط پر ان کا دل دکھتا تھا۔ مخالف قوتوں کے زور و اثر کو دیکھتے تھے اسباب انحطاط او رمشکلات کے مقابلہ کی صورتیں ان کے ذہن میں تھیں۔ کبھی ہماری بے حسی پر ان کا دل بیٹھ جاتاتھا  کبھی نامساعد زمانہ سے اسلام کے لیے جنگ آزمائی کا عزم ہوتا تھا اور اسلام کی فتح اور مسلمانوں کی کامرانی کے یقین پر ان کی زندگی موقوف تھی۔ مکاتیب کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے لیکن یاد رہے کہ اقبال کی نگاہ میں مذہب او رسیاست کی علیحدگی جائز نہ تھی۔ جہاں وہ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط سے نالاں تھے وہاں ان کے سیاسی تنزل کا ماتم بھی جاری تھا جہاں دوستوں کو مذہب اسلام کے مسائل کی طرف متوجہ کرتے اور دنیا کے موجودہ رجحانات کے پیش نظر تعلیمات اسلامی کی بلندی کی دنیا میں تلقین کی تدابیر پیش کرتے تھے وہاں ممالک اسلامیہ کی سیاسی شیرازہ بندی اور استحکام کو ان کے لیے زندگی اور آبرو کا راز جانتے اور مانتے تھے اور جب اور جہاں جس طرح ممکن ہو ا ان ممالک کی خدمت کرتے تھے ان کی سب سے بڑی خدمت مسلمانوں کو اس مذہبی و سیاسی خدمت کی طرف متوجہ کرنا تھا اوران دونوں قسم کی خدمات میں ان کا حصہ رہنمایانہ تھا۔ سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ممالک اسلامیہ کے موجودہ حالات دیکھ کر بے انتہا اضطراب پیدا ہو رہاہے۔ ذاتی لحاظ سے خدا کے فضل وکرم سے میرا دل پورا مطمئن ہے۔ یہ بے چینی اور اضطراب محض اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل گھبر اکر کوئی دوسری راہ نہ اختیار کر لے۔ حال ہی میں ایک تعلیم یافتہ عرب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ فرانسیسی خوب بولتا تھا۔ مگر اسلام سے قطعاً بے خبر تھا۔ اس قسم کے واقعات مشاہدہ میں آتے ہیں تو سخت تکلیف ہوتی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی انحطاط کی علت ہندوستان میں تعلیم کا سراسر غیر مذہبی ہوجانا اور عربی زبان سے ناواقفیت بتائی گئی ہے۔ نیاز احمد خاں کو ۱۹۳۱ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مذہبی مسائل بالخصوص اسلامی مذہبی مسائل کے فہم کے لیے ایک خاص ترتیب کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں کی نئی پود اس سے باکل کوری ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تعلیم کا تمام تر غیر دینی ہو جانا اس مصیبت کا باعث ہوا ہے۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوست کوجو ہندوستان سے باہر گئے ہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’عربی سیکھنے کا موقع ہے خوب سیکھیے مگر مجھے اندیشہ ہے کہ عربی دانی سے آپ کی دلچسپی جو اب آپ کو فارسی لٹریچر سے ہے کم ہو جائے گی۔ کوئی آدمی عربی زبان کے چارم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے طالب علمی کے زمانے میں خاصی عربی سیکھ لی تھی مگر بعد میں اورمشاغل کی وجہ سے اس کا مطالعہ چھوٹ گیا تاہم مجھے اس زبان کی عظمت کا صحیح اندازہ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے دوست کو ۱۹۱۶ء میںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہندی مسلمانوں کی بڑی بدبختی یہ ہے کہ اس ملک سے عربی زبان کا علم اٹھ گیا ہے اورقرآن کی تفسیر میں محاورہ عرب سے بالکل کام نہیں لیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قناعت و توکل کے وہ معنی لیے جاتے ہیں جو عربی زبان میں ہرگز نہیں…اس طرح ان لوگوں نے نہایت بے دردی سے قرآن اور اسلام میں ہندی اور یونانی تخیلات داخل کر دیے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
مسلمانوں کی زبوں حالی اور بداعمالی اور ان کے مستقبل کی فکر دین و ملت کے دو خادموں کو رلاتی ہے۔ اور وہ ایک دوسرے کی تائید و اعانت کرتے اور ہمت بندھاتے ہیں سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا اس وقت ایک روحانی پیکار میںمصروف ہے۔ اس پیکار و انقلاب کا رخ معین کرنے والے قلوب و اذہان پر شک و ناامیدی کی حالت کبھی کبھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آ پ کا قلب قوی اور ذہن ہمہ گیر ہے۔ آپ اس حالت سے جلد نکل آئیں گے … آپ اس جماعت کا پیش خیمہ ہیں … اس جماعت کا دنیا میں عنقریب پیدا ہونا قطعی اور یقینی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی پستی اورناواقفیت کا فوری علاج بھی بتایا جا رہا ہے اور مذہبی شوق کے پیدا کرنے اور اسلام کی برتری دنیا پر واضح و ثابت کرنے کا مستقل نسخہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ مولانا عبدالماجد کو ۱۹۲۹ء میں مسلم یونیورسٹی کے نئے دور کا مطالعہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ علی گڑھ جا کر مذہبیی مضامین پر طلبہ سے گفتگوئیں کیا کریں تو نتائج بہت اچھے ہوں گے۔ باوجود بہت سی مخالف قوتوں کے جو ہندوستان میں مذہب کے خلاف (اور بالخصوص اسلام کے خلاف) ا س وقت عمل کر رہی ہیں مسلمان جوانوں کے دل میں اسلام کے لیے تڑپ ہے لیکن کوئی آدمی ہم میں نہیں کہ جس کی زندگی قلوب پر موثر ہو…‘‘&lt;br /&gt;
’’اسلام کے لیے اس ملک میں نازک وقت آ رہا ہے جن لوگوں کو کچھ احساس ہے ان کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش اس ملک میںکریں… علماء میں مداہنت آ گئی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’افسوس کہ زمانہ حال کے اسلامی فقہا یا تو زمانہ کے میلان طبیعت سے بالکل بے خبر ہیں یا قدامت پرستی میں مبتلا ہیں… ہندوستان میںعام حنفی اس بات کے قائل ہیں کہ اجتہاد کے تمام دروازے بند ہیں… میری رائے ناقص میں مذہب اسلام گویا زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے اور شاید تاریخ اسلام پر ایسا وقت اس سے پہلے نہیں آیا۔ ‘‘&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے فکر اسلامی کی تجدید و طرح نو کے لیے بہت کوشش فرمائی اور طرح طرح کے مسائل کی طرف خود بھی توجہ کی اور علماء کو بھی متوجہ کیا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ فقہ اسلامی پر نئے سرے سے کتابیں لکھی جائیں۔ ایک دوست کو ایک عالم دین کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کیا اچھا ہو کہ وہ شریف محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مبسوط کتاب تحریر فرما دیں جس میں عبادات و معالات کے متعلق صرف قرآن سے استدلال کیا گیا ہو معاملات کے متعلق خاص طور پر اس قسم کی کتاب کی آج کل شدید ضڑورت ہے… اس پر ایک آدھ کتاب بھی تصنیف ہو چکی ہے ۔ اس سے زیادہ تر زمانہ حال کے مغربی اصول فقہ کو ملحوظ رکھ کر فقہ اسلامی پر بحث کی گئی ہے… ایک مدت سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ قرآن کامل کتاب ہے اور خود اپنے کمال کا مدعی ہے…لیکن ضرورت اس امر کی ہے ہ اس کے کمال کو عملی طور پر ثابت کیا جائے کہ سیاسیات انسانی کے لیے تمام ضروری قواعد موجود ہیں اوراسمیںفلاں فلاں آیات سے فلاں فلاں قواعد کا استخراج ہوتاہے نیز جو جو قواعد عبادات یا معاملات کے متعلق (بالخصوص موخر الذکر کے متعلق ) دیگر اقوا م میں اس وقت مروج ہیں ان پر قرآن نقطہ نگاہ سے تنقید کی جائے اور دکھایا جائے کہ وہ بالکل ناقص ہیں اور ان پر عمل کرنے سے نوع انسانی کبھی سیاست سے بہرہ اندوز نہیں ہو سکتی۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے جورس پروڈنس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا وہی اسلام کا مجدد ہو گا اوربنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم وہی شخص ہو گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال اس صورت حال کا مقابلہ علماء اسلام کی ایک جماعت تیار کرکے کرنا چاہتے تھے۔ اس جماعت کی تعلیم و تربیت کے لیے کس پایہ اور کن اوصاف کے اساتذہ کی ضرورت سمجھتے  تھے۔ اس کا اندازہ شیخ جامعہ ازہر کے نا م تحریک داراسلام سے متعلق ان کا مکتوب لائق توجہ ہے ۔ فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم ان کے لیے ایک لائبریری قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر قسم کی نئی اور پرانی کتابیں موجود ہوں۔ اور ان کی رہنمائی کے لیے ہم ایک ایسا معلم جو کامل اور صالح ہو اور قرآن حکیم میں بصارت تامہ رکھتا ہو ور نیز انقلا ب دو رحاضرہ سے بھی واقف ہو مقرر کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کو کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سے واقف کرے اور تفکر اسلامی کی تجدید یعنی فلسفہ حکمت اقتصادیات اور سیاسیات کے علوم میںان کی مدد کرے تاکہ وہ اپنے علم اور تحریروں کے ذریعے تمدن اسلامی کے دوبارہ زندہ کرنے میں جہاد کر سکیں‘‘۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''کن کن مذہبی مسائل پر توجہ تھی'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر اقبال کی نظر حال و مستقبل دونوں پر تھی۔ دین اسلام کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر جن مسائل سے واسطہ پڑا ہے یا پڑے گا ا س کااندازہ علامہ مرحوم کو تھا اور وہ چاہتے تھے کہ سوچتے تھے دوستوں سے پوچھتے تھے اور خود تلاش کرتے تھے اس سلسلہ میں صرف ان مسائل کی طرف محض اشارات پر اکتفا کرتا ہوں جن سے انہیں دلچسپی تھی سید سلیمان ندوی کو ۱۹۳۴ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا عجب کشمکش میں ہے جمہوریت فنا ہو رہی ہے اور اس کی جگہ ڈکٹیٹر شپ قائم ہو رہی ہے ۔ جرمنی میں مادی قوت کی پرستش کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ سرمایہ دار کے خلاف ایک جہاد عظیم ہو رہاہے ۔ تہذیب و تمدن (بالخصوص یورپ) بھی حالت نزع میں ہے۔ غرض کہ نظام عالم ایک نئی تشکیل کا محتاج ہے۔ ان حالات میں آپ کے خیال میں اسلام اس جدید تشکیل کا کہاں تک ممد ہو سکتا ہے اس بحث پر اپنے خیالات سے مستفیض فرمائیے۔ اگر کوئی کتابیں ایسی ہوں جن کا مطالعہ اس ضمن میں مفید ہو تو ان کے نامو ں سے آگاہ فرمائیے‘‘۔&lt;br /&gt;
سید صاحب ہی سے دریافت کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’احکام منصوصہ میں توسیع اختیارات امام کے اصول کیا ہیں؟ اگر امام توسیع کر سکتا ہے تو کیا ان کے عمل کو بھی محدود کر سکتا ہے؟ اسکی کوئی تاریخی مثال ہو تو واضح فرمائیے!‘‘&lt;br /&gt;
’’زمین کا مالک قرآن کے نزدیک کون ہے؟  اسلامی فقہا کا مذہب اس بارے میں کیا ہے؟ اگر کوئی اسلامی ملک (روس کی طرح) زمین کو حکومت کی ملکیت قرار دے تو کیا یہ بات شرع اسلامی کے موافق ہو گی یا مخالف؟ اس مسئلہ کا سیاست اور اجتماع معاشر ت سے گہرا تعلق ہے کیایہ بات رائے امام کے سپرد ہو گی؟ &lt;br /&gt;
اس ضمن میں علامہ کا یہ سوال کہ کیا جماعت امام کی قام مقام ہو سکتی ہے مدنظر رہنا چاہیے۔&lt;br /&gt;
’’امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک طلاق یا خاوند کی موت کے دو سال بعد بھی اگر بچہ پیدا ہو تو اس بچہ کے ولد الحرام ہونے پر نہیںکیا جا سکتا۔ اس مسئلہ کی اساس کیا ہے؟ کیا یہ اصول محض ایک قائدہ شہادت ہے یا جزو قانون ہے؟ اس سوال کے پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ مروجہ ایکٹ شہادت کی رو سے تمام وہ قواعدشہادت جو اس ایکٹ کے نفاذ سے پہلے ملک میں مروج تھے منسوخ کیے گئے ہیںَ ہندوستان کی عدالتوں نے مذکورہ بالا اصول کو قاعدہ شہادت قرا ر دے کر منسوخ کردیا ہے۔ نتیجہ اس بات کابعض مقامات میں یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان بچہ جو فقہ اسلامی کی رو سے ولد الحلال ہے ایکٹ شہادت کی رو سے ولد الحرام قرار دیا جاتا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبا ل کو اعتراف ہے:&lt;br /&gt;
’’میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔ البتہ فرصت کے اوقات میں میںاس بات کی کوشش کیا کرتا ہوں کہ ان معلومات میں اضافہ ہو۔ یہ بات زیادہ تر ذاتی اطمینان کے لیے ہے نہ کہ تعلیم و تعلم کی غرض سے‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال مجبور ہیں کہ مسلمانوں کی مذہبی بیداری اور اسلام کی حقیقی تعلیم کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر دوسرے ضابطہ ہائے حیات سے بہتتر اور ابدی ثابت کرنے کے لیے جو کوشش ضروری ہے جہاں تک ان کے امکان میں ہے وہ کریں۔ وہ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مولوی صاحب مصوف یا ان کے رفقا کو جو کلام الٰہی اورمسلمانوں کے دیگر لٹریچر پر عبور رکھتے ہیں اس طر ف توجہ کرنی چاہیے۔ میں اور مجھ ایسے اور لوگ صرف ایک آنکھ رکھتے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے بالآخر تہیہ کر لیا کہ وہ ایک کتاب لکھیں جس میں حقائق قرآنیہ سے بحث ہو اور اس احتیاط کا یہ عالم ہے کہ اس کا عنوان اسلام میری نظر میں قرار دیا ہے:&lt;br /&gt;
’’اس عنوان سے مقصود یہ ہے  کہ کتاب کا مضمون میری ذاتی رائے تصور کیا جائے جو ممکن ہے غلط ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
اس کتاب کے متعلق اپنی عمر کے آخری ایام میں انہوںنے سید راس مسعود کو لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’تمنا ہے کہ مرنے سے پہلے قرآن کریم سے متعلق اپنے افکار قلم بند کر جائوںاور جو تھوڑی سی ہمت و طاقت مجھ میں موجود ہے اسے اسی خدمت کے لیے وقف کر دینا چاہتا ہوں‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید راس مسعود ہی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس طرح میرے لیے ممکن ہو سکتا تھا کہ میں قرآن کریم پر عہد حاضر کے افکار کی روشنی میںاپنے وہ نوٹ تیار کر لیتا جو عرصہ سے میرے زیر غور ہیں لیکن اب تو نہ معلوم کیوں ایسامحسوس ہوتا ہے کہ میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ اگر مجھے حیات مستعار کی بقیہ گھڑیاں وقف کر دینے کا سامان میسر آ جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کے ان نوٹوں سے بہتر میں کوئی پیشکش مسلمانان عالم کو نہیں دے سکتا‘‘۔&lt;br /&gt;
غیر اسلامی تصوف پر علامہ کے خیالات کسی دوسری جگہ موجود ہیں۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ تصوف کا وجود ہی سرزمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’خواجہ نقشبند اور مجدد سرہند کی میرے دل میں بہت بڑی عزت ہے مگر افسوس کہ آ ج یہ سلسلہ بھی عجمیت کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ یہی حال سلسلہ قادریہ کا ہے جس میں میں خود بیعت رکھتا ہوں حالانکہ حضرت محی الدین کا مقصود اسلامی تصوف کو عجمیت سے پاک کرنا تھا‘‘۔&lt;br /&gt;
سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’امریکہ کے ایک مصنف کی کتاب میںلکھا ہے کہ اجماع امت نص قرآنی منسوخ کر سکتاہے یعنی یہ کہ مثلاً مدت شیر خوارگی کی نص صڑیح کی رو سے دو سال ہے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے… مصنف نے لکھا ہے کہ بعض حنفاء اور معتزلیوں کے نزدیک اجماع امت یہ اخیتار رکھتا ہے کہ مگر اس نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ آپ سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ آیا مسلمانوں کے فقہی لٹریچر میں کوئی ایسا حوالہ موجود ہے… دریافت طلب امر یہ ہے کہ کوئی حکم ایسا بھی ہے کہ جو صحابہؓ نے نص قرآنی کے خلاف نافذ کیا ہو اور وہ کون سا حکم ہے‘‘&lt;br /&gt;
’’آیہ توریث میں حصص بھی ازلی و ابدی ہیں یا قاعدہ توریث میں جو اصول مضمر ہے صرف وہی ناقابل تبدیل ہے اور حصص میں حالات کے مطابق تبدیلی ہو سکتی ہے ؟ کیا روسی مسلمانوں میں بھی ابن تیممہ اور محمد عبدالوہاب نجدی کے حالات کی اشاعت ہوئی تھی؟… مفتی عالم جان جن کا حال میں انتقال ہو گیا ہے ان کی تحریک کی اصلی غایت کیا تھی؟ کیایہ محض تعلیمی تحریک تھی یا اس کامقصود ایک مذہبی انقلاب بھی تھا؟‘‘&lt;br /&gt;
اس وقت آئین پاکستان پر بحث مباحثہ جاری ہے۔ مذہبی مسئلہ میں امام کے اختیارات کی نوعیت پر بحث کرتے ہوئے علامہ اقبال سید سلیمان ندوی سے دریافت فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’زمانہ حال کی زبان میں یوںکہیے کہ آیا اسلامی کانسٹی ٹیوشن ان (امام) کو ایسا اختیار دیتی ہے امام ایک شخص واح د ہے یا جماعت بھی امام کے قائم مقا م ہو سکتیہے ۔۔ ؟ ہر اسلامی ملک کے لیے اپنا امام ہو یا تمام اسلامی ممالک کے لیے ایک واحد امام ہو؟ موخر الذکر صورت سے موجودہ فرق اسلامیہ کی موجودگی میں کیونکر بروئے کار آ سکتی ہے؟ مہربانی کر کے ان سوالات پر روشنی ڈالیے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی قسم کے بیسیوں سوالات ہیں جن کا حل تلاش کیاجا رہا ہے۔&lt;br /&gt;
                          &lt;br /&gt;
                              *[[ممالک اسلامیہ…فلسطین]]*&lt;br /&gt;
                                   *[[افغانستان]]*&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86&amp;diff=9491</id>
		<title>افغانستان</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86&amp;diff=9491"/>
		<updated>2018-06-27T19:35:55Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;  حضرت علامہ کو افغانستان سے گہری دلچسپی رہی ۔ اس دلچسپی کا اندازہ ان اشعار سے ہو سکتاہے ج...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت علامہ کو افغانستان سے گہری دلچسپی رہی ۔ اس دلچسپی کا اندازہ ان اشعار سے ہو سکتاہے جو سیاست افغانستان کے بعد مثنوی پس چہ باید کرد کی صورت میں شائع ہوئے۔ امان اللہ خاں کے فرار کے بعد افغانستان میں جو حالت پیدا ہوئی وہ ہر صاحب دل مسلمان کے لیے بے حد قلق انگیز تھی عام طورپر یہ مشہورہے کہ جب نادر خاں لاہور سے گزرے تو اقبال نے اپنا تمام اندوختہ جو اس وقت ان کے پاس موجود تھا۔ لے کر سٹیشن پر پہنچے اور علیحدگی میں نادر خاں سے کہا کہ میری کائنات یہی کچھ ہے۔ اسے قبول فرما کر اس جہاد کے ثواب اور افغانستان کے استقلال کی کوشش میں شمولیت کا شرف مجھے بھی حاصل ہونے دیجیے۔ نادر خاں نے متاع درویش کے قبول سے بصد شکریہ انکار کر دیا۔ لیکن اقبال اس فکر میں رہے اور دوستوں سے خطوط اور تار کے ذریعے اپیل کی۔ مولوی محمد جمیل صاحب کو لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
’’افغانستان میں دوبارہ امن قائم ہوتا جاتا ہے۔ ہندوستان میں معدودے چند افراد کو ا س ملک کے انقلاب کے اسباب سے واقفیت ہے۔ میری رائے میں امان اللہ کی واپسی کے کوئی امکانات نہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
علامہ خود استقلال افغانسان کے بعد کابل گئے اور آزادملک کو اپنی مسیحا نفسی سے زندہ کرنے میں حصہ لیا۔ اور جن لوگوں نے ملک کی آزادی کے حاصل کرنے میں حصہ لیاتھا۔ انہیں اپنے ہدیہ عقیدت سے جس نے اشعار تابدارکی صورت اختیار کی ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔&lt;br /&gt;
احباب بنگلور سے بذریعہ تار افغانستان کی آزادی کی کوشش کے لیے چندہ جمع کیا جا رہا ہے مولوی محمد جمیل صاحب کو ۱۹۲۹ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے امید ہے کہ احباب بنگلور جن سے میں نے اس سلسلہ میں اعانت کی درخواست کی ہے فراخ دلی سے چندہ دیں گے۔ میں نے سیٹھ حاجی اسمعیل ایڈیٹر ’’الکلام‘‘ اور عبدالغفو ر صاحب کو بھی تار دیا ہے۔ ازراہ کرم ہمارے اٹک پار کے بھائیوں کی طرف سے جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے وہ ان حضرات کو یاد دلائیے۔ افغانستان کا استقلال و استحکام مسلمانان ہندوستان اور وسطی ایشیاء کے لیے وجہ جمعیت و تقویت ہے‘‘۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9489</id>
		<title>ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے احساس خطر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9489"/>
		<updated>2018-06-27T19:33:48Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہندوستان میں علامہ کو اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق بہت بڑا خطرہ نطر آتا تھا۔ جس کے انسداد کی بعض ایسی کوششیں ان مکاتیب سے ملت کے سامنے آتی ہیں جو آج تک سب کی نظر سے پوشیدہ تھیںَ مسلمانوں اور اسلام کے لیے خطرہ ان کو ہندوستان کی تحریک قومیت اور مسلمانوں کی بے حسی اور بے راہ روی کی وجہ سے تھا۔ اشاعت اسلام کے لیے ان کے دل میں ایک تڑپ تھی۔ میر غلام بھیک صاحب نیرنگ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پرمقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس کا عنصر نہیں جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتاہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں علیٰ درجہ البصیرت یہ کہتا ہوںاور سیاسیات حاضرہ کے تھوڑے سے تجربے کے بعد کہ ہندوستان کی سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرہ عظیم ہے۔ میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرہ کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا یا کم از کم شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس روشن ضمری اور عاقبت بینی آج کون صاحب نظر داد نہ دے گا۔ مخدوم میراں شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت ہمت اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشر و اشاعت میں صرف کریں۔ اس تاریک زمانے میں حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے… افسوس شمال مغربی ہندوستان میں جن لوگوں نے عالم اسلام بلند کیا ان کی اولادیں دنیوی جاہ و منصب کے پیچھے پڑ کر تباہ ہو گئیں اور آج ان سے زیادہ جاہل کوئی مسلمان مشکل سے ملے گا الا ماشاء اللہ!‘‘&lt;br /&gt;
منشی صالح محمد صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اسلام پر ایک بڑا نازک وقت ہندوستان میں آ رہا ہے۔ سیاسی حقوق اور ملی تمدن کا تحفظ ایک طرف خود اسلام کی ہستی معرض خطر میں ہے۔ میں ایک مدت سے ا س مسئلہ پر غور کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ مسلمانوں کے لیے مقدم ہے کہ ایک بڑا نیشنل فنڈ قائم کریں جو ایک ٹرسٹ کی صورت میں ہوا اور اس کا روپیہ مسلمانوں کے تمدن اور ان کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور ان کی دینی اشاعت وغیرہ پر خرچ کیا جائے۔ اسی طرح ان کے اخبارات کی حالت درست کی جائے اور وہ تمام وسائل اختیار کیے جائیں جو زمانہ حال میں اقوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں…‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’مسلمانوں کی مختلف مقامات میں دینی اور سیاسی اعتبار سے تنظیم کی جائے قومی عساکر بنائے جائیں اور ان تمام وسائل سے اسلام کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اس کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
عام مسلمانوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ا س حالت زار اور ان کے لیے خطرہ عظیم کے عدم احساس کا ماتم اور اس خطرے کی نوعیت کو یوں واضح فرمایا ہے:&lt;br /&gt;
’’میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے مسلمانوں کو ابھی تک اس اک احساس نہیں کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس ملک ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اور اگر وقت پر موجودہ حالت کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی تو مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل اس ملک میں کیا ہو جائے گا۔ آئندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور پھیل اقوام کی طرح ہو جائے۔ اور رفتہ رفتہ ان کا دین اور کلچر اس ملک میں فنا ہوجائے اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لیے مجھے اپنے تمام کام چھوڑنے پڑے تو انشاء اللہ چھوڑ دوں گا۔ او ر اپنی زندگی کے باقی ایام اس مقصد جلیل کے لیے وقف کر دوں گا… ہم لوگ قیامت کے روز خدا اور رسولؐ کے سامنے جواب دہ ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کے انحطاط کے اسباب اورملت ہندیہ کے احیائے جدید کی تدابیر پر ہمیشہ نظر رہتی تھی۔ مسلمانان ہند کے انحطاط کا ایک سبب ان میں تنظیم اور یک جہتی و ہم آہنگی کا فقدان ہے ۱۹۳۳ء میں شیخ عبداللہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم آہنگی ایک ایسی چیز ہے کہ جو تمام سیاسی اور تمدنی مشکلات کا علاج ہے ہندی مسلمانوںکے کام اب تک محض اس وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں کہ یہ قوم ہم آہنگ نہ ہو سکی۔ اس کے افراد بالخصوص علماء اوروں کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنے رہے بلکہ اس وقت ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کو خود متحد ہو کر ہمت کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور انہیں دوسروں کی عیاری سے ہوشیار رہنے کی تلقین کے سلسلہ میں سید سلیمان ندوی کو تحریک خلافت کے زمانے میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مدت سے یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ تاثر ایک چھوٹی سی تضمین کی صورت میں منتقل ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں آپ کا اس بارہ میںکیا خیال ہے۔ واقعات صاف اور نمایاں ہیں مگرہندوستان کے سادہ لوح مسلمان نہیں سمجھتے اور لندن کے شیعوں کے اشارے پر ناچتے چلے جاتے ہیں افسوس مفصل عرض نہیں کر سکتا کہ زمانہ نازک ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہت آزمایا ہے غیروں کو تو نے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مگر آج ہے وقت خویش آزمائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مراد از شکستن چناں عار ناید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ از دیگراں خواستن مومیائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اصل شعر میں دیگراں کی جگہ ناکساں ہے میں نے یہ لفظی تغیر ارادۃً کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
یہ نہ سمجھیے کہ اقبال کی نظر صرف ننگ اسلام علماء ہی کے گناہوں پر تھی انگریزی خواں طبقے کے وہ لوگ جو ذاتی نفع کی خاطر ملت فروشی پر مائل اور اس طرح ملت میں انتشار کا باعث ہوتے تھے ان کی سیاہ کاریوں سے بھی علامہ کو بے حد قلق تھا۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں خود مسلمانوں کے انتشار سے بے حد درد مند ہوں اور گزشتہ چار پانچ سال کے تجربہ سے مجھے بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ پست فطرت ہے&lt;br /&gt;
                               *[[فتنہ قومیت و وطنیت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''مذہب سے دلچسپی اور فقہ اسلامی کی تشکیل جدید'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال غلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ع عاشق دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ زمانے کی نبض پر ان کا ہاتھ تھا۔ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط پر ان کا دل دکھتا تھا۔ مخالف قوتوں کے زور و اثر کو دیکھتے تھے اسباب انحطاط او رمشکلات کے مقابلہ کی صورتیں ان کے ذہن میں تھیں۔ کبھی ہماری بے حسی پر ان کا دل بیٹھ جاتاتھا  کبھی نامساعد زمانہ سے اسلام کے لیے جنگ آزمائی کا عزم ہوتا تھا اور اسلام کی فتح اور مسلمانوں کی کامرانی کے یقین پر ان کی زندگی موقوف تھی۔ مکاتیب کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے لیکن یاد رہے کہ اقبال کی نگاہ میں مذہب او رسیاست کی علیحدگی جائز نہ تھی۔ جہاں وہ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط سے نالاں تھے وہاں ان کے سیاسی تنزل کا ماتم بھی جاری تھا جہاں دوستوں کو مذہب اسلام کے مسائل کی طرف متوجہ کرتے اور دنیا کے موجودہ رجحانات کے پیش نظر تعلیمات اسلامی کی بلندی کی دنیا میں تلقین کی تدابیر پیش کرتے تھے وہاں ممالک اسلامیہ کی سیاسی شیرازہ بندی اور استحکام کو ان کے لیے زندگی اور آبرو کا راز جانتے اور مانتے تھے اور جب اور جہاں جس طرح ممکن ہو ا ان ممالک کی خدمت کرتے تھے ان کی سب سے بڑی خدمت مسلمانوں کو اس مذہبی و سیاسی خدمت کی طرف متوجہ کرنا تھا اوران دونوں قسم کی خدمات میں ان کا حصہ رہنمایانہ تھا۔ سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ممالک اسلامیہ کے موجودہ حالات دیکھ کر بے انتہا اضطراب پیدا ہو رہاہے۔ ذاتی لحاظ سے خدا کے فضل وکرم سے میرا دل پورا مطمئن ہے۔ یہ بے چینی اور اضطراب محض اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل گھبر اکر کوئی دوسری راہ نہ اختیار کر لے۔ حال ہی میں ایک تعلیم یافتہ عرب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ فرانسیسی خوب بولتا تھا۔ مگر اسلام سے قطعاً بے خبر تھا۔ اس قسم کے واقعات مشاہدہ میں آتے ہیں تو سخت تکلیف ہوتی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی انحطاط کی علت ہندوستان میں تعلیم کا سراسر غیر مذہبی ہوجانا اور عربی زبان سے ناواقفیت بتائی گئی ہے۔ نیاز احمد خاں کو ۱۹۳۱ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مذہبی مسائل بالخصوص اسلامی مذہبی مسائل کے فہم کے لیے ایک خاص ترتیب کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں کی نئی پود اس سے باکل کوری ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تعلیم کا تمام تر غیر دینی ہو جانا اس مصیبت کا باعث ہوا ہے۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوست کوجو ہندوستان سے باہر گئے ہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’عربی سیکھنے کا موقع ہے خوب سیکھیے مگر مجھے اندیشہ ہے کہ عربی دانی سے آپ کی دلچسپی جو اب آپ کو فارسی لٹریچر سے ہے کم ہو جائے گی۔ کوئی آدمی عربی زبان کے چارم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے طالب علمی کے زمانے میں خاصی عربی سیکھ لی تھی مگر بعد میں اورمشاغل کی وجہ سے اس کا مطالعہ چھوٹ گیا تاہم مجھے اس زبان کی عظمت کا صحیح اندازہ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے دوست کو ۱۹۱۶ء میںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہندی مسلمانوں کی بڑی بدبختی یہ ہے کہ اس ملک سے عربی زبان کا علم اٹھ گیا ہے اورقرآن کی تفسیر میں محاورہ عرب سے بالکل کام نہیں لیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قناعت و توکل کے وہ معنی لیے جاتے ہیں جو عربی زبان میں ہرگز نہیں…اس طرح ان لوگوں نے نہایت بے دردی سے قرآن اور اسلام میں ہندی اور یونانی تخیلات داخل کر دیے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
مسلمانوں کی زبوں حالی اور بداعمالی اور ان کے مستقبل کی فکر دین و ملت کے دو خادموں کو رلاتی ہے۔ اور وہ ایک دوسرے کی تائید و اعانت کرتے اور ہمت بندھاتے ہیں سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا اس وقت ایک روحانی پیکار میںمصروف ہے۔ اس پیکار و انقلاب کا رخ معین کرنے والے قلوب و اذہان پر شک و ناامیدی کی حالت کبھی کبھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آ پ کا قلب قوی اور ذہن ہمہ گیر ہے۔ آپ اس حالت سے جلد نکل آئیں گے … آپ اس جماعت کا پیش خیمہ ہیں … اس جماعت کا دنیا میں عنقریب پیدا ہونا قطعی اور یقینی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی پستی اورناواقفیت کا فوری علاج بھی بتایا جا رہا ہے اور مذہبی شوق کے پیدا کرنے اور اسلام کی برتری دنیا پر واضح و ثابت کرنے کا مستقل نسخہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ مولانا عبدالماجد کو ۱۹۲۹ء میں مسلم یونیورسٹی کے نئے دور کا مطالعہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ علی گڑھ جا کر مذہبیی مضامین پر طلبہ سے گفتگوئیں کیا کریں تو نتائج بہت اچھے ہوں گے۔ باوجود بہت سی مخالف قوتوں کے جو ہندوستان میں مذہب کے خلاف (اور بالخصوص اسلام کے خلاف) ا س وقت عمل کر رہی ہیں مسلمان جوانوں کے دل میں اسلام کے لیے تڑپ ہے لیکن کوئی آدمی ہم میں نہیں کہ جس کی زندگی قلوب پر موثر ہو…‘‘&lt;br /&gt;
’’اسلام کے لیے اس ملک میں نازک وقت آ رہا ہے جن لوگوں کو کچھ احساس ہے ان کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش اس ملک میںکریں… علماء میں مداہنت آ گئی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’افسوس کہ زمانہ حال کے اسلامی فقہا یا تو زمانہ کے میلان طبیعت سے بالکل بے خبر ہیں یا قدامت پرستی میں مبتلا ہیں… ہندوستان میںعام حنفی اس بات کے قائل ہیں کہ اجتہاد کے تمام دروازے بند ہیں… میری رائے ناقص میں مذہب اسلام گویا زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے اور شاید تاریخ اسلام پر ایسا وقت اس سے پہلے نہیں آیا۔ ‘‘&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے فکر اسلامی کی تجدید و طرح نو کے لیے بہت کوشش فرمائی اور طرح طرح کے مسائل کی طرف خود بھی توجہ کی اور علماء کو بھی متوجہ کیا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ فقہ اسلامی پر نئے سرے سے کتابیں لکھی جائیں۔ ایک دوست کو ایک عالم دین کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کیا اچھا ہو کہ وہ شریف محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مبسوط کتاب تحریر فرما دیں جس میں عبادات و معالات کے متعلق صرف قرآن سے استدلال کیا گیا ہو معاملات کے متعلق خاص طور پر اس قسم کی کتاب کی آج کل شدید ضڑورت ہے… اس پر ایک آدھ کتاب بھی تصنیف ہو چکی ہے ۔ اس سے زیادہ تر زمانہ حال کے مغربی اصول فقہ کو ملحوظ رکھ کر فقہ اسلامی پر بحث کی گئی ہے… ایک مدت سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ قرآن کامل کتاب ہے اور خود اپنے کمال کا مدعی ہے…لیکن ضرورت اس امر کی ہے ہ اس کے کمال کو عملی طور پر ثابت کیا جائے کہ سیاسیات انسانی کے لیے تمام ضروری قواعد موجود ہیں اوراسمیںفلاں فلاں آیات سے فلاں فلاں قواعد کا استخراج ہوتاہے نیز جو جو قواعد عبادات یا معاملات کے متعلق (بالخصوص موخر الذکر کے متعلق ) دیگر اقوا م میں اس وقت مروج ہیں ان پر قرآن نقطہ نگاہ سے تنقید کی جائے اور دکھایا جائے کہ وہ بالکل ناقص ہیں اور ان پر عمل کرنے سے نوع انسانی کبھی سیاست سے بہرہ اندوز نہیں ہو سکتی۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے جورس پروڈنس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا وہی اسلام کا مجدد ہو گا اوربنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم وہی شخص ہو گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال اس صورت حال کا مقابلہ علماء اسلام کی ایک جماعت تیار کرکے کرنا چاہتے تھے۔ اس جماعت کی تعلیم و تربیت کے لیے کس پایہ اور کن اوصاف کے اساتذہ کی ضرورت سمجھتے  تھے۔ اس کا اندازہ شیخ جامعہ ازہر کے نا م تحریک داراسلام سے متعلق ان کا مکتوب لائق توجہ ہے ۔ فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم ان کے لیے ایک لائبریری قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر قسم کی نئی اور پرانی کتابیں موجود ہوں۔ اور ان کی رہنمائی کے لیے ہم ایک ایسا معلم جو کامل اور صالح ہو اور قرآن حکیم میں بصارت تامہ رکھتا ہو ور نیز انقلا ب دو رحاضرہ سے بھی واقف ہو مقرر کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کو کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سے واقف کرے اور تفکر اسلامی کی تجدید یعنی فلسفہ حکمت اقتصادیات اور سیاسیات کے علوم میںان کی مدد کرے تاکہ وہ اپنے علم اور تحریروں کے ذریعے تمدن اسلامی کے دوبارہ زندہ کرنے میں جہاد کر سکیں‘‘۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''کن کن مذہبی مسائل پر توجہ تھی'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر اقبال کی نظر حال و مستقبل دونوں پر تھی۔ دین اسلام کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر جن مسائل سے واسطہ پڑا ہے یا پڑے گا ا س کااندازہ علامہ مرحوم کو تھا اور وہ چاہتے تھے کہ سوچتے تھے دوستوں سے پوچھتے تھے اور خود تلاش کرتے تھے اس سلسلہ میں صرف ان مسائل کی طرف محض اشارات پر اکتفا کرتا ہوں جن سے انہیں دلچسپی تھی سید سلیمان ندوی کو ۱۹۳۴ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا عجب کشمکش میں ہے جمہوریت فنا ہو رہی ہے اور اس کی جگہ ڈکٹیٹر شپ قائم ہو رہی ہے ۔ جرمنی میں مادی قوت کی پرستش کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ سرمایہ دار کے خلاف ایک جہاد عظیم ہو رہاہے ۔ تہذیب و تمدن (بالخصوص یورپ) بھی حالت نزع میں ہے۔ غرض کہ نظام عالم ایک نئی تشکیل کا محتاج ہے۔ ان حالات میں آپ کے خیال میں اسلام اس جدید تشکیل کا کہاں تک ممد ہو سکتا ہے اس بحث پر اپنے خیالات سے مستفیض فرمائیے۔ اگر کوئی کتابیں ایسی ہوں جن کا مطالعہ اس ضمن میں مفید ہو تو ان کے نامو ں سے آگاہ فرمائیے‘‘۔&lt;br /&gt;
سید صاحب ہی سے دریافت کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’احکام منصوصہ میں توسیع اختیارات امام کے اصول کیا ہیں؟ اگر امام توسیع کر سکتا ہے تو کیا ان کے عمل کو بھی محدود کر سکتا ہے؟ اسکی کوئی تاریخی مثال ہو تو واضح فرمائیے!‘‘&lt;br /&gt;
’’زمین کا مالک قرآن کے نزدیک کون ہے؟  اسلامی فقہا کا مذہب اس بارے میں کیا ہے؟ اگر کوئی اسلامی ملک (روس کی طرح) زمین کو حکومت کی ملکیت قرار دے تو کیا یہ بات شرع اسلامی کے موافق ہو گی یا مخالف؟ اس مسئلہ کا سیاست اور اجتماع معاشر ت سے گہرا تعلق ہے کیایہ بات رائے امام کے سپرد ہو گی؟ &lt;br /&gt;
اس ضمن میں علامہ کا یہ سوال کہ کیا جماعت امام کی قام مقام ہو سکتی ہے مدنظر رہنا چاہیے۔&lt;br /&gt;
’’امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک طلاق یا خاوند کی موت کے دو سال بعد بھی اگر بچہ پیدا ہو تو اس بچہ کے ولد الحرام ہونے پر نہیںکیا جا سکتا۔ اس مسئلہ کی اساس کیا ہے؟ کیا یہ اصول محض ایک قائدہ شہادت ہے یا جزو قانون ہے؟ اس سوال کے پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ مروجہ ایکٹ شہادت کی رو سے تمام وہ قواعدشہادت جو اس ایکٹ کے نفاذ سے پہلے ملک میں مروج تھے منسوخ کیے گئے ہیںَ ہندوستان کی عدالتوں نے مذکورہ بالا اصول کو قاعدہ شہادت قرا ر دے کر منسوخ کردیا ہے۔ نتیجہ اس بات کابعض مقامات میں یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان بچہ جو فقہ اسلامی کی رو سے ولد الحلال ہے ایکٹ شہادت کی رو سے ولد الحرام قرار دیا جاتا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبا ل کو اعتراف ہے:&lt;br /&gt;
’’میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔ البتہ فرصت کے اوقات میں میںاس بات کی کوشش کیا کرتا ہوں کہ ان معلومات میں اضافہ ہو۔ یہ بات زیادہ تر ذاتی اطمینان کے لیے ہے نہ کہ تعلیم و تعلم کی غرض سے‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال مجبور ہیں کہ مسلمانوں کی مذہبی بیداری اور اسلام کی حقیقی تعلیم کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر دوسرے ضابطہ ہائے حیات سے بہتتر اور ابدی ثابت کرنے کے لیے جو کوشش ضروری ہے جہاں تک ان کے امکان میں ہے وہ کریں۔ وہ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مولوی صاحب مصوف یا ان کے رفقا کو جو کلام الٰہی اورمسلمانوں کے دیگر لٹریچر پر عبور رکھتے ہیں اس طر ف توجہ کرنی چاہیے۔ میں اور مجھ ایسے اور لوگ صرف ایک آنکھ رکھتے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے بالآخر تہیہ کر لیا کہ وہ ایک کتاب لکھیں جس میں حقائق قرآنیہ سے بحث ہو اور اس احتیاط کا یہ عالم ہے کہ اس کا عنوان اسلام میری نظر میں قرار دیا ہے:&lt;br /&gt;
’’اس عنوان سے مقصود یہ ہے  کہ کتاب کا مضمون میری ذاتی رائے تصور کیا جائے جو ممکن ہے غلط ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
اس کتاب کے متعلق اپنی عمر کے آخری ایام میں انہوںنے سید راس مسعود کو لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’تمنا ہے کہ مرنے سے پہلے قرآن کریم سے متعلق اپنے افکار قلم بند کر جائوںاور جو تھوڑی سی ہمت و طاقت مجھ میں موجود ہے اسے اسی خدمت کے لیے وقف کر دینا چاہتا ہوں‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید راس مسعود ہی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس طرح میرے لیے ممکن ہو سکتا تھا کہ میں قرآن کریم پر عہد حاضر کے افکار کی روشنی میںاپنے وہ نوٹ تیار کر لیتا جو عرصہ سے میرے زیر غور ہیں لیکن اب تو نہ معلوم کیوں ایسامحسوس ہوتا ہے کہ میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ اگر مجھے حیات مستعار کی بقیہ گھڑیاں وقف کر دینے کا سامان میسر آ جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کے ان نوٹوں سے بہتر میں کوئی پیشکش مسلمانان عالم کو نہیں دے سکتا‘‘۔&lt;br /&gt;
غیر اسلامی تصوف پر علامہ کے خیالات کسی دوسری جگہ موجود ہیں۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ تصوف کا وجود ہی سرزمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’خواجہ نقشبند اور مجدد سرہند کی میرے دل میں بہت بڑی عزت ہے مگر افسوس کہ آ ج یہ سلسلہ بھی عجمیت کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ یہی حال سلسلہ قادریہ کا ہے جس میں میں خود بیعت رکھتا ہوں حالانکہ حضرت محی الدین کا مقصود اسلامی تصوف کو عجمیت سے پاک کرنا تھا‘‘۔&lt;br /&gt;
سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’امریکہ کے ایک مصنف کی کتاب میںلکھا ہے کہ اجماع امت نص قرآنی منسوخ کر سکتاہے یعنی یہ کہ مثلاً مدت شیر خوارگی کی نص صڑیح کی رو سے دو سال ہے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے… مصنف نے لکھا ہے کہ بعض حنفاء اور معتزلیوں کے نزدیک اجماع امت یہ اخیتار رکھتا ہے کہ مگر اس نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ آپ سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ آیا مسلمانوں کے فقہی لٹریچر میں کوئی ایسا حوالہ موجود ہے… دریافت طلب امر یہ ہے کہ کوئی حکم ایسا بھی ہے کہ جو صحابہؓ نے نص قرآنی کے خلاف نافذ کیا ہو اور وہ کون سا حکم ہے‘‘&lt;br /&gt;
’’آیہ توریث میں حصص بھی ازلی و ابدی ہیں یا قاعدہ توریث میں جو اصول مضمر ہے صرف وہی ناقابل تبدیل ہے اور حصص میں حالات کے مطابق تبدیلی ہو سکتی ہے ؟ کیا روسی مسلمانوں میں بھی ابن تیممہ اور محمد عبدالوہاب نجدی کے حالات کی اشاعت ہوئی تھی؟… مفتی عالم جان جن کا حال میں انتقال ہو گیا ہے ان کی تحریک کی اصلی غایت کیا تھی؟ کیایہ محض تعلیمی تحریک تھی یا اس کامقصود ایک مذہبی انقلاب بھی تھا؟‘‘&lt;br /&gt;
اس وقت آئین پاکستان پر بحث مباحثہ جاری ہے۔ مذہبی مسئلہ میں امام کے اختیارات کی نوعیت پر بحث کرتے ہوئے علامہ اقبال سید سلیمان ندوی سے دریافت فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’زمانہ حال کی زبان میں یوںکہیے کہ آیا اسلامی کانسٹی ٹیوشن ان (امام) کو ایسا اختیار دیتی ہے امام ایک شخص واح د ہے یا جماعت بھی امام کے قائم مقا م ہو سکتیہے ۔۔ ؟ ہر اسلامی ملک کے لیے اپنا امام ہو یا تمام اسلامی ممالک کے لیے ایک واحد امام ہو؟ موخر الذکر صورت سے موجودہ فرق اسلامیہ کی موجودگی میں کیونکر بروئے کار آ سکتی ہے؟ مہربانی کر کے ان سوالات پر روشنی ڈالیے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی قسم کے بیسیوں سوالات ہیں جن کا حل تلاش کیاجا رہا ہے۔&lt;br /&gt;
                          &lt;br /&gt;
                              *[[ممالک اسلامیہ…فلسطین]]*&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C%DB%81%E2%80%A6%D9%81%D9%84%D8%B3%D8%B7%DB%8C%D9%86&amp;diff=9488</id>
		<title>ممالک اسلامیہ…فلسطین</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C%DB%81%E2%80%A6%D9%81%D9%84%D8%B3%D8%B7%DB%8C%D9%86&amp;diff=9488"/>
		<updated>2018-06-27T19:32:27Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;  حضرت علامہ کو مسئلہ فلسطین سے غایت درجہ دلچسپی تھی۔ اور انہوںنے ہندوستان کے دور غلامی م...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت علامہ کو مسئلہ فلسطین سے غایت درجہ دلچسپی تھی۔ اور انہوںنے ہندوستان کے دور غلامی میں فلسطین کو پنجہ اغیار سے چھڑانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ مس فارقوہرسن کے نام ان کے خطوط اس پر شاہد ہیں کہ کچھ جو پہلے میسر آئے حصہ اول میں موجود ہیں۔ جو خطوط میری علی گڑھ سے واپسی کے بعد لاہور میں سر عبدالقادر مرحوم سے درستیاب ہوئے۔ حصہ دو م میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ ان خطوط میں برطانیہ کو عربوں سے اپنے حتمی وعدوں کی خلاف ورزی کے ارتکاب سے بچنے کے لیے توجہ دلائی جا رہی ہے۔ انہیں تاریخ اقوام پر گہری نظر رکھنے والے مفکر کی طرح بتایا جارہا ہے کہ:&lt;br /&gt;
’’جب طاقت عقل و دانش کو پس پشت ڈال کر محض اپنی ذات پر بھروسہ کر لیتی ہے تو نتیجہ خود طاقت کا زوا ل ہوتاہے‘‘۔&lt;br /&gt;
انگریزوں سے کہا جا رہا ہے کہ فلسطین تمہاری ذاتی جائدا د نہیں تم اس تحریک کو یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن مہیا کرنے سے کہیں زیادہ برطانوی سامراج کے لیے ایک ساحلی گوشہ حاصل کرنے کے زیادہ فکر مند ہو۔ کہیں برطانیہ کو عربی کی دوستی سے محرومی کے عواقب سے ڈرایا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں مشرق قریب کے اسلامی ممالک کی سیاسی وحد ت و استحکام کو ترکوں اور عربوں کے فوری اتحاد مکرر پر موقوف بتایا جا رہا ہے عربوں کو بتایا جا رہا ہے کہ عرب ممالک کے مختلف بادشاہ فلسطین کے لیے آزادانہ اورایماندارانہ فیصلہ حاصل کرنے سے قاصر ہیںَ مس فارقوہرسن سے تجویز کیا جا رہا ہے کہ فلسطین کے مسئلہ سے اپیل کے لیے ہز ہائی  نس آغا خاں کی تائید و اعانت حاصل کریں اور اپیل کا مسودہ مصر و فلسطین کے زعمائے فکر و عمل کے مشورہ سے مرتب کریں۔ اس مسئلہ پر دلچسپی اور اعانت کے لیے مس فارقوہرسن اور لارڈ ازلینٹن کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9487</id>
		<title>ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے احساس خطر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9487"/>
		<updated>2018-06-27T19:30:30Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہندوستان میں علامہ کو اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق بہت بڑا خطرہ نطر آتا تھا۔ جس کے انسداد کی بعض ایسی کوششیں ان مکاتیب سے ملت کے سامنے آتی ہیں جو آج تک سب کی نظر سے پوشیدہ تھیںَ مسلمانوں اور اسلام کے لیے خطرہ ان کو ہندوستان کی تحریک قومیت اور مسلمانوں کی بے حسی اور بے راہ روی کی وجہ سے تھا۔ اشاعت اسلام کے لیے ان کے دل میں ایک تڑپ تھی۔ میر غلام بھیک صاحب نیرنگ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پرمقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس کا عنصر نہیں جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتاہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں علیٰ درجہ البصیرت یہ کہتا ہوںاور سیاسیات حاضرہ کے تھوڑے سے تجربے کے بعد کہ ہندوستان کی سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرہ عظیم ہے۔ میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرہ کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا یا کم از کم شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس روشن ضمری اور عاقبت بینی آج کون صاحب نظر داد نہ دے گا۔ مخدوم میراں شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت ہمت اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشر و اشاعت میں صرف کریں۔ اس تاریک زمانے میں حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے… افسوس شمال مغربی ہندوستان میں جن لوگوں نے عالم اسلام بلند کیا ان کی اولادیں دنیوی جاہ و منصب کے پیچھے پڑ کر تباہ ہو گئیں اور آج ان سے زیادہ جاہل کوئی مسلمان مشکل سے ملے گا الا ماشاء اللہ!‘‘&lt;br /&gt;
منشی صالح محمد صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اسلام پر ایک بڑا نازک وقت ہندوستان میں آ رہا ہے۔ سیاسی حقوق اور ملی تمدن کا تحفظ ایک طرف خود اسلام کی ہستی معرض خطر میں ہے۔ میں ایک مدت سے ا س مسئلہ پر غور کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ مسلمانوں کے لیے مقدم ہے کہ ایک بڑا نیشنل فنڈ قائم کریں جو ایک ٹرسٹ کی صورت میں ہوا اور اس کا روپیہ مسلمانوں کے تمدن اور ان کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور ان کی دینی اشاعت وغیرہ پر خرچ کیا جائے۔ اسی طرح ان کے اخبارات کی حالت درست کی جائے اور وہ تمام وسائل اختیار کیے جائیں جو زمانہ حال میں اقوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں…‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’مسلمانوں کی مختلف مقامات میں دینی اور سیاسی اعتبار سے تنظیم کی جائے قومی عساکر بنائے جائیں اور ان تمام وسائل سے اسلام کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اس کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
عام مسلمانوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ا س حالت زار اور ان کے لیے خطرہ عظیم کے عدم احساس کا ماتم اور اس خطرے کی نوعیت کو یوں واضح فرمایا ہے:&lt;br /&gt;
’’میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے مسلمانوں کو ابھی تک اس اک احساس نہیں کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس ملک ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اور اگر وقت پر موجودہ حالت کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی تو مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل اس ملک میں کیا ہو جائے گا۔ آئندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور پھیل اقوام کی طرح ہو جائے۔ اور رفتہ رفتہ ان کا دین اور کلچر اس ملک میں فنا ہوجائے اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لیے مجھے اپنے تمام کام چھوڑنے پڑے تو انشاء اللہ چھوڑ دوں گا۔ او ر اپنی زندگی کے باقی ایام اس مقصد جلیل کے لیے وقف کر دوں گا… ہم لوگ قیامت کے روز خدا اور رسولؐ کے سامنے جواب دہ ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کے انحطاط کے اسباب اورملت ہندیہ کے احیائے جدید کی تدابیر پر ہمیشہ نظر رہتی تھی۔ مسلمانان ہند کے انحطاط کا ایک سبب ان میں تنظیم اور یک جہتی و ہم آہنگی کا فقدان ہے ۱۹۳۳ء میں شیخ عبداللہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم آہنگی ایک ایسی چیز ہے کہ جو تمام سیاسی اور تمدنی مشکلات کا علاج ہے ہندی مسلمانوںکے کام اب تک محض اس وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں کہ یہ قوم ہم آہنگ نہ ہو سکی۔ اس کے افراد بالخصوص علماء اوروں کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنے رہے بلکہ اس وقت ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کو خود متحد ہو کر ہمت کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور انہیں دوسروں کی عیاری سے ہوشیار رہنے کی تلقین کے سلسلہ میں سید سلیمان ندوی کو تحریک خلافت کے زمانے میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مدت سے یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ تاثر ایک چھوٹی سی تضمین کی صورت میں منتقل ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں آپ کا اس بارہ میںکیا خیال ہے۔ واقعات صاف اور نمایاں ہیں مگرہندوستان کے سادہ لوح مسلمان نہیں سمجھتے اور لندن کے شیعوں کے اشارے پر ناچتے چلے جاتے ہیں افسوس مفصل عرض نہیں کر سکتا کہ زمانہ نازک ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہت آزمایا ہے غیروں کو تو نے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مگر آج ہے وقت خویش آزمائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مراد از شکستن چناں عار ناید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ از دیگراں خواستن مومیائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اصل شعر میں دیگراں کی جگہ ناکساں ہے میں نے یہ لفظی تغیر ارادۃً کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
یہ نہ سمجھیے کہ اقبال کی نظر صرف ننگ اسلام علماء ہی کے گناہوں پر تھی انگریزی خواں طبقے کے وہ لوگ جو ذاتی نفع کی خاطر ملت فروشی پر مائل اور اس طرح ملت میں انتشار کا باعث ہوتے تھے ان کی سیاہ کاریوں سے بھی علامہ کو بے حد قلق تھا۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں خود مسلمانوں کے انتشار سے بے حد درد مند ہوں اور گزشتہ چار پانچ سال کے تجربہ سے مجھے بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ پست فطرت ہے&lt;br /&gt;
                               *[[فتنہ قومیت و وطنیت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''مذہب سے دلچسپی اور فقہ اسلامی کی تشکیل جدید'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال غلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ع عاشق دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ زمانے کی نبض پر ان کا ہاتھ تھا۔ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط پر ان کا دل دکھتا تھا۔ مخالف قوتوں کے زور و اثر کو دیکھتے تھے اسباب انحطاط او رمشکلات کے مقابلہ کی صورتیں ان کے ذہن میں تھیں۔ کبھی ہماری بے حسی پر ان کا دل بیٹھ جاتاتھا  کبھی نامساعد زمانہ سے اسلام کے لیے جنگ آزمائی کا عزم ہوتا تھا اور اسلام کی فتح اور مسلمانوں کی کامرانی کے یقین پر ان کی زندگی موقوف تھی۔ مکاتیب کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے لیکن یاد رہے کہ اقبال کی نگاہ میں مذہب او رسیاست کی علیحدگی جائز نہ تھی۔ جہاں وہ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط سے نالاں تھے وہاں ان کے سیاسی تنزل کا ماتم بھی جاری تھا جہاں دوستوں کو مذہب اسلام کے مسائل کی طرف متوجہ کرتے اور دنیا کے موجودہ رجحانات کے پیش نظر تعلیمات اسلامی کی بلندی کی دنیا میں تلقین کی تدابیر پیش کرتے تھے وہاں ممالک اسلامیہ کی سیاسی شیرازہ بندی اور استحکام کو ان کے لیے زندگی اور آبرو کا راز جانتے اور مانتے تھے اور جب اور جہاں جس طرح ممکن ہو ا ان ممالک کی خدمت کرتے تھے ان کی سب سے بڑی خدمت مسلمانوں کو اس مذہبی و سیاسی خدمت کی طرف متوجہ کرنا تھا اوران دونوں قسم کی خدمات میں ان کا حصہ رہنمایانہ تھا۔ سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ممالک اسلامیہ کے موجودہ حالات دیکھ کر بے انتہا اضطراب پیدا ہو رہاہے۔ ذاتی لحاظ سے خدا کے فضل وکرم سے میرا دل پورا مطمئن ہے۔ یہ بے چینی اور اضطراب محض اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل گھبر اکر کوئی دوسری راہ نہ اختیار کر لے۔ حال ہی میں ایک تعلیم یافتہ عرب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ فرانسیسی خوب بولتا تھا۔ مگر اسلام سے قطعاً بے خبر تھا۔ اس قسم کے واقعات مشاہدہ میں آتے ہیں تو سخت تکلیف ہوتی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی انحطاط کی علت ہندوستان میں تعلیم کا سراسر غیر مذہبی ہوجانا اور عربی زبان سے ناواقفیت بتائی گئی ہے۔ نیاز احمد خاں کو ۱۹۳۱ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مذہبی مسائل بالخصوص اسلامی مذہبی مسائل کے فہم کے لیے ایک خاص ترتیب کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں کی نئی پود اس سے باکل کوری ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تعلیم کا تمام تر غیر دینی ہو جانا اس مصیبت کا باعث ہوا ہے۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوست کوجو ہندوستان سے باہر گئے ہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’عربی سیکھنے کا موقع ہے خوب سیکھیے مگر مجھے اندیشہ ہے کہ عربی دانی سے آپ کی دلچسپی جو اب آپ کو فارسی لٹریچر سے ہے کم ہو جائے گی۔ کوئی آدمی عربی زبان کے چارم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے طالب علمی کے زمانے میں خاصی عربی سیکھ لی تھی مگر بعد میں اورمشاغل کی وجہ سے اس کا مطالعہ چھوٹ گیا تاہم مجھے اس زبان کی عظمت کا صحیح اندازہ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے دوست کو ۱۹۱۶ء میںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہندی مسلمانوں کی بڑی بدبختی یہ ہے کہ اس ملک سے عربی زبان کا علم اٹھ گیا ہے اورقرآن کی تفسیر میں محاورہ عرب سے بالکل کام نہیں لیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قناعت و توکل کے وہ معنی لیے جاتے ہیں جو عربی زبان میں ہرگز نہیں…اس طرح ان لوگوں نے نہایت بے دردی سے قرآن اور اسلام میں ہندی اور یونانی تخیلات داخل کر دیے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
مسلمانوں کی زبوں حالی اور بداعمالی اور ان کے مستقبل کی فکر دین و ملت کے دو خادموں کو رلاتی ہے۔ اور وہ ایک دوسرے کی تائید و اعانت کرتے اور ہمت بندھاتے ہیں سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا اس وقت ایک روحانی پیکار میںمصروف ہے۔ اس پیکار و انقلاب کا رخ معین کرنے والے قلوب و اذہان پر شک و ناامیدی کی حالت کبھی کبھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آ پ کا قلب قوی اور ذہن ہمہ گیر ہے۔ آپ اس حالت سے جلد نکل آئیں گے … آپ اس جماعت کا پیش خیمہ ہیں … اس جماعت کا دنیا میں عنقریب پیدا ہونا قطعی اور یقینی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی پستی اورناواقفیت کا فوری علاج بھی بتایا جا رہا ہے اور مذہبی شوق کے پیدا کرنے اور اسلام کی برتری دنیا پر واضح و ثابت کرنے کا مستقل نسخہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ مولانا عبدالماجد کو ۱۹۲۹ء میں مسلم یونیورسٹی کے نئے دور کا مطالعہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ علی گڑھ جا کر مذہبیی مضامین پر طلبہ سے گفتگوئیں کیا کریں تو نتائج بہت اچھے ہوں گے۔ باوجود بہت سی مخالف قوتوں کے جو ہندوستان میں مذہب کے خلاف (اور بالخصوص اسلام کے خلاف) ا س وقت عمل کر رہی ہیں مسلمان جوانوں کے دل میں اسلام کے لیے تڑپ ہے لیکن کوئی آدمی ہم میں نہیں کہ جس کی زندگی قلوب پر موثر ہو…‘‘&lt;br /&gt;
’’اسلام کے لیے اس ملک میں نازک وقت آ رہا ہے جن لوگوں کو کچھ احساس ہے ان کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش اس ملک میںکریں… علماء میں مداہنت آ گئی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’افسوس کہ زمانہ حال کے اسلامی فقہا یا تو زمانہ کے میلان طبیعت سے بالکل بے خبر ہیں یا قدامت پرستی میں مبتلا ہیں… ہندوستان میںعام حنفی اس بات کے قائل ہیں کہ اجتہاد کے تمام دروازے بند ہیں… میری رائے ناقص میں مذہب اسلام گویا زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے اور شاید تاریخ اسلام پر ایسا وقت اس سے پہلے نہیں آیا۔ ‘‘&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے فکر اسلامی کی تجدید و طرح نو کے لیے بہت کوشش فرمائی اور طرح طرح کے مسائل کی طرف خود بھی توجہ کی اور علماء کو بھی متوجہ کیا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ فقہ اسلامی پر نئے سرے سے کتابیں لکھی جائیں۔ ایک دوست کو ایک عالم دین کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کیا اچھا ہو کہ وہ شریف محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مبسوط کتاب تحریر فرما دیں جس میں عبادات و معالات کے متعلق صرف قرآن سے استدلال کیا گیا ہو معاملات کے متعلق خاص طور پر اس قسم کی کتاب کی آج کل شدید ضڑورت ہے… اس پر ایک آدھ کتاب بھی تصنیف ہو چکی ہے ۔ اس سے زیادہ تر زمانہ حال کے مغربی اصول فقہ کو ملحوظ رکھ کر فقہ اسلامی پر بحث کی گئی ہے… ایک مدت سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ قرآن کامل کتاب ہے اور خود اپنے کمال کا مدعی ہے…لیکن ضرورت اس امر کی ہے ہ اس کے کمال کو عملی طور پر ثابت کیا جائے کہ سیاسیات انسانی کے لیے تمام ضروری قواعد موجود ہیں اوراسمیںفلاں فلاں آیات سے فلاں فلاں قواعد کا استخراج ہوتاہے نیز جو جو قواعد عبادات یا معاملات کے متعلق (بالخصوص موخر الذکر کے متعلق ) دیگر اقوا م میں اس وقت مروج ہیں ان پر قرآن نقطہ نگاہ سے تنقید کی جائے اور دکھایا جائے کہ وہ بالکل ناقص ہیں اور ان پر عمل کرنے سے نوع انسانی کبھی سیاست سے بہرہ اندوز نہیں ہو سکتی۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے جورس پروڈنس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا وہی اسلام کا مجدد ہو گا اوربنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم وہی شخص ہو گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال اس صورت حال کا مقابلہ علماء اسلام کی ایک جماعت تیار کرکے کرنا چاہتے تھے۔ اس جماعت کی تعلیم و تربیت کے لیے کس پایہ اور کن اوصاف کے اساتذہ کی ضرورت سمجھتے  تھے۔ اس کا اندازہ شیخ جامعہ ازہر کے نا م تحریک داراسلام سے متعلق ان کا مکتوب لائق توجہ ہے ۔ فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم ان کے لیے ایک لائبریری قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر قسم کی نئی اور پرانی کتابیں موجود ہوں۔ اور ان کی رہنمائی کے لیے ہم ایک ایسا معلم جو کامل اور صالح ہو اور قرآن حکیم میں بصارت تامہ رکھتا ہو ور نیز انقلا ب دو رحاضرہ سے بھی واقف ہو مقرر کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کو کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سے واقف کرے اور تفکر اسلامی کی تجدید یعنی فلسفہ حکمت اقتصادیات اور سیاسیات کے علوم میںان کی مدد کرے تاکہ وہ اپنے علم اور تحریروں کے ذریعے تمدن اسلامی کے دوبارہ زندہ کرنے میں جہاد کر سکیں‘‘۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''کن کن مذہبی مسائل پر توجہ تھی'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر اقبال کی نظر حال و مستقبل دونوں پر تھی۔ دین اسلام کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر جن مسائل سے واسطہ پڑا ہے یا پڑے گا ا س کااندازہ علامہ مرحوم کو تھا اور وہ چاہتے تھے کہ سوچتے تھے دوستوں سے پوچھتے تھے اور خود تلاش کرتے تھے اس سلسلہ میں صرف ان مسائل کی طرف محض اشارات پر اکتفا کرتا ہوں جن سے انہیں دلچسپی تھی سید سلیمان ندوی کو ۱۹۳۴ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا عجب کشمکش میں ہے جمہوریت فنا ہو رہی ہے اور اس کی جگہ ڈکٹیٹر شپ قائم ہو رہی ہے ۔ جرمنی میں مادی قوت کی پرستش کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ سرمایہ دار کے خلاف ایک جہاد عظیم ہو رہاہے ۔ تہذیب و تمدن (بالخصوص یورپ) بھی حالت نزع میں ہے۔ غرض کہ نظام عالم ایک نئی تشکیل کا محتاج ہے۔ ان حالات میں آپ کے خیال میں اسلام اس جدید تشکیل کا کہاں تک ممد ہو سکتا ہے اس بحث پر اپنے خیالات سے مستفیض فرمائیے۔ اگر کوئی کتابیں ایسی ہوں جن کا مطالعہ اس ضمن میں مفید ہو تو ان کے نامو ں سے آگاہ فرمائیے‘‘۔&lt;br /&gt;
سید صاحب ہی سے دریافت کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’احکام منصوصہ میں توسیع اختیارات امام کے اصول کیا ہیں؟ اگر امام توسیع کر سکتا ہے تو کیا ان کے عمل کو بھی محدود کر سکتا ہے؟ اسکی کوئی تاریخی مثال ہو تو واضح فرمائیے!‘‘&lt;br /&gt;
’’زمین کا مالک قرآن کے نزدیک کون ہے؟  اسلامی فقہا کا مذہب اس بارے میں کیا ہے؟ اگر کوئی اسلامی ملک (روس کی طرح) زمین کو حکومت کی ملکیت قرار دے تو کیا یہ بات شرع اسلامی کے موافق ہو گی یا مخالف؟ اس مسئلہ کا سیاست اور اجتماع معاشر ت سے گہرا تعلق ہے کیایہ بات رائے امام کے سپرد ہو گی؟ &lt;br /&gt;
اس ضمن میں علامہ کا یہ سوال کہ کیا جماعت امام کی قام مقام ہو سکتی ہے مدنظر رہنا چاہیے۔&lt;br /&gt;
’’امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک طلاق یا خاوند کی موت کے دو سال بعد بھی اگر بچہ پیدا ہو تو اس بچہ کے ولد الحرام ہونے پر نہیںکیا جا سکتا۔ اس مسئلہ کی اساس کیا ہے؟ کیا یہ اصول محض ایک قائدہ شہادت ہے یا جزو قانون ہے؟ اس سوال کے پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ مروجہ ایکٹ شہادت کی رو سے تمام وہ قواعدشہادت جو اس ایکٹ کے نفاذ سے پہلے ملک میں مروج تھے منسوخ کیے گئے ہیںَ ہندوستان کی عدالتوں نے مذکورہ بالا اصول کو قاعدہ شہادت قرا ر دے کر منسوخ کردیا ہے۔ نتیجہ اس بات کابعض مقامات میں یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان بچہ جو فقہ اسلامی کی رو سے ولد الحلال ہے ایکٹ شہادت کی رو سے ولد الحرام قرار دیا جاتا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبا ل کو اعتراف ہے:&lt;br /&gt;
’’میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔ البتہ فرصت کے اوقات میں میںاس بات کی کوشش کیا کرتا ہوں کہ ان معلومات میں اضافہ ہو۔ یہ بات زیادہ تر ذاتی اطمینان کے لیے ہے نہ کہ تعلیم و تعلم کی غرض سے‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال مجبور ہیں کہ مسلمانوں کی مذہبی بیداری اور اسلام کی حقیقی تعلیم کو زمانہ حال کی مقتضیات کے پیش نظر دوسرے ضابطہ ہائے حیات سے بہتتر اور ابدی ثابت کرنے کے لیے جو کوشش ضروری ہے جہاں تک ان کے امکان میں ہے وہ کریں۔ وہ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مولوی صاحب مصوف یا ان کے رفقا کو جو کلام الٰہی اورمسلمانوں کے دیگر لٹریچر پر عبور رکھتے ہیں اس طر ف توجہ کرنی چاہیے۔ میں اور مجھ ایسے اور لوگ صرف ایک آنکھ رکھتے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے بالآخر تہیہ کر لیا کہ وہ ایک کتاب لکھیں جس میں حقائق قرآنیہ سے بحث ہو اور اس احتیاط کا یہ عالم ہے کہ اس کا عنوان اسلام میری نظر میں قرار دیا ہے:&lt;br /&gt;
’’اس عنوان سے مقصود یہ ہے  کہ کتاب کا مضمون میری ذاتی رائے تصور کیا جائے جو ممکن ہے غلط ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
اس کتاب کے متعلق اپنی عمر کے آخری ایام میں انہوںنے سید راس مسعود کو لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’تمنا ہے کہ مرنے سے پہلے قرآن کریم سے متعلق اپنے افکار قلم بند کر جائوںاور جو تھوڑی سی ہمت و طاقت مجھ میں موجود ہے اسے اسی خدمت کے لیے وقف کر دینا چاہتا ہوں‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید راس مسعود ہی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس طرح میرے لیے ممکن ہو سکتا تھا کہ میں قرآن کریم پر عہد حاضر کے افکار کی روشنی میںاپنے وہ نوٹ تیار کر لیتا جو عرصہ سے میرے زیر غور ہیں لیکن اب تو نہ معلوم کیوں ایسامحسوس ہوتا ہے کہ میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ اگر مجھے حیات مستعار کی بقیہ گھڑیاں وقف کر دینے کا سامان میسر آ جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کے ان نوٹوں سے بہتر میں کوئی پیشکش مسلمانان عالم کو نہیں دے سکتا‘‘۔&lt;br /&gt;
غیر اسلامی تصوف پر علامہ کے خیالات کسی دوسری جگہ موجود ہیں۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ تصوف کا وجود ہی سرزمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں سید صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’خواجہ نقشبند اور مجدد سرہند کی میرے دل میں بہت بڑی عزت ہے مگر افسوس کہ آ ج یہ سلسلہ بھی عجمیت کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ یہی حال سلسلہ قادریہ کا ہے جس میں میں خود بیعت رکھتا ہوں حالانکہ حضرت محی الدین کا مقصود اسلامی تصوف کو عجمیت سے پاک کرنا تھا‘‘۔&lt;br /&gt;
سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’امریکہ کے ایک مصنف کی کتاب میںلکھا ہے کہ اجماع امت نص قرآنی منسوخ کر سکتاہے یعنی یہ کہ مثلاً مدت شیر خوارگی کی نص صڑیح کی رو سے دو سال ہے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے… مصنف نے لکھا ہے کہ بعض حنفاء اور معتزلیوں کے نزدیک اجماع امت یہ اخیتار رکھتا ہے کہ مگر اس نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ آپ سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ آیا مسلمانوں کے فقہی لٹریچر میں کوئی ایسا حوالہ موجود ہے… دریافت طلب امر یہ ہے کہ کوئی حکم ایسا بھی ہے کہ جو صحابہؓ نے نص قرآنی کے خلاف نافذ کیا ہو اور وہ کون سا حکم ہے‘‘&lt;br /&gt;
’’آیہ توریث میں حصص بھی ازلی و ابدی ہیں یا قاعدہ توریث میں جو اصول مضمر ہے صرف وہی ناقابل تبدیل ہے اور حصص میں حالات کے مطابق تبدیلی ہو سکتی ہے ؟ کیا روسی مسلمانوں میں بھی ابن تیممہ اور محمد عبدالوہاب نجدی کے حالات کی اشاعت ہوئی تھی؟… مفتی عالم جان جن کا حال میں انتقال ہو گیا ہے ان کی تحریک کی اصلی غایت کیا تھی؟ کیایہ محض تعلیمی تحریک تھی یا اس کامقصود ایک مذہبی انقلاب بھی تھا؟‘‘&lt;br /&gt;
اس وقت آئین پاکستان پر بحث مباحثہ جاری ہے۔ مذہبی مسئلہ میں امام کے اختیارات کی نوعیت پر بحث کرتے ہوئے علامہ اقبال سید سلیمان ندوی سے دریافت فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’زمانہ حال کی زبان میں یوںکہیے کہ آیا اسلامی کانسٹی ٹیوشن ان (امام) کو ایسا اختیار دیتی ہے امام ایک شخص واح د ہے یا جماعت بھی امام کے قائم مقا م ہو سکتیہے ۔۔ ؟ ہر اسلامی ملک کے لیے اپنا امام ہو یا تمام اسلامی ممالک کے لیے ایک واحد امام ہو؟ موخر الذکر صورت سے موجودہ فرق اسلامیہ کی موجودگی میں کیونکر بروئے کار آ سکتی ہے؟ مہربانی کر کے ان سوالات پر روشنی ڈالیے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی قسم کے بیسیوں سوالات ہیں جن کا حل تلاش کیاجا رہا ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9485</id>
		<title>ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے احساس خطر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9485"/>
		<updated>2018-06-27T19:27:01Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہندوستان میں علامہ کو اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق بہت بڑا خطرہ نطر آتا تھا۔ جس کے انسداد کی بعض ایسی کوششیں ان مکاتیب سے ملت کے سامنے آتی ہیں جو آج تک سب کی نظر سے پوشیدہ تھیںَ مسلمانوں اور اسلام کے لیے خطرہ ان کو ہندوستان کی تحریک قومیت اور مسلمانوں کی بے حسی اور بے راہ روی کی وجہ سے تھا۔ اشاعت اسلام کے لیے ان کے دل میں ایک تڑپ تھی۔ میر غلام بھیک صاحب نیرنگ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پرمقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس کا عنصر نہیں جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتاہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں علیٰ درجہ البصیرت یہ کہتا ہوںاور سیاسیات حاضرہ کے تھوڑے سے تجربے کے بعد کہ ہندوستان کی سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرہ عظیم ہے۔ میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرہ کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا یا کم از کم شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس روشن ضمری اور عاقبت بینی آج کون صاحب نظر داد نہ دے گا۔ مخدوم میراں شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت ہمت اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشر و اشاعت میں صرف کریں۔ اس تاریک زمانے میں حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے… افسوس شمال مغربی ہندوستان میں جن لوگوں نے عالم اسلام بلند کیا ان کی اولادیں دنیوی جاہ و منصب کے پیچھے پڑ کر تباہ ہو گئیں اور آج ان سے زیادہ جاہل کوئی مسلمان مشکل سے ملے گا الا ماشاء اللہ!‘‘&lt;br /&gt;
منشی صالح محمد صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اسلام پر ایک بڑا نازک وقت ہندوستان میں آ رہا ہے۔ سیاسی حقوق اور ملی تمدن کا تحفظ ایک طرف خود اسلام کی ہستی معرض خطر میں ہے۔ میں ایک مدت سے ا س مسئلہ پر غور کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ مسلمانوں کے لیے مقدم ہے کہ ایک بڑا نیشنل فنڈ قائم کریں جو ایک ٹرسٹ کی صورت میں ہوا اور اس کا روپیہ مسلمانوں کے تمدن اور ان کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور ان کی دینی اشاعت وغیرہ پر خرچ کیا جائے۔ اسی طرح ان کے اخبارات کی حالت درست کی جائے اور وہ تمام وسائل اختیار کیے جائیں جو زمانہ حال میں اقوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں…‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’مسلمانوں کی مختلف مقامات میں دینی اور سیاسی اعتبار سے تنظیم کی جائے قومی عساکر بنائے جائیں اور ان تمام وسائل سے اسلام کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اس کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
عام مسلمانوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ا س حالت زار اور ان کے لیے خطرہ عظیم کے عدم احساس کا ماتم اور اس خطرے کی نوعیت کو یوں واضح فرمایا ہے:&lt;br /&gt;
’’میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے مسلمانوں کو ابھی تک اس اک احساس نہیں کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس ملک ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اور اگر وقت پر موجودہ حالت کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی تو مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل اس ملک میں کیا ہو جائے گا۔ آئندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور پھیل اقوام کی طرح ہو جائے۔ اور رفتہ رفتہ ان کا دین اور کلچر اس ملک میں فنا ہوجائے اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لیے مجھے اپنے تمام کام چھوڑنے پڑے تو انشاء اللہ چھوڑ دوں گا۔ او ر اپنی زندگی کے باقی ایام اس مقصد جلیل کے لیے وقف کر دوں گا… ہم لوگ قیامت کے روز خدا اور رسولؐ کے سامنے جواب دہ ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کے انحطاط کے اسباب اورملت ہندیہ کے احیائے جدید کی تدابیر پر ہمیشہ نظر رہتی تھی۔ مسلمانان ہند کے انحطاط کا ایک سبب ان میں تنظیم اور یک جہتی و ہم آہنگی کا فقدان ہے ۱۹۳۳ء میں شیخ عبداللہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم آہنگی ایک ایسی چیز ہے کہ جو تمام سیاسی اور تمدنی مشکلات کا علاج ہے ہندی مسلمانوںکے کام اب تک محض اس وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں کہ یہ قوم ہم آہنگ نہ ہو سکی۔ اس کے افراد بالخصوص علماء اوروں کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنے رہے بلکہ اس وقت ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کو خود متحد ہو کر ہمت کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور انہیں دوسروں کی عیاری سے ہوشیار رہنے کی تلقین کے سلسلہ میں سید سلیمان ندوی کو تحریک خلافت کے زمانے میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مدت سے یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ تاثر ایک چھوٹی سی تضمین کی صورت میں منتقل ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں آپ کا اس بارہ میںکیا خیال ہے۔ واقعات صاف اور نمایاں ہیں مگرہندوستان کے سادہ لوح مسلمان نہیں سمجھتے اور لندن کے شیعوں کے اشارے پر ناچتے چلے جاتے ہیں افسوس مفصل عرض نہیں کر سکتا کہ زمانہ نازک ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہت آزمایا ہے غیروں کو تو نے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مگر آج ہے وقت خویش آزمائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مراد از شکستن چناں عار ناید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ از دیگراں خواستن مومیائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اصل شعر میں دیگراں کی جگہ ناکساں ہے میں نے یہ لفظی تغیر ارادۃً کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
یہ نہ سمجھیے کہ اقبال کی نظر صرف ننگ اسلام علماء ہی کے گناہوں پر تھی انگریزی خواں طبقے کے وہ لوگ جو ذاتی نفع کی خاطر ملت فروشی پر مائل اور اس طرح ملت میں انتشار کا باعث ہوتے تھے ان کی سیاہ کاریوں سے بھی علامہ کو بے حد قلق تھا۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں خود مسلمانوں کے انتشار سے بے حد درد مند ہوں اور گزشتہ چار پانچ سال کے تجربہ سے مجھے بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ پست فطرت ہے&lt;br /&gt;
                               *[[فتنہ قومیت و وطنیت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''مذہب سے دلچسپی اور فقہ اسلامی کی تشکیل جدید'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال غلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ع عاشق دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ زمانے کی نبض پر ان کا ہاتھ تھا۔ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط پر ان کا دل دکھتا تھا۔ مخالف قوتوں کے زور و اثر کو دیکھتے تھے اسباب انحطاط او رمشکلات کے مقابلہ کی صورتیں ان کے ذہن میں تھیں۔ کبھی ہماری بے حسی پر ان کا دل بیٹھ جاتاتھا  کبھی نامساعد زمانہ سے اسلام کے لیے جنگ آزمائی کا عزم ہوتا تھا اور اسلام کی فتح اور مسلمانوں کی کامرانی کے یقین پر ان کی زندگی موقوف تھی۔ مکاتیب کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے لیکن یاد رہے کہ اقبال کی نگاہ میں مذہب او رسیاست کی علیحدگی جائز نہ تھی۔ جہاں وہ مسلمانوں کے مذہبی انحطاط سے نالاں تھے وہاں ان کے سیاسی تنزل کا ماتم بھی جاری تھا جہاں دوستوں کو مذہب اسلام کے مسائل کی طرف متوجہ کرتے اور دنیا کے موجودہ رجحانات کے پیش نظر تعلیمات اسلامی کی بلندی کی دنیا میں تلقین کی تدابیر پیش کرتے تھے وہاں ممالک اسلامیہ کی سیاسی شیرازہ بندی اور استحکام کو ان کے لیے زندگی اور آبرو کا راز جانتے اور مانتے تھے اور جب اور جہاں جس طرح ممکن ہو ا ان ممالک کی خدمت کرتے تھے ان کی سب سے بڑی خدمت مسلمانوں کو اس مذہبی و سیاسی خدمت کی طرف متوجہ کرنا تھا اوران دونوں قسم کی خدمات میں ان کا حصہ رہنمایانہ تھا۔ سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ممالک اسلامیہ کے موجودہ حالات دیکھ کر بے انتہا اضطراب پیدا ہو رہاہے۔ ذاتی لحاظ سے خدا کے فضل وکرم سے میرا دل پورا مطمئن ہے۔ یہ بے چینی اور اضطراب محض اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل گھبر اکر کوئی دوسری راہ نہ اختیار کر لے۔ حال ہی میں ایک تعلیم یافتہ عرب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ فرانسیسی خوب بولتا تھا۔ مگر اسلام سے قطعاً بے خبر تھا۔ اس قسم کے واقعات مشاہدہ میں آتے ہیں تو سخت تکلیف ہوتی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی انحطاط کی علت ہندوستان میں تعلیم کا سراسر غیر مذہبی ہوجانا اور عربی زبان سے ناواقفیت بتائی گئی ہے۔ نیاز احمد خاں کو ۱۹۳۱ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مذہبی مسائل بالخصوص اسلامی مذہبی مسائل کے فہم کے لیے ایک خاص ترتیب کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں کی نئی پود اس سے باکل کوری ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تعلیم کا تمام تر غیر دینی ہو جانا اس مصیبت کا باعث ہوا ہے۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوست کوجو ہندوستان سے باہر گئے ہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’عربی سیکھنے کا موقع ہے خوب سیکھیے مگر مجھے اندیشہ ہے کہ عربی دانی سے آپ کی دلچسپی جو اب آپ کو فارسی لٹریچر سے ہے کم ہو جائے گی۔ کوئی آدمی عربی زبان کے چارم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے طالب علمی کے زمانے میں خاصی عربی سیکھ لی تھی مگر بعد میں اورمشاغل کی وجہ سے اس کا مطالعہ چھوٹ گیا تاہم مجھے اس زبان کی عظمت کا صحیح اندازہ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے دوست کو ۱۹۱۶ء میںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہندی مسلمانوں کی بڑی بدبختی یہ ہے کہ اس ملک سے عربی زبان کا علم اٹھ گیا ہے اورقرآن کی تفسیر میں محاورہ عرب سے بالکل کام نہیں لیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قناعت و توکل کے وہ معنی لیے جاتے ہیں جو عربی زبان میں ہرگز نہیں…اس طرح ان لوگوں نے نہایت بے دردی سے قرآن اور اسلام میں ہندی اور یونانی تخیلات داخل کر دیے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
مسلمانوں کی زبوں حالی اور بداعمالی اور ان کے مستقبل کی فکر دین و ملت کے دو خادموں کو رلاتی ہے۔ اور وہ ایک دوسرے کی تائید و اعانت کرتے اور ہمت بندھاتے ہیں سید سلیمان کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دنیا اس وقت ایک روحانی پیکار میںمصروف ہے۔ اس پیکار و انقلاب کا رخ معین کرنے والے قلوب و اذہان پر شک و ناامیدی کی حالت کبھی کبھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آ پ کا قلب قوی اور ذہن ہمہ گیر ہے۔ آپ اس حالت سے جلد نکل آئیں گے … آپ اس جماعت کا پیش خیمہ ہیں … اس جماعت کا دنیا میں عنقریب پیدا ہونا قطعی اور یقینی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مذہبی پستی اورناواقفیت کا فوری علاج بھی بتایا جا رہا ہے اور مذہبی شوق کے پیدا کرنے اور اسلام کی برتری دنیا پر واضح و ثابت کرنے کا مستقل نسخہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ مولانا عبدالماجد کو ۱۹۲۹ء میں مسلم یونیورسٹی کے نئے دور کا مطالعہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ علی گڑھ جا کر مذہبیی مضامین پر طلبہ سے گفتگوئیں کیا کریں تو نتائج بہت اچھے ہوں گے۔ باوجود بہت سی مخالف قوتوں کے جو ہندوستان میں مذہب کے خلاف (اور بالخصوص اسلام کے خلاف) ا س وقت عمل کر رہی ہیں مسلمان جوانوں کے دل میں اسلام کے لیے تڑپ ہے لیکن کوئی آدمی ہم میں نہیں کہ جس کی زندگی قلوب پر موثر ہو…‘‘&lt;br /&gt;
’’اسلام کے لیے اس ملک میں نازک وقت آ رہا ہے جن لوگوں کو کچھ احساس ہے ان کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش اس ملک میںکریں… علماء میں مداہنت آ گئی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’افسوس کہ زمانہ حال کے اسلامی فقہا یا تو زمانہ کے میلان طبیعت سے بالکل بے خبر ہیں یا قدامت پرستی میں مبتلا ہیں… ہندوستان میںعام حنفی اس بات کے قائل ہیں کہ اجتہاد کے تمام دروازے بند ہیں… میری رائے ناقص میں مذہب اسلام گویا زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے اور شاید تاریخ اسلام پر ایسا وقت اس سے پہلے نہیں آیا۔ ‘‘&lt;br /&gt;
حضرت علامہ نے فکر اسلامی کی تجدید و طرح نو کے لیے بہت کوشش فرمائی اور طرح طرح کے مسائل کی طرف خود بھی توجہ کی اور علماء کو بھی متوجہ کیا۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ فقہ اسلامی پر نئے سرے سے کتابیں لکھی جائیں۔ ایک دوست کو ایک عالم دین کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کیا اچھا ہو کہ وہ شریف محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مبسوط کتاب تحریر فرما دیں جس میں عبادات و معالات کے متعلق صرف قرآن سے استدلال کیا گیا ہو معاملات کے متعلق خاص طور پر اس قسم کی کتاب کی آج کل شدید ضڑورت ہے… اس پر ایک آدھ کتاب بھی تصنیف ہو چکی ہے ۔ اس سے زیادہ تر زمانہ حال کے مغربی اصول فقہ کو ملحوظ رکھ کر فقہ اسلامی پر بحث کی گئی ہے… ایک مدت سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ قرآن کامل کتاب ہے اور خود اپنے کمال کا مدعی ہے…لیکن ضرورت اس امر کی ہے ہ اس کے کمال کو عملی طور پر ثابت کیا جائے کہ سیاسیات انسانی کے لیے تمام ضروری قواعد موجود ہیں اوراسمیںفلاں فلاں آیات سے فلاں فلاں قواعد کا استخراج ہوتاہے نیز جو جو قواعد عبادات یا معاملات کے متعلق (بالخصوص موخر الذکر کے متعلق ) دیگر اقوا م میں اس وقت مروج ہیں ان پر قرآن نقطہ نگاہ سے تنقید کی جائے اور دکھایا جائے کہ وہ بالکل ناقص ہیں اور ان پر عمل کرنے سے نوع انسانی کبھی سیاست سے بہرہ اندوز نہیں ہو سکتی۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے جورس پروڈنس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا وہی اسلام کا مجدد ہو گا اوربنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم وہی شخص ہو گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال اس صورت حال کا مقابلہ علماء اسلام کی ایک جماعت تیار کرکے کرنا چاہتے تھے۔ اس جماعت کی تعلیم و تربیت کے لیے کس پایہ اور کن اوصاف کے اساتذہ کی ضرورت سمجھتے  تھے۔ اس کا اندازہ شیخ جامعہ ازہر کے نا م تحریک داراسلام سے متعلق ان کا مکتوب لائق توجہ ہے ۔ فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم ان کے لیے ایک لائبریری قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر قسم کی نئی اور پرانی کتابیں موجود ہوں۔ اور ان کی رہنمائی کے لیے ہم ایک ایسا معلم جو کامل اور صالح ہو اور قرآن حکیم میں بصارت تامہ رکھتا ہو ور نیز انقلا ب دو رحاضرہ سے بھی واقف ہو مقرر کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کو کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سے واقف کرے اور تفکر اسلامی کی تجدید یعنی فلسفہ حکمت اقتصادیات اور سیاسیات کے علوم میںان کی مدد کرے تاکہ وہ اپنے علم اور تحریروں کے ذریعے تمدن اسلامی کے دوبارہ زندہ کرنے میں جہاد کر سکیں‘‘۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9484</id>
		<title>ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے احساس خطر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9484"/>
		<updated>2018-06-27T19:23:37Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہندوستان میں علامہ کو اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق بہت بڑا خطرہ نطر آتا تھا۔ جس کے انسداد کی بعض ایسی کوششیں ان مکاتیب سے ملت کے سامنے آتی ہیں جو آج تک سب کی نظر سے پوشیدہ تھیںَ مسلمانوں اور اسلام کے لیے خطرہ ان کو ہندوستان کی تحریک قومیت اور مسلمانوں کی بے حسی اور بے راہ روی کی وجہ سے تھا۔ اشاعت اسلام کے لیے ان کے دل میں ایک تڑپ تھی۔ میر غلام بھیک صاحب نیرنگ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پرمقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس کا عنصر نہیں جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتاہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں علیٰ درجہ البصیرت یہ کہتا ہوںاور سیاسیات حاضرہ کے تھوڑے سے تجربے کے بعد کہ ہندوستان کی سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرہ عظیم ہے۔ میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرہ کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا یا کم از کم شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس روشن ضمری اور عاقبت بینی آج کون صاحب نظر داد نہ دے گا۔ مخدوم میراں شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت ہمت اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشر و اشاعت میں صرف کریں۔ اس تاریک زمانے میں حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے… افسوس شمال مغربی ہندوستان میں جن لوگوں نے عالم اسلام بلند کیا ان کی اولادیں دنیوی جاہ و منصب کے پیچھے پڑ کر تباہ ہو گئیں اور آج ان سے زیادہ جاہل کوئی مسلمان مشکل سے ملے گا الا ماشاء اللہ!‘‘&lt;br /&gt;
منشی صالح محمد صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اسلام پر ایک بڑا نازک وقت ہندوستان میں آ رہا ہے۔ سیاسی حقوق اور ملی تمدن کا تحفظ ایک طرف خود اسلام کی ہستی معرض خطر میں ہے۔ میں ایک مدت سے ا س مسئلہ پر غور کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ مسلمانوں کے لیے مقدم ہے کہ ایک بڑا نیشنل فنڈ قائم کریں جو ایک ٹرسٹ کی صورت میں ہوا اور اس کا روپیہ مسلمانوں کے تمدن اور ان کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور ان کی دینی اشاعت وغیرہ پر خرچ کیا جائے۔ اسی طرح ان کے اخبارات کی حالت درست کی جائے اور وہ تمام وسائل اختیار کیے جائیں جو زمانہ حال میں اقوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں…‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’مسلمانوں کی مختلف مقامات میں دینی اور سیاسی اعتبار سے تنظیم کی جائے قومی عساکر بنائے جائیں اور ان تمام وسائل سے اسلام کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اس کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
عام مسلمانوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ا س حالت زار اور ان کے لیے خطرہ عظیم کے عدم احساس کا ماتم اور اس خطرے کی نوعیت کو یوں واضح فرمایا ہے:&lt;br /&gt;
’’میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے مسلمانوں کو ابھی تک اس اک احساس نہیں کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس ملک ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اور اگر وقت پر موجودہ حالت کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی تو مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل اس ملک میں کیا ہو جائے گا۔ آئندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور پھیل اقوام کی طرح ہو جائے۔ اور رفتہ رفتہ ان کا دین اور کلچر اس ملک میں فنا ہوجائے اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لیے مجھے اپنے تمام کام چھوڑنے پڑے تو انشاء اللہ چھوڑ دوں گا۔ او ر اپنی زندگی کے باقی ایام اس مقصد جلیل کے لیے وقف کر دوں گا… ہم لوگ قیامت کے روز خدا اور رسولؐ کے سامنے جواب دہ ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کے انحطاط کے اسباب اورملت ہندیہ کے احیائے جدید کی تدابیر پر ہمیشہ نظر رہتی تھی۔ مسلمانان ہند کے انحطاط کا ایک سبب ان میں تنظیم اور یک جہتی و ہم آہنگی کا فقدان ہے ۱۹۳۳ء میں شیخ عبداللہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم آہنگی ایک ایسی چیز ہے کہ جو تمام سیاسی اور تمدنی مشکلات کا علاج ہے ہندی مسلمانوںکے کام اب تک محض اس وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں کہ یہ قوم ہم آہنگ نہ ہو سکی۔ اس کے افراد بالخصوص علماء اوروں کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنے رہے بلکہ اس وقت ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کو خود متحد ہو کر ہمت کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور انہیں دوسروں کی عیاری سے ہوشیار رہنے کی تلقین کے سلسلہ میں سید سلیمان ندوی کو تحریک خلافت کے زمانے میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مدت سے یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ تاثر ایک چھوٹی سی تضمین کی صورت میں منتقل ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں آپ کا اس بارہ میںکیا خیال ہے۔ واقعات صاف اور نمایاں ہیں مگرہندوستان کے سادہ لوح مسلمان نہیں سمجھتے اور لندن کے شیعوں کے اشارے پر ناچتے چلے جاتے ہیں افسوس مفصل عرض نہیں کر سکتا کہ زمانہ نازک ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہت آزمایا ہے غیروں کو تو نے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مگر آج ہے وقت خویش آزمائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مراد از شکستن چناں عار ناید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ از دیگراں خواستن مومیائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اصل شعر میں دیگراں کی جگہ ناکساں ہے میں نے یہ لفظی تغیر ارادۃً کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
یہ نہ سمجھیے کہ اقبال کی نظر صرف ننگ اسلام علماء ہی کے گناہوں پر تھی انگریزی خواں طبقے کے وہ لوگ جو ذاتی نفع کی خاطر ملت فروشی پر مائل اور اس طرح ملت میں انتشار کا باعث ہوتے تھے ان کی سیاہ کاریوں سے بھی علامہ کو بے حد قلق تھا۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں خود مسلمانوں کے انتشار سے بے حد درد مند ہوں اور گزشتہ چار پانچ سال کے تجربہ سے مجھے بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ پست فطرت ہے&lt;br /&gt;
                               *[[فتنہ قومیت و وطنیت]]*&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%81_%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C%D8%AA_%D9%88_%D9%88%D8%B7%D9%86%DB%8C%D8%AA&amp;diff=9482</id>
		<title>فتنہ قومیت و وطنیت</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%81_%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C%D8%AA_%D9%88_%D9%88%D8%B7%D9%86%DB%8C%D8%AA&amp;diff=9482"/>
		<updated>2018-06-27T19:22:06Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;  علامہ مرحوم ہندوسان میں مسلمانوں کی سیاسی و تمدنی برتری اور ان میں صحیح اسلامی تعلیمات...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علامہ مرحوم ہندوسان میں مسلمانوں کی سیاسی و تمدنی برتری اور ان میں صحیح اسلامی تعلیمات کے پیدا کرنے اور انہیں ان پر عمل پیر اہونے کے داعی تھے۔ جب کبھی اور جہاں کبھ انہیں ایسے اعمال و تحریکات سے سابقہ پڑا تھا جو مسلمانوں کو ان کے مقاصد عالیہ سے منحرف کرنے کے لیے کی جا رہی تھیں علامہ کی نگاہ دوربیں انہیںبھانپ لیتی تھی اور وہ ان کی مخالفت میں آواز بلند کرتے تھے حضرت علامہ نے فتنہ قومیت و وطنیت کو اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا اور وہ مسلمانوں میں اس عصبیت کے پیدا کرنے کے مخالف تھے۔ سیدسلیمان ندوی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’بزم اغیار کی رونق ضرور تھی۔ اسلام کا ہندوئوں کے ہاتھ پر بک جانا گوارانہیں ہو سکتا۔ افسوس اہل خلافت اپنی اصلی راہ سے بہت دو ر جا پڑے۔ وہ ہم کو ایک ایسی قومیت کی راہ دکھا رہے ہیں جس کو کوئی مخلص مسلمان ایک منٹ کے لیے بھی قبول نہیں کر سکتا‘‘۔&lt;br /&gt;
حضرت اکبر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اس وقت اسلام کا دشمن سائنس نہیں… اس کا دشمن یورپ کا جغرافیائی جذبہ قومیت ہے جس نے ترکوں کو خلافت کے خلاف اکسایا۔ مصرمیں مصریوں کے لیے کی آواز بلند کی او رہندوستان کو پین انڈین ڈیمو کریسی کا بے معنی خواب دکھایا‘‘۔&lt;br /&gt;
آخری ایام میں جو اذیت علامہ مرحوم کو بعض مسلمانوں کے ان اعمال سے ہوئی جن کانتیجہ ملت میں انتشار اور غیر اسلمای اصولوں کو عملاً تسلیم کرنا تھا ناقابل بیان ہے۔ اسی پر انہین مومن پرستد و کافر تراشد کی پھبتی سوجھتی تھیں۔ اور انہیں حالات سے مجبوراً انہوںنے دل چوں کندہ قصاب دارم پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بے نادید نی ہا دیدہ ام من&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرا اے کاش کہ مادر نزادے&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=9478</id>
		<title>Iqbalnama:Majmooa Makatib-e-Iqbal</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=9478"/>
		<updated>2018-06-27T19:18:34Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
*[[..دیباچہ..]]&lt;br /&gt;
*[[خلوص]]&lt;br /&gt;
*[[علم دوستی]]&lt;br /&gt;
*[[ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے احساس خطر]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9475</id>
		<title>ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے احساس خطر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA_%DA%A9%DB%92_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A8%D9%84_%DA%A9%DB%92_%D9%84%DB%8C%DB%92_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3_%D8%AE%D8%B7%D8%B1&amp;diff=9475"/>
		<updated>2018-06-27T19:14:40Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;  ہندوستان میں علامہ کو اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق بہت بڑا خطرہ نطر آتا تھا۔ ج...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہندوستان میں علامہ کو اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق بہت بڑا خطرہ نطر آتا تھا۔ جس کے انسداد کی بعض ایسی کوششیں ان مکاتیب سے ملت کے سامنے آتی ہیں جو آج تک سب کی نظر سے پوشیدہ تھیںَ مسلمانوں اور اسلام کے لیے خطرہ ان کو ہندوستان کی تحریک قومیت اور مسلمانوں کی بے حسی اور بے راہ روی کی وجہ سے تھا۔ اشاعت اسلام کے لیے ان کے دل میں ایک تڑپ تھی۔ میر غلام بھیک صاحب نیرنگ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پرمقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس کا عنصر نہیں جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویہ سے معلوم ہوتاہے تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں علیٰ درجہ البصیرت یہ کہتا ہوںاور سیاسیات حاضرہ کے تھوڑے سے تجربے کے بعد کہ ہندوستان کی سیاسیات کی روش جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے خود مذہب اسلام کے لیے ایک خطرہ عظیم ہے۔ میرے خیال میں شدھی کا خطرہ اس خطرہ کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں رکھتا یا کم از کم شدھی ہی کی ایک غیر محسوس صورت ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس روشن ضمری اور عاقبت بینی آج کون صاحب نظر داد نہ دے گا۔ مخدوم میراں شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق دے کہ آپ اپنی قوت ہمت اثر و رسوخ اور دولت و عظمت کو حقائق اسلام کی نشر و اشاعت میں صرف کریں۔ اس تاریک زمانے میں حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے… افسوس شمال مغربی ہندوستان میں جن لوگوں نے عالم اسلام بلند کیا ان کی اولادیں دنیوی جاہ و منصب کے پیچھے پڑ کر تباہ ہو گئیں اور آج ان سے زیادہ جاہل کوئی مسلمان مشکل سے ملے گا الا ماشاء اللہ!‘‘&lt;br /&gt;
منشی صالح محمد صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اسلام پر ایک بڑا نازک وقت ہندوستان میں آ رہا ہے۔ سیاسی حقوق اور ملی تمدن کا تحفظ ایک طرف خود اسلام کی ہستی معرض خطر میں ہے۔ میں ایک مدت سے ا س مسئلہ پر غور کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ مسلمانوں کے لیے مقدم ہے کہ ایک بڑا نیشنل فنڈ قائم کریں جو ایک ٹرسٹ کی صورت میں ہوا اور اس کا روپیہ مسلمانوں کے تمدن اور ان کے سیاسی حقوق کی حفاظت اور ان کی دینی اشاعت وغیرہ پر خرچ کیا جائے۔ اسی طرح ان کے اخبارات کی حالت درست کی جائے اور وہ تمام وسائل اختیار کیے جائیں جو زمانہ حال میں اقوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں…‘‘&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے:&lt;br /&gt;
’’مسلمانوں کی مختلف مقامات میں دینی اور سیاسی اعتبار سے تنظیم کی جائے قومی عساکر بنائے جائیں اور ان تمام وسائل سے اسلام کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اس کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
عام مسلمانوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ا س حالت زار اور ان کے لیے خطرہ عظیم کے عدم احساس کا ماتم اور اس خطرے کی نوعیت کو یوں واضح فرمایا ہے:&lt;br /&gt;
’’میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے مسلمانوں کو ابھی تک اس اک احساس نہیں کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس ملک ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اور اگر وقت پر موجودہ حالت کی اصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی تو مسلمانوں اور اسلام کا مستقبل اس ملک میں کیا ہو جائے گا۔ آئندہ نسلوں کی فکر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی زندگی گونڈ اور پھیل اقوام کی طرح ہو جائے۔ اور رفتہ رفتہ ان کا دین اور کلچر اس ملک میں فنا ہوجائے اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لیے مجھے اپنے تمام کام چھوڑنے پڑے تو انشاء اللہ چھوڑ دوں گا۔ او ر اپنی زندگی کے باقی ایام اس مقصد جلیل کے لیے وقف کر دوں گا… ہم لوگ قیامت کے روز خدا اور رسولؐ کے سامنے جواب دہ ہوں گے‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کے انحطاط کے اسباب اورملت ہندیہ کے احیائے جدید کی تدابیر پر ہمیشہ نظر رہتی تھی۔ مسلمانان ہند کے انحطاط کا ایک سبب ان میں تنظیم اور یک جہتی و ہم آہنگی کا فقدان ہے ۱۹۳۳ء میں شیخ عبداللہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہم آہنگی ایک ایسی چیز ہے کہ جو تمام سیاسی اور تمدنی مشکلات کا علاج ہے ہندی مسلمانوںکے کام اب تک محض اس وجہ سے بگڑے ہوئے ہیں کہ یہ قوم ہم آہنگ نہ ہو سکی۔ اس کے افراد بالخصوص علماء اوروں کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنے رہے بلکہ اس وقت ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ہندوستان کے مسلمانوں کو خود متحد ہو کر ہمت کرنے اور اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور انہیں دوسروں کی عیاری سے ہوشیار رہنے کی تلقین کے سلسلہ میں سید سلیمان ندوی کو تحریک خلافت کے زمانے میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مدت سے یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ یہ تاثر ایک چھوٹی سی تضمین کی صورت میں منتقل ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں آپ کا اس بارہ میںکیا خیال ہے۔ واقعات صاف اور نمایاں ہیں مگرہندوستان کے سادہ لوح مسلمان نہیں سمجھتے اور لندن کے شیعوں کے اشارے پر ناچتے چلے جاتے ہیں افسوس مفصل عرض نہیں کر سکتا کہ زمانہ نازک ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہت آزمایا ہے غیروں کو تو نے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مگر آج ہے وقت خویش آزمائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مراد از شکستن چناں عار ناید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ از دیگراں خواستن مومیائی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اصل شعر میں دیگراں کی جگہ ناکساں ہے میں نے یہ لفظی تغیر ارادۃً کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
یہ نہ سمجھیے کہ اقبال کی نظر صرف ننگ اسلام علماء ہی کے گناہوں پر تھی انگریزی خواں طبقے کے وہ لوگ جو ذاتی نفع کی خاطر ملت فروشی پر مائل اور اس طرح ملت میں انتشار کا باعث ہوتے تھے ان کی سیاہ کاریوں سے بھی علامہ کو بے حد قلق تھا۔ ایک دوست کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں خود مسلمانوں کے انتشار سے بے حد درد مند ہوں اور گزشتہ چار پانچ سال کے تجربہ سے مجھے بے حد افسردہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ پست فطرت ہے&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9471</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9471"/>
		<updated>2018-06-27T19:04:41Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
                  *[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]*&lt;br /&gt;
==شریعت اور تصوف==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’کئی صدیوں سے علماء اور صوفیا میں طاقت کے لیے جنگ ہو رہی تھی جس میں آخر کار صوفیا غالب آئے یہاں تک کہ اب برائے نام علماء جو باقی ہیں جب تک کسی خانوادے میں بیعت نہ لیتے ہوں ہر دل عزیز نہیں ہو سکتے۔ یہ روش گویا علماء کی طرف سے اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ مجدد الف ثانی عالمگیر اور مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہم نے اسلامی سیرت کے احیاء کی کوشش کی مگر صوفیا کی کثرت اور صدیوں کی جمع قوت نے اس گروہ احرا ر کو کامیاب نہ ہونے دیا‘‘۔&lt;br /&gt;
صوفیا نے لسان العصر کی تائید و اعانت حاصل کرنے کے لیے اسرار کی طرف انہیں توجہ دلائی اور انہوںنے تصوف اور بالخصوص حافظ کے متعلق علامہ کے اعتراضات کو عدم پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اقبا کو اس کے متعلق اطلاع دی۔ اقبال لسان العصر کو پیر و مرشد مانتے تھے اور کہتے تھے کہ پیر و مرشد سے کسی مرید بے ریا کا اختلاف بے حد قلق انگیز ہوتا ہے لیکن مرید نے پوری جرات اور مردانگی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا علامہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں نے خواجہ حافظ پر کہٰں یہ الزا م نہیں لگایا کہ ان کے دیوان سے مے کشی بڑھ گئی ہے۔ میرا اعتراض حافظ پر بالکل اور نوعیت کا ہے اسرار خودی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ایک لٹریری نصب العین کی تنقید تھی جو مسلمانوں میں کئی صدیوں سے پاپولر ہے۔ اپنے وقت پر اس نصب الععین سے ضرور فائدہ ہوا ۔ اس وقت یہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر بھی ہے۔ خواجہ حافظؒ کی ولایت سے اس تنقید میں کوئی سروکار نہ تھا۔ نہ ان کی شخصیت سے۔ نہ اشعار میں مے سے مراد وہ مے ہے جو لوگ ہوٹلوں میں پیتے ہیں بلکہ اس مے سے مراد وہ حالات سکر ہے جو حافظ کے کلام سے بحیثیت مجموعی پیدا ہوتی ہے چونکہ حافظ دلی اور عارف تصور کیے گئے ہیں اس واسطے ان کی شاعرانہ حیثیت عوام نے بالکل نظر انداز کر دی ہے اور میرے ریمارک تصو ف اور ولایت پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھے گئے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں حضرت اکبر سے التجا ئے انصاف کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معاف کیجیے گا آپ کے خطو ط سے یہ معلوم ہوا ہے کہ (ممکن ہے غلطی پر ہوں) کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی میں صرف وہی اشعار دیکھے ہیں جو حافظ کے متعلق لکھے گئے ہیں باقی اشعار پر شاید نظر نہیں فرمائی۔ کاش آپ کو ان کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی کہ آپ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محفوظ رہتے۔‘‘&lt;br /&gt;
اس کے بعد ایک خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ مجھے تناقض کا ملزم گردانتے ہیںَ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ میری بدنصیبی ہے یہ کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی کو اب تک پڑھا نہیں ہے۔ میں نے کسی گزشتہ خط میں عرض کیا تھا کہ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محترز رہنے کے لیے میری خاطر ایک دفعہ ضرور پڑھجائیے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ اعتراض نہ ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اعتراضات کی نوعیت اور جواب خطوط کی تفصیل سے موجود ہے۔&lt;br /&gt;
              &lt;br /&gt;
             *[[غیر اسلامی تصوف اور اس کے ادبی نصب العین سے بغاوت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==اردو==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبا ل نے اردو کی خدمت میں پوری زندگی بسر کر دی اردو شاعری اور زبان کو زیربار احسان کیا اگر وہ اردو زبان کی کچھ خدمت نہ کرتے تو اکنامکس کو اردومیں ڈھال دینے کی اولین کامیاب کوشش ان کے لیے باعث افتخار ہو سکتی تھی۔ لیکن وہ مدت العمر اس زبان کی خدمت کرتے رہے اور دوسروں کو اس کی خدمت کا شوق دلاتے رہے اوران کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ ان مکاتیب میں خود ان کی شہادت موجود ہے کہ جامعہ عثمانیہ کے ابتدائی دور میں وضع اصطلاحات میں مدد دیتے رہے۔ اردو کانفرنس میں دعوت شمولیت کے جواب میں مولوی عبدالحق کو لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
’’اس اہم معاملے میں کلیتہً آپ کے ساتھ ہوں اگرچہ میں اردو زبان کی بحیثیت زبان خدمت کرنے کی اہلیت نہیںرکھتا تاہم میری لسانیعصبیت دینی عصبیت سے کسی طرح کم نہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں مولوی صاحب موصوف کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ کی تحریک اس تحریک سے کسی طرح کم نہیں جس کی ابتدا سر سید احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ نے کی تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
تیسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کاش میں اپنی زندگی کے باقی دن آپ کے ساتھ رہ کر اردو کی خدمت کر سکتا‘‘&lt;br /&gt;
اقبال کو اپنے حالات کی بنا پر اردو نثر لکھنے کا اتفاق شاذ و نادر ہی ہوتا تھا۔ لیکن بعض اوقات وہ نثر میں بھی شاعری کیا کرتے تھے اور مختصر جملوں میں شعر کی طرح حقائق بیان کرنے پر قادر تھے۔ ایک دوست کو ایک مرتبہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’فکر روزی قاتل روح ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب کی ترقی اردو کے سلسلہ میں محنت و جانفشانی کی داد یہ کہہ کر دی ہے:&lt;br /&gt;
’’آپ ایک صاحب عزم آدمی ہیں اور یہ بات مجھے مدت سے معلوم تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
ان مکاتیب میں علامہ نے زبان کی سادگی کو ہاتھ سے نہیں دیا اور انشاء پردازی کے جوہر دکھانے کی کوشش نہیں کی؟ البتہ جہاں کہیں موضوع کی دلکشی نے ان کے لیے ایک موقع مہیا  کر دیا ہے۔ انہوںنے جو خیالات ذوق و جوش قلبی سے قلمبند کر دیے ہیں۔ ان میں زبان کی دلفریبی بدرجہ غایت موجود ہے۔ حضرات گرامی کو ۱۹۱۸ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’گرامی کو خاک پنجاب جذب کرے گی یا خاک خاک دکن اس سوال کے جواب میں حسب الحکم مراقبہ کیا گیا۔ جو انکشاف ہوا عرض کیا جاتا ہے۔ گرامی مسلم ہے اور مسلم تو وہ خاک نہیں کہ خاک اسے جذب کر سکے۔ یہ ایک قوت نورانیہ ہے جو جامع ہے جواہر موسویت اور ابراہمییت کی۔ آگ اسے چھو جاؤئے تو بردد سلام بن جائے۔ پانی اس کی ہیبت سے خشک ہو جائے۔ اسمان و زمین میں یہ سما نہیں سکتی۔ کہ یہ دونوں ہستیاں اس میں سمائی ہیں۔ پانی آگ جذب کر لیتا ہے عدم بود کو کھا جاتا ہے پستی بلندی میں سما جاتی ہے مگر جو قوت جامع اضداد ہو او رمحلل تمام تناقضات کی ہو اسے کون جذب کر ے۔ مسلم کو موت نہیں چھو سکتی کہ اس کی قوت حیات و موت کو اپنے اند ر جذب کر کے حیات و ممات کا تناقض مٹا چکی ہے… اس کی لاش خاک و خون میں تڑپ رہی تھی لیکن وہ ہستی جس کی آنکھوں میں دوشیزہ لڑکیوںسے بھی زیادہ حیا تھی جس کا قلب تاثرات لطیفہ کا سرچسمہ تھا۔ اس درد انگیز منظر سے مطلق متاثر نہ ہوئی نضیر کی بیٹی نے قتل کی خبر سنی تو نوحہ و فریاد کرتی ہوئی اور باپ کی جدائی میں درد انگیز اشعار پڑھتی ہوئی دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئی۔ اللہ اکبر اشعار سنے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر متاثر ہوئے کہ اس لڑکی کے ساتھ مل کر رونے لگے۔ یہاں تک کہ جوش ہمدردی نے اس سب سے زیادہ ضبط کرنے والے انسان کے سینے میں ایک آہ سرد نکلوا کر چھوڑی… پھر مسلم جو حامل ہے محدثیت کا ور وارث ہے موسویت کا اور ابراہیمیت کا کیونکر کسی شے میں جذب ہو سکتا ہے۔ البتہ زمان ومکان کی مقید دنیا کے مرکز میں ایک ریگستان ہے جو مسلم کو جذب کر سکتا ہے اور اس کی قوت جاذبہ ذوقی و فطری نہیں بلکہ مستعار ہے ایک کف پا سے جس نے اس ریگستان کے چمکتے ہوئے ذروں کو کبھی پامال کیا تھا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس مکتوب کو حصہ اول میں تمام و کمال پڑحیے اور اقبال کی انشاء پردازی اور مطالب جمیلہ کے اظہار پر اس کے کمال فن کی داد دیجیے۔ ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے۔ منشی محمد دین فوق کو لکھتے ہیں اور نفس مضمون اقبال کے لیے دلکشی رکھتا ہے۔ اقبال ولایت کے پہلے سفر  کے دوران میں سویز پہنچے تو مسلمان تاجروں کی ایک کثیر تعداد جہاز پر آ موجود ہوئی اقبال ان میں سے ایک سے سگریٹ خریدتے ہوئے اسے بتاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ اقبال کے سر پر ہیٹ دیکھ کر اسے تسلیم کرنے میں تامل ہوتا ہے:&lt;br /&gt;
’’آخر یہ شخص میرے اسلام کا قائل ہوا اور چونکہ حافظ قرآن تھا اس واسطے میں نے چند آیات قرآنی پڑھیں تو نہایت خوش ہوا اور میرے ہاتھ چومنے لگا ۔ باقی دکانداروں کو مجھ سے ملایا اور سب میرے گرد حلقہ باندھ کر ماشاء اللہ ماشاء اللہ کہنے لگے اورمیری عرض سفر معلوم کرکے دعائیں دینے لگے یا یوں کہیے کہ دو چار منٹ کے لیے وہ تجارت کی پستی سے ابھر کر اسلامی اخوت کی بلندی پر جا پہنچے۔ تھوڑی دیر کے بعد مصری نوجوانوں کا ایک نہایت خوبصورت گروہ جہاز کی سیر کو آیا۔ میں نے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو ان کے چہرے اس قدر مانوس معلوم ہوئے کہ مجھے ایک سیکنڈ کے لیے علی گڑھ کالج ڈیپوٹیشن کا شبہ ہوا۔ یہ لوگ جہاز کے ایک کنارے پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ میں بھی دخل در معقولات میں ان میں جا گھسا۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان ایسی خوبصورت عربی بولتا تھا جیسے حریری کا کوئی مقام پڑھ رہا ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں نہر سویز کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کسی شاعر کا قلم اور کسی سنگ تراش کا ہنر اس شخص کے تخیل کی داد نہیں دے سکتا جس نے اقوام عالم میں اس تجارتی تغیر کی بنیا د رکھی تھی… یہ کینال جسے ایک فرانسیسی انجینئر نے تعمیر کیا تھا دنیا کے عجائبا میں سے ایک ہے۔ کینال کیا ہے عرب اور افریقہ کی جدائی ہے۔ اور مشرق اور مغرب کا اتحاد۔ دنیا کی روحانی زندگی پر مہاتما بدھ نے بھی اس قدر اثر نہیں کیا جس قدر اس مغربی اختراع نے زمانہ حال کی تجارت پر کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
'''سید غلام میراں شاہ کو لکھتے ہیں:'''&lt;br /&gt;
’’حج بیت اللہ کی آرزو تو گزشتہ دو تین سال سے میرے دل میں بھی ہے۔ خدا تعالیٰ ہر پہلو سے استطاعت فرمائے تو یہ آرزو پوری ہو۔ آپ رفیق راہ ہوں تو مزید برکت کا باعث ہو… چند روز ہوئے سر اکبرحیدری وزیر اعظم حیدر آباد کا خط مجھ کو ولایت سے آیا تھا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ حج بیت اللہ اگر تمہاری معیت میں نصیب ہو تو بڑی خوشی کی بات ہے۔ لیکن درویشوں کے قافلہ میں جو لذت و راحت ہے وہ امیروں کی معیت میں کیونکر نصیب ہو سکتا ہے‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
 '''زبان کی ترقی کا راز'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سردار عبدالرب خاںنشتر کو ۱۹۲۳ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
زبان کو میں ایک بت تصورنہیں کرتا جس کی پرستش کی جائے بلکہ اظہار مطالب کا ایک انسانی ذریعہ خیال کرتا ہوں زندہ زبان انسانی خیالات کے انقلاب کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اور جب میں اس انقلاب کی صلاحیت نہیں رہتی تو مردہ ہو جاتی ہے۔ ہاں تراکیب کے وضع کرنے میں مذاق سلیم کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہیے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی مضمون پر مولوی عبدالحق صاحب کو چودہ برس بعد لکھا ہے:&lt;br /&gt;
زبانیں اپنی اندرونی قوتوں سے نشوونما پاتی ہیں اورنئے نئے خیالات و جذبات کے ادا کر سکنے پر ان کے بقا کا انحصار ہے‘‘&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9470</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9470"/>
		<updated>2018-06-27T18:59:01Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
                  *[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]*&lt;br /&gt;
==شریعت اور تصوف==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’کئی صدیوں سے علماء اور صوفیا میں طاقت کے لیے جنگ ہو رہی تھی جس میں آخر کار صوفیا غالب آئے یہاں تک کہ اب برائے نام علماء جو باقی ہیں جب تک کسی خانوادے میں بیعت نہ لیتے ہوں ہر دل عزیز نہیں ہو سکتے۔ یہ روش گویا علماء کی طرف سے اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ مجدد الف ثانی عالمگیر اور مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہم نے اسلامی سیرت کے احیاء کی کوشش کی مگر صوفیا کی کثرت اور صدیوں کی جمع قوت نے اس گروہ احرا ر کو کامیاب نہ ہونے دیا‘‘۔&lt;br /&gt;
صوفیا نے لسان العصر کی تائید و اعانت حاصل کرنے کے لیے اسرار کی طرف انہیں توجہ دلائی اور انہوںنے تصوف اور بالخصوص حافظ کے متعلق علامہ کے اعتراضات کو عدم پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اقبا کو اس کے متعلق اطلاع دی۔ اقبال لسان العصر کو پیر و مرشد مانتے تھے اور کہتے تھے کہ پیر و مرشد سے کسی مرید بے ریا کا اختلاف بے حد قلق انگیز ہوتا ہے لیکن مرید نے پوری جرات اور مردانگی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا علامہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں نے خواجہ حافظ پر کہٰں یہ الزا م نہیں لگایا کہ ان کے دیوان سے مے کشی بڑھ گئی ہے۔ میرا اعتراض حافظ پر بالکل اور نوعیت کا ہے اسرار خودی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ایک لٹریری نصب العین کی تنقید تھی جو مسلمانوں میں کئی صدیوں سے پاپولر ہے۔ اپنے وقت پر اس نصب الععین سے ضرور فائدہ ہوا ۔ اس وقت یہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر بھی ہے۔ خواجہ حافظؒ کی ولایت سے اس تنقید میں کوئی سروکار نہ تھا۔ نہ ان کی شخصیت سے۔ نہ اشعار میں مے سے مراد وہ مے ہے جو لوگ ہوٹلوں میں پیتے ہیں بلکہ اس مے سے مراد وہ حالات سکر ہے جو حافظ کے کلام سے بحیثیت مجموعی پیدا ہوتی ہے چونکہ حافظ دلی اور عارف تصور کیے گئے ہیں اس واسطے ان کی شاعرانہ حیثیت عوام نے بالکل نظر انداز کر دی ہے اور میرے ریمارک تصو ف اور ولایت پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھے گئے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں حضرت اکبر سے التجا ئے انصاف کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معاف کیجیے گا آپ کے خطو ط سے یہ معلوم ہوا ہے کہ (ممکن ہے غلطی پر ہوں) کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی میں صرف وہی اشعار دیکھے ہیں جو حافظ کے متعلق لکھے گئے ہیں باقی اشعار پر شاید نظر نہیں فرمائی۔ کاش آپ کو ان کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی کہ آپ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محفوظ رہتے۔‘‘&lt;br /&gt;
اس کے بعد ایک خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ مجھے تناقض کا ملزم گردانتے ہیںَ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ میری بدنصیبی ہے یہ کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی کو اب تک پڑھا نہیں ہے۔ میں نے کسی گزشتہ خط میں عرض کیا تھا کہ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محترز رہنے کے لیے میری خاطر ایک دفعہ ضرور پڑھجائیے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ اعتراض نہ ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اعتراضات کی نوعیت اور جواب خطوط کی تفصیل سے موجود ہے۔&lt;br /&gt;
              &lt;br /&gt;
             *[[غیر اسلامی تصوف اور اس کے ادبی نصب العین سے بغاوت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==اردو==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبا ل نے اردو کی خدمت میں پوری زندگی بسر کر دی اردو شاعری اور زبان کو زیربار احسان کیا اگر وہ اردو زبان کی کچھ خدمت نہ کرتے تو اکنامکس کو اردومیں ڈھال دینے کی اولین کامیاب کوشش ان کے لیے باعث افتخار ہو سکتی تھی۔ لیکن وہ مدت العمر اس زبان کی خدمت کرتے رہے اور دوسروں کو اس کی خدمت کا شوق دلاتے رہے اوران کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ ان مکاتیب میں خود ان کی شہادت موجود ہے کہ جامعہ عثمانیہ کے ابتدائی دور میں وضع اصطلاحات میں مدد دیتے رہے۔ اردو کانفرنس میں دعوت شمولیت کے جواب میں مولوی عبدالحق کو لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
’’اس اہم معاملے میں کلیتہً آپ کے ساتھ ہوں اگرچہ میں اردو زبان کی بحیثیت زبان خدمت کرنے کی اہلیت نہیںرکھتا تاہم میری لسانیعصبیت دینی عصبیت سے کسی طرح کم نہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں مولوی صاحب موصوف کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ کی تحریک اس تحریک سے کسی طرح کم نہیں جس کی ابتدا سر سید احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ نے کی تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
تیسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کاش میں اپنی زندگی کے باقی دن آپ کے ساتھ رہ کر اردو کی خدمت کر سکتا‘‘&lt;br /&gt;
اقبال کو اپنے حالات کی بنا پر اردو نثر لکھنے کا اتفاق شاذ و نادر ہی ہوتا تھا۔ لیکن بعض اوقات وہ نثر میں بھی شاعری کیا کرتے تھے اور مختصر جملوں میں شعر کی طرح حقائق بیان کرنے پر قادر تھے۔ ایک دوست کو ایک مرتبہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’فکر روزی قاتل روح ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب کی ترقی اردو کے سلسلہ میں محنت و جانفشانی کی داد یہ کہہ کر دی ہے:&lt;br /&gt;
’’آپ ایک صاحب عزم آدمی ہیں اور یہ بات مجھے مدت سے معلوم تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
ان مکاتیب میں علامہ نے زبان کی سادگی کو ہاتھ سے نہیں دیا اور انشاء پردازی کے جوہر دکھانے کی کوشش نہیں کی؟ البتہ جہاں کہیں موضوع کی دلکشی نے ان کے لیے ایک موقع مہیا  کر دیا ہے۔ انہوںنے جو خیالات ذوق و جوش قلبی سے قلمبند کر دیے ہیں۔ ان میں زبان کی دلفریبی بدرجہ غایت موجود ہے۔ حضرات گرامی کو ۱۹۱۸ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’گرامی کو خاک پنجاب جذب کرے گی یا خاک خاک دکن اس سوال کے جواب میں حسب الحکم مراقبہ کیا گیا۔ جو انکشاف ہوا عرض کیا جاتا ہے۔ گرامی مسلم ہے اور مسلم تو وہ خاک نہیں کہ خاک اسے جذب کر سکے۔ یہ ایک قوت نورانیہ ہے جو جامع ہے جواہر موسویت اور ابراہمییت کی۔ آگ اسے چھو جاؤئے تو بردد سلام بن جائے۔ پانی اس کی ہیبت سے خشک ہو جائے۔ اسمان و زمین میں یہ سما نہیں سکتی۔ کہ یہ دونوں ہستیاں اس میں سمائی ہیں۔ پانی آگ جذب کر لیتا ہے عدم بود کو کھا جاتا ہے پستی بلندی میں سما جاتی ہے مگر جو قوت جامع اضداد ہو او رمحلل تمام تناقضات کی ہو اسے کون جذب کر ے۔ مسلم کو موت نہیں چھو سکتی کہ اس کی قوت حیات و موت کو اپنے اند ر جذب کر کے حیات و ممات کا تناقض مٹا چکی ہے… اس کی لاش خاک و خون میں تڑپ رہی تھی لیکن وہ ہستی جس کی آنکھوں میں دوشیزہ لڑکیوںسے بھی زیادہ حیا تھی جس کا قلب تاثرات لطیفہ کا سرچسمہ تھا۔ اس درد انگیز منظر سے مطلق متاثر نہ ہوئی نضیر کی بیٹی نے قتل کی خبر سنی تو نوحہ و فریاد کرتی ہوئی اور باپ کی جدائی میں درد انگیز اشعار پڑھتی ہوئی دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئی۔ اللہ اکبر اشعار سنے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر متاثر ہوئے کہ اس لڑکی کے ساتھ مل کر رونے لگے۔ یہاں تک کہ جوش ہمدردی نے اس سب سے زیادہ ضبط کرنے والے انسان کے سینے میں ایک آہ سرد نکلوا کر چھوڑی… پھر مسلم جو حامل ہے محدثیت کا ور وارث ہے موسویت کا اور ابراہیمیت کا کیونکر کسی شے میں جذب ہو سکتا ہے۔ البتہ زمان ومکان کی مقید دنیا کے مرکز میں ایک ریگستان ہے جو مسلم کو جذب کر سکتا ہے اور اس کی قوت جاذبہ ذوقی و فطری نہیں بلکہ مستعار ہے ایک کف پا سے جس نے اس ریگستان کے چمکتے ہوئے ذروں کو کبھی پامال کیا تھا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس مکتوب کو حصہ اول میں تمام و کمال پڑحیے اور اقبال کی انشاء پردازی اور مطالب جمیلہ کے اظہار پر اس کے کمال فن کی داد دیجیے۔ ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے۔ منشی محمد دین فوق کو لکھتے ہیں اور نفس مضمون اقبال کے لیے دلکشی رکھتا ہے۔ اقبال ولایت کے پہلے سفر  کے دوران میں سویز پہنچے تو مسلمان تاجروں کی ایک کثیر تعداد جہاز پر آ موجود ہوئی اقبال ان میں سے ایک سے سگریٹ خریدتے ہوئے اسے بتاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ اقبال کے سر پر ہیٹ دیکھ کر اسے تسلیم کرنے میں تامل ہوتا ہے:&lt;br /&gt;
’’آخر یہ شخص میرے اسلام کا قائل ہوا اور چونکہ حافظ قرآن تھا اس واسطے میں نے چند آیات قرآنی پڑھیں تو نہایت خوش ہوا اور میرے ہاتھ چومنے لگا ۔ باقی دکانداروں کو مجھ سے ملایا اور سب میرے گرد حلقہ باندھ کر ماشاء اللہ ماشاء اللہ کہنے لگے اورمیری عرض سفر معلوم کرکے دعائیں دینے لگے یا یوں کہیے کہ دو چار منٹ کے لیے وہ تجارت کی پستی سے ابھر کر اسلامی اخوت کی بلندی پر جا پہنچے۔ تھوڑی دیر کے بعد مصری نوجوانوں کا ایک نہایت خوبصورت گروہ جہاز کی سیر کو آیا۔ میں نے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو ان کے چہرے اس قدر مانوس معلوم ہوئے کہ مجھے ایک سیکنڈ کے لیے علی گڑھ کالج ڈیپوٹیشن کا شبہ ہوا۔ یہ لوگ جہاز کے ایک کنارے پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ میں بھی دخل در معقولات میں ان میں جا گھسا۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان ایسی خوبصورت عربی بولتا تھا جیسے حریری کا کوئی مقام پڑھ رہا ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں نہر سویز کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کسی شاعر کا قلم اور کسی سنگ تراش کا ہنر اس شخص کے تخیل کی داد نہیں دے سکتا جس نے اقوام عالم میں اس تجارتی تغیر کی بنیا د رکھی تھی… یہ کینال جسے ایک فرانسیسی انجینئر نے تعمیر کیا تھا دنیا کے عجائبا میں سے ایک ہے۔ کینال کیا ہے عرب اور افریقہ کی جدائی ہے۔ اور مشرق اور مغرب کا اتحاد۔ دنیا کی روحانی زندگی پر مہاتما بدھ نے بھی اس قدر اثر نہیں کیا جس قدر اس مغربی اختراع نے زمانہ حال کی تجارت پر کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
'''سید غلام میراں شاہ کو لکھتے ہیں:'''&lt;br /&gt;
’’حج بیت اللہ کی آرزو تو گزشتہ دو تین سال سے میرے دل میں بھی ہے۔ خدا تعالیٰ ہر پہلو سے استطاعت فرمائے تو یہ آرزو پوری ہو۔ آپ رفیق راہ ہوں تو مزید برکت کا باعث ہو… چند روز ہوئے سر اکبرحیدری وزیر اعظم حیدر آباد کا خط مجھ کو ولایت سے آیا تھا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ حج بیت اللہ اگر تمہاری معیت میں نصیب ہو تو بڑی خوشی کی بات ہے۔ لیکن درویشوں کے قافلہ میں جو لذت و راحت ہے وہ امیروں کی معیت میں کیونکر نصیب ہو سکتا ہے‘‘&lt;br /&gt;
'''زبان کی ترقی کا راز'''&lt;br /&gt;
سردار عبدالرب خاںنشتر کو ۱۹۲۳ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
زبان کو میں ایک بت تصورنہیں کرتا جس کی پرستش کی جائے بلکہ اظہار مطالب کا ایک انسانی ذریعہ خیال کرتا ہوں زندہ زبان انسانی خیالات کے انقلاب کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اور جب میں اس انقلاب کی صلاحیت نہیں رہتی تو مردہ ہو جاتی ہے۔ ہاں تراکیب کے وضع کرنے میں مذاق سلیم کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہیے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی مضمون پر مولوی عبدالحق صاحب کو چودہ برس بعد لکھا ہے:&lt;br /&gt;
زبانیں اپنی اندرونی قوتوں سے نشوونما پاتی ہیں اورنئے نئے خیالات و جذبات کے ادا کر سکنے پر ان کے بقا کا انحصار ہے‘‘&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9469</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9469"/>
		<updated>2018-06-27T18:48:25Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
                  *[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]*&lt;br /&gt;
==شریعت اور تصوف==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’کئی صدیوں سے علماء اور صوفیا میں طاقت کے لیے جنگ ہو رہی تھی جس میں آخر کار صوفیا غالب آئے یہاں تک کہ اب برائے نام علماء جو باقی ہیں جب تک کسی خانوادے میں بیعت نہ لیتے ہوں ہر دل عزیز نہیں ہو سکتے۔ یہ روش گویا علماء کی طرف سے اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ مجدد الف ثانی عالمگیر اور مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہم نے اسلامی سیرت کے احیاء کی کوشش کی مگر صوفیا کی کثرت اور صدیوں کی جمع قوت نے اس گروہ احرا ر کو کامیاب نہ ہونے دیا‘‘۔&lt;br /&gt;
صوفیا نے لسان العصر کی تائید و اعانت حاصل کرنے کے لیے اسرار کی طرف انہیں توجہ دلائی اور انہوںنے تصوف اور بالخصوص حافظ کے متعلق علامہ کے اعتراضات کو عدم پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اقبا کو اس کے متعلق اطلاع دی۔ اقبال لسان العصر کو پیر و مرشد مانتے تھے اور کہتے تھے کہ پیر و مرشد سے کسی مرید بے ریا کا اختلاف بے حد قلق انگیز ہوتا ہے لیکن مرید نے پوری جرات اور مردانگی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا علامہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں نے خواجہ حافظ پر کہٰں یہ الزا م نہیں لگایا کہ ان کے دیوان سے مے کشی بڑھ گئی ہے۔ میرا اعتراض حافظ پر بالکل اور نوعیت کا ہے اسرار خودی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ایک لٹریری نصب العین کی تنقید تھی جو مسلمانوں میں کئی صدیوں سے پاپولر ہے۔ اپنے وقت پر اس نصب الععین سے ضرور فائدہ ہوا ۔ اس وقت یہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر بھی ہے۔ خواجہ حافظؒ کی ولایت سے اس تنقید میں کوئی سروکار نہ تھا۔ نہ ان کی شخصیت سے۔ نہ اشعار میں مے سے مراد وہ مے ہے جو لوگ ہوٹلوں میں پیتے ہیں بلکہ اس مے سے مراد وہ حالات سکر ہے جو حافظ کے کلام سے بحیثیت مجموعی پیدا ہوتی ہے چونکہ حافظ دلی اور عارف تصور کیے گئے ہیں اس واسطے ان کی شاعرانہ حیثیت عوام نے بالکل نظر انداز کر دی ہے اور میرے ریمارک تصو ف اور ولایت پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھے گئے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں حضرت اکبر سے التجا ئے انصاف کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معاف کیجیے گا آپ کے خطو ط سے یہ معلوم ہوا ہے کہ (ممکن ہے غلطی پر ہوں) کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی میں صرف وہی اشعار دیکھے ہیں جو حافظ کے متعلق لکھے گئے ہیں باقی اشعار پر شاید نظر نہیں فرمائی۔ کاش آپ کو ان کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی کہ آپ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محفوظ رہتے۔‘‘&lt;br /&gt;
اس کے بعد ایک خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ مجھے تناقض کا ملزم گردانتے ہیںَ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ میری بدنصیبی ہے یہ کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی کو اب تک پڑھا نہیں ہے۔ میں نے کسی گزشتہ خط میں عرض کیا تھا کہ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محترز رہنے کے لیے میری خاطر ایک دفعہ ضرور پڑھجائیے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ اعتراض نہ ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اعتراضات کی نوعیت اور جواب خطوط کی تفصیل سے موجود ہے۔&lt;br /&gt;
              &lt;br /&gt;
             *[[غیر اسلامی تصوف اور اس کے ادبی نصب العین سے بغاوت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==اردو==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبا ل نے اردو کی خدمت میں پوری زندگی بسر کر دی اردو شاعری اور زبان کو زیربار احسان کیا اگر وہ اردو زبان کی کچھ خدمت نہ کرتے تو اکنامکس کو اردومیں ڈھال دینے کی اولین کامیاب کوشش ان کے لیے باعث افتخار ہو سکتی تھی۔ لیکن وہ مدت العمر اس زبان کی خدمت کرتے رہے اور دوسروں کو اس کی خدمت کا شوق دلاتے رہے اوران کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ ان مکاتیب میں خود ان کی شہادت موجود ہے کہ جامعہ عثمانیہ کے ابتدائی دور میں وضع اصطلاحات میں مدد دیتے رہے۔ اردو کانفرنس میں دعوت شمولیت کے جواب میں مولوی عبدالحق کو لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
’’اس اہم معاملے میں کلیتہً آپ کے ساتھ ہوں اگرچہ میں اردو زبان کی بحیثیت زبان خدمت کرنے کی اہلیت نہیںرکھتا تاہم میری لسانیعصبیت دینی عصبیت سے کسی طرح کم نہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں مولوی صاحب موصوف کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ کی تحریک اس تحریک سے کسی طرح کم نہیں جس کی ابتدا سر سید احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ نے کی تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
تیسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کاش میں اپنی زندگی کے باقی دن آپ کے ساتھ رہ کر اردو کی خدمت کر سکتا‘‘&lt;br /&gt;
اقبال کو اپنے حالات کی بنا پر اردو نثر لکھنے کا اتفاق شاذ و نادر ہی ہوتا تھا۔ لیکن بعض اوقات وہ نثر میں بھی شاعری کیا کرتے تھے اور مختصر جملوں میں شعر کی طرح حقائق بیان کرنے پر قادر تھے۔ ایک دوست کو ایک مرتبہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’فکر روزی قاتل روح ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب کی ترقی اردو کے سلسلہ میں محنت و جانفشانی کی داد یہ کہہ کر دی ہے:&lt;br /&gt;
’’آپ ایک صاحب عزم آدمی ہیں اور یہ بات مجھے مدت سے معلوم تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
ان مکاتیب میں علامہ نے زبان کی سادگی کو ہاتھ سے نہیں دیا اور انشاء پردازی کے جوہر دکھانے کی کوشش نہیں کی؟ البتہ جہاں کہیں موضوع کی دلکشی نے ان کے لیے ایک موقع مہیا  کر دیا ہے۔ انہوںنے جو خیالات ذوق و جوش قلبی سے قلمبند کر دیے ہیں۔ ان میں زبان کی دلفریبی بدرجہ غایت موجود ہے۔ حضرات گرامی کو ۱۹۱۸ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’گرامی کو خاک پنجاب جذب کرے گی یا خاک خاک دکن اس سوال کے جواب میں حسب الحکم مراقبہ کیا گیا۔ جو انکشاف ہوا عرض کیا جاتا ہے۔ گرامی مسلم ہے اور مسلم تو وہ خاک نہیں کہ خاک اسے جذب کر سکے۔ یہ ایک قوت نورانیہ ہے جو جامع ہے جواہر موسویت اور ابراہمییت کی۔ آگ اسے چھو جاؤئے تو بردد سلام بن جائے۔ پانی اس کی ہیبت سے خشک ہو جائے۔ اسمان و زمین میں یہ سما نہیں سکتی۔ کہ یہ دونوں ہستیاں اس میں سمائی ہیں۔ پانی آگ جذب کر لیتا ہے عدم بود کو کھا جاتا ہے پستی بلندی میں سما جاتی ہے مگر جو قوت جامع اضداد ہو او رمحلل تمام تناقضات کی ہو اسے کون جذب کر ے۔ مسلم کو موت نہیں چھو سکتی کہ اس کی قوت حیات و موت کو اپنے اند ر جذب کر کے حیات و ممات کا تناقض مٹا چکی ہے… اس کی لاش خاک و خون میں تڑپ رہی تھی لیکن وہ ہستی جس کی آنکھوں میں دوشیزہ لڑکیوںسے بھی زیادہ حیا تھی جس کا قلب تاثرات لطیفہ کا سرچسمہ تھا۔ اس درد انگیز منظر سے مطلق متاثر نہ ہوئی نضیر کی بیٹی نے قتل کی خبر سنی تو نوحہ و فریاد کرتی ہوئی اور باپ کی جدائی میں درد انگیز اشعار پڑھتی ہوئی دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئی۔ اللہ اکبر اشعار سنے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر متاثر ہوئے کہ اس لڑکی کے ساتھ مل کر رونے لگے۔ یہاں تک کہ جوش ہمدردی نے اس سب سے زیادہ ضبط کرنے والے انسان کے سینے میں ایک آہ سرد نکلوا کر چھوڑی… پھر مسلم جو حامل ہے محدثیت کا ور وارث ہے موسویت کا اور ابراہیمیت کا کیونکر کسی شے میں جذب ہو سکتا ہے۔ البتہ زمان ومکان کی مقید دنیا کے مرکز میں ایک ریگستان ہے جو مسلم کو جذب کر سکتا ہے اور اس کی قوت جاذبہ ذوقی و فطری نہیں بلکہ مستعار ہے ایک کف پا سے جس نے اس ریگستان کے چمکتے ہوئے ذروں کو کبھی پامال کیا تھا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس مکتوب کو حصہ اول میں تمام و کمال پڑحیے اور اقبال کی انشاء پردازی اور مطالب جمیلہ کے اظہار پر اس کے کمال فن کی داد دیجیے۔ ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے۔ منشی محمد دین فوق کو لکھتے ہیں اور نفس مضمون اقبال کے لیے دلکشی رکھتا ہے۔ اقبال ولایت کے پہلے سفر  کے دوران میں سویز پہنچے تو مسلمان تاجروں کی ایک کثیر تعداد جہاز پر آ موجود ہوئی اقبال ان میں سے ایک سے سگریٹ خریدتے ہوئے اسے بتاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ اقبال کے سر پر ہیٹ دیکھ کر اسے تسلیم کرنے میں تامل ہوتا ہے:&lt;br /&gt;
’’آخر یہ شخص میرے اسلام کا قائل ہوا اور چونکہ حافظ قرآن تھا اس واسطے میں نے چند آیات قرآنی پڑھیں تو نہایت خوش ہوا اور میرے ہاتھ چومنے لگا ۔ باقی دکانداروں کو مجھ سے ملایا اور سب میرے گرد حلقہ باندھ کر ماشاء اللہ ماشاء اللہ کہنے لگے اورمیری عرض سفر معلوم کرکے دعائیں دینے لگے یا یوں کہیے کہ دو چار منٹ کے لیے وہ تجارت کی پستی سے ابھر کر اسلامی اخوت کی بلندی پر جا پہنچے۔ تھوڑی دیر کے بعد مصری نوجوانوں کا ایک نہایت خوبصورت گروہ جہاز کی سیر کو آیا۔ میں نے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو ان کے چہرے اس قدر مانوس معلوم ہوئے کہ مجھے ایک سیکنڈ کے لیے علی گڑھ کالج ڈیپوٹیشن کا شبہ ہوا۔ یہ لوگ جہاز کے ایک کنارے پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ میں بھی دخل در معقولات میں ان میں جا گھسا۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان ایسی خوبصورت عربی بولتا تھا جیسے حریری کا کوئی مقام پڑھ رہا ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں نہر سویز کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کسی شاعر کا قلم اور کسی سنگ تراش کا ہنر اس شخص کے تخیل کی داد نہیں دے سکتا جس نے اقوام عالم میں اس تجارتی تغیر کی بنیا د رکھی تھی… یہ کینال جسے ایک فرانسیسی انجینئر نے تعمیر کیا تھا دنیا کے عجائبا میں سے ایک ہے۔ کینال کیا ہے عرب اور افریقہ کی جدائی ہے۔ اور مشرق اور مغرب کا اتحاد۔ دنیا کی روحانی زندگی پر مہاتما بدھ نے بھی اس قدر اثر نہیں کیا جس قدر اس مغربی اختراع نے زمانہ حال کی تجارت پر کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
'''سید غلام میراں شاہ کو لکھتے ہیں:'''&lt;br /&gt;
’’حج بیت اللہ کی آرزو تو گزشتہ دو تین سال سے میرے دل میں بھی ہے۔ خدا تعالیٰ ہر پہلو سے استطاعت فرمائے تو یہ آرزو پوری ہو۔ آپ رفیق راہ ہوں تو مزید برکت کا باعث ہو… چند روز ہوئے سر اکبرحیدری وزیر اعظم حیدر آباد کا خط مجھ کو ولایت سے آیا تھا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ حج بیت اللہ اگر تمہاری معیت میں نصیب ہو تو بڑی خوشی کی بات ہے۔ لیکن درویشوں کے قافلہ میں جو لذت و راحت ہے وہ امیروں کی معیت میں کیونکر نصیب ہو سکتا ہے‘‘&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9467</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9467"/>
		<updated>2018-06-27T18:47:00Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
                  *[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]*&lt;br /&gt;
==شریعت اور تصوف==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’کئی صدیوں سے علماء اور صوفیا میں طاقت کے لیے جنگ ہو رہی تھی جس میں آخر کار صوفیا غالب آئے یہاں تک کہ اب برائے نام علماء جو باقی ہیں جب تک کسی خانوادے میں بیعت نہ لیتے ہوں ہر دل عزیز نہیں ہو سکتے۔ یہ روش گویا علماء کی طرف سے اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ مجدد الف ثانی عالمگیر اور مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہم نے اسلامی سیرت کے احیاء کی کوشش کی مگر صوفیا کی کثرت اور صدیوں کی جمع قوت نے اس گروہ احرا ر کو کامیاب نہ ہونے دیا‘‘۔&lt;br /&gt;
صوفیا نے لسان العصر کی تائید و اعانت حاصل کرنے کے لیے اسرار کی طرف انہیں توجہ دلائی اور انہوںنے تصوف اور بالخصوص حافظ کے متعلق علامہ کے اعتراضات کو عدم پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اقبا کو اس کے متعلق اطلاع دی۔ اقبال لسان العصر کو پیر و مرشد مانتے تھے اور کہتے تھے کہ پیر و مرشد سے کسی مرید بے ریا کا اختلاف بے حد قلق انگیز ہوتا ہے لیکن مرید نے پوری جرات اور مردانگی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا علامہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں نے خواجہ حافظ پر کہٰں یہ الزا م نہیں لگایا کہ ان کے دیوان سے مے کشی بڑھ گئی ہے۔ میرا اعتراض حافظ پر بالکل اور نوعیت کا ہے اسرار خودی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ایک لٹریری نصب العین کی تنقید تھی جو مسلمانوں میں کئی صدیوں سے پاپولر ہے۔ اپنے وقت پر اس نصب الععین سے ضرور فائدہ ہوا ۔ اس وقت یہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر بھی ہے۔ خواجہ حافظؒ کی ولایت سے اس تنقید میں کوئی سروکار نہ تھا۔ نہ ان کی شخصیت سے۔ نہ اشعار میں مے سے مراد وہ مے ہے جو لوگ ہوٹلوں میں پیتے ہیں بلکہ اس مے سے مراد وہ حالات سکر ہے جو حافظ کے کلام سے بحیثیت مجموعی پیدا ہوتی ہے چونکہ حافظ دلی اور عارف تصور کیے گئے ہیں اس واسطے ان کی شاعرانہ حیثیت عوام نے بالکل نظر انداز کر دی ہے اور میرے ریمارک تصو ف اور ولایت پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھے گئے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں حضرت اکبر سے التجا ئے انصاف کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معاف کیجیے گا آپ کے خطو ط سے یہ معلوم ہوا ہے کہ (ممکن ہے غلطی پر ہوں) کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی میں صرف وہی اشعار دیکھے ہیں جو حافظ کے متعلق لکھے گئے ہیں باقی اشعار پر شاید نظر نہیں فرمائی۔ کاش آپ کو ان کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی کہ آپ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محفوظ رہتے۔‘‘&lt;br /&gt;
اس کے بعد ایک خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ مجھے تناقض کا ملزم گردانتے ہیںَ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ میری بدنصیبی ہے یہ کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی کو اب تک پڑھا نہیں ہے۔ میں نے کسی گزشتہ خط میں عرض کیا تھا کہ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محترز رہنے کے لیے میری خاطر ایک دفعہ ضرور پڑھجائیے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ اعتراض نہ ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اعتراضات کی نوعیت اور جواب خطوط کی تفصیل سے موجود ہے۔&lt;br /&gt;
              &lt;br /&gt;
             *[[غیر اسلامی تصوف اور اس کے ادبی نصب العین سے بغاوت]]*&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==اردو==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبا ل نے اردو کی خدمت میں پوری زندگی بسر کر دی اردو شاعری اور زبان کو زیربار احسان کیا اگر وہ اردو زبان کی کچھ خدمت نہ کرتے تو اکنامکس کو اردومیں ڈھال دینے کی اولین کامیاب کوشش ان کے لیے باعث افتخار ہو سکتی تھی۔ لیکن وہ مدت العمر اس زبان کی خدمت کرتے رہے اور دوسروں کو اس کی خدمت کا شوق دلاتے رہے اوران کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ ان مکاتیب میں خود ان کی شہادت موجود ہے کہ جامعہ عثمانیہ کے ابتدائی دور میں وضع اصطلاحات میں مدد دیتے رہے۔ اردو کانفرنس میں دعوت شمولیت کے جواب میں مولوی عبدالحق کو لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
’’اس اہم معاملے میں کلیتہً آپ کے ساتھ ہوں اگرچہ میں اردو زبان کی بحیثیت زبان خدمت کرنے کی اہلیت نہیںرکھتا تاہم میری لسانیعصبیت دینی عصبیت سے کسی طرح کم نہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں مولوی صاحب موصوف کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ کی تحریک اس تحریک سے کسی طرح کم نہیں جس کی ابتدا سر سید احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ نے کی تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
تیسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کاش میں اپنی زندگی کے باقی دن آپ کے ساتھ رہ کر اردو کی خدمت کر سکتا‘‘&lt;br /&gt;
اقبال کو اپنے حالات کی بنا پر اردو نثر لکھنے کا اتفاق شاذ و نادر ہی ہوتا تھا۔ لیکن بعض اوقات وہ نثر میں بھی شاعری کیا کرتے تھے اور مختصر جملوں میں شعر کی طرح حقائق بیان کرنے پر قادر تھے۔ ایک دوست کو ایک مرتبہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’فکر روزی قاتل روح ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب کی ترقی اردو کے سلسلہ میں محنت و جانفشانی کی داد یہ کہہ کر دی ہے:&lt;br /&gt;
’’آپ ایک صاحب عزم آدمی ہیں اور یہ بات مجھے مدت سے معلوم تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
ان مکاتیب میں علامہ نے زبان کی سادگی کو ہاتھ سے نہیں دیا اور انشاء پردازی کے جوہر دکھانے کی کوشش نہیں کی؟ البتہ جہاں کہیں موضوع کی دلکشی نے ان کے لیے ایک موقع مہیا  کر دیا ہے۔ انہوںنے جو خیالات ذوق و جوش قلبی سے قلمبند کر دیے ہیں۔ ان میں زبان کی دلفریبی بدرجہ غایت موجود ہے۔ حضرات گرامی کو ۱۹۱۸ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’گرامی کو خاک پنجاب جذب کرے گی یا خاک خاک دکن اس سوال کے جواب میں حسب الحکم مراقبہ کیا گیا۔ جو انکشاف ہوا عرض کیا جاتا ہے۔ گرامی مسلم ہے اور مسلم تو وہ خاک نہیں کہ خاک اسے جذب کر سکے۔ یہ ایک قوت نورانیہ ہے جو جامع ہے جواہر موسویت اور ابراہمییت کی۔ آگ اسے چھو جاؤئے تو بردد سلام بن جائے۔ پانی اس کی ہیبت سے خشک ہو جائے۔ اسمان و زمین میں یہ سما نہیں سکتی۔ کہ یہ دونوں ہستیاں اس میں سمائی ہیں۔ پانی آگ جذب کر لیتا ہے عدم بود کو کھا جاتا ہے پستی بلندی میں سما جاتی ہے مگر جو قوت جامع اضداد ہو او رمحلل تمام تناقضات کی ہو اسے کون جذب کر ے۔ مسلم کو موت نہیں چھو سکتی کہ اس کی قوت حیات و موت کو اپنے اند ر جذب کر کے حیات و ممات کا تناقض مٹا چکی ہے… اس کی لاش خاک و خون میں تڑپ رہی تھی لیکن وہ ہستی جس کی آنکھوں میں دوشیزہ لڑکیوںسے بھی زیادہ حیا تھی جس کا قلب تاثرات لطیفہ کا سرچسمہ تھا۔ اس درد انگیز منظر سے مطلق متاثر نہ ہوئی نضیر کی بیٹی نے قتل کی خبر سنی تو نوحہ و فریاد کرتی ہوئی اور باپ کی جدائی میں درد انگیز اشعار پڑھتی ہوئی دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئی۔ اللہ اکبر اشعار سنے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر متاثر ہوئے کہ اس لڑکی کے ساتھ مل کر رونے لگے۔ یہاں تک کہ جوش ہمدردی نے اس سب سے زیادہ ضبط کرنے والے انسان کے سینے میں ایک آہ سرد نکلوا کر چھوڑی… پھر مسلم جو حامل ہے محدثیت کا ور وارث ہے موسویت کا اور ابراہیمیت کا کیونکر کسی شے میں جذب ہو سکتا ہے۔ البتہ زمان ومکان کی مقید دنیا کے مرکز میں ایک ریگستان ہے جو مسلم کو جذب کر سکتا ہے اور اس کی قوت جاذبہ ذوقی و فطری نہیں بلکہ مستعار ہے ایک کف پا سے جس نے اس ریگستان کے چمکتے ہوئے ذروں کو کبھی پامال کیا تھا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس مکتوب کو حصہ اول میں تمام و کمال پڑحیے اور اقبال کی انشاء پردازی اور مطالب جمیلہ کے اظہار پر اس کے کمال فن کی داد دیجیے۔ ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے۔ منشی محمد دین فوق کو لکھتے ہیں اور نفس مضمون اقبال کے لیے دلکشی رکھتا ہے۔ اقبال ولایت کے پہلے سفر  کے دوران میں سویز پہنچے تو مسلمان تاجروں کی ایک کثیر تعداد جہاز پر آ موجود ہوئی اقبال ان میں سے ایک سے سگریٹ خریدتے ہوئے اسے بتاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ اقبال کے سر پر ہیٹ دیکھ کر اسے تسلیم کرنے میں تامل ہوتا ہے:&lt;br /&gt;
’’آخر یہ شخص میرے اسلام کا قائل ہوا اور چونکہ حافظ قرآن تھا اس واسطے میں نے چند آیات قرآنی پڑھیں تو نہایت خوش ہوا اور میرے ہاتھ چومنے لگا ۔ باقی دکانداروں کو مجھ سے ملایا اور سب میرے گرد حلقہ باندھ کر ماشاء اللہ ماشاء اللہ کہنے لگے اورمیری عرض سفر معلوم کرکے دعائیں دینے لگے یا یوں کہیے کہ دو چار منٹ کے لیے وہ تجارت کی پستی سے ابھر کر اسلامی اخوت کی بلندی پر جا پہنچے۔ تھوڑی دیر کے بعد مصری نوجوانوں کا ایک نہایت خوبصورت گروہ جہاز کی سیر کو آیا۔ میں نے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو ان کے چہرے اس قدر مانوس معلوم ہوئے کہ مجھے ایک سیکنڈ کے لیے علی گڑھ کالج ڈیپوٹیشن کا شبہ ہوا۔ یہ لوگ جہاز کے ایک کنارے پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ میں بھی دخل در معقولات میں ان میں جا گھسا۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان ایسی خوبصورت عربی بولتا تھا جیسے حریری کا کوئی مقام پڑھ رہا ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں نہر سویز کے متعلق لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کسی شاعر کا قلم اور کسی سنگ تراش کا ہنر اس شخص کے تخیل کی داد نہیں دے سکتا جس نے اقوام عالم میں اس تجارتی تغیر کی بنیا د رکھی تھی… یہ کینال جسے ایک فرانسیسی انجینئر نے تعمیر کیا تھا دنیا کے عجائبا میں سے ایک ہے۔ کینال کیا ہے عرب اور افریقہ کی جدائی ہے۔ اور مشرق اور مغرب کا اتحاد۔ دنیا کی روحانی زندگی پر مہاتما بدھ نے بھی اس قدر اثر نہیں کیا جس قدر اس مغربی اختراع نے زمانہ حال کی تجارت پر کیا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
==سید غلام میراں شاہ کو لکھتے ہیں:==&lt;br /&gt;
’’حج بیت اللہ کی آرزو تو گزشتہ دو تین سال سے میرے دل میں بھی ہے۔ خدا تعالیٰ ہر پہلو سے استطاعت فرمائے تو یہ آرزو پوری ہو۔ آپ رفیق راہ ہوں تو مزید برکت کا باعث ہو… چند روز ہوئے سر اکبرحیدری وزیر اعظم حیدر آباد کا خط مجھ کو ولایت سے آیا تھا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ حج بیت اللہ اگر تمہاری معیت میں نصیب ہو تو بڑی خوشی کی بات ہے۔ لیکن درویشوں کے قافلہ میں جو لذت و راحت ہے وہ امیروں کی معیت میں کیونکر نصیب ہو سکتا ہے‘‘&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9462</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9462"/>
		<updated>2018-06-27T18:42:24Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
                  *[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]*&lt;br /&gt;
==شریعت اور تصوف==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’کئی صدیوں سے علماء اور صوفیا میں طاقت کے لیے جنگ ہو رہی تھی جس میں آخر کار صوفیا غالب آئے یہاں تک کہ اب برائے نام علماء جو باقی ہیں جب تک کسی خانوادے میں بیعت نہ لیتے ہوں ہر دل عزیز نہیں ہو سکتے۔ یہ روش گویا علماء کی طرف سے اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ مجدد الف ثانی عالمگیر اور مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہم نے اسلامی سیرت کے احیاء کی کوشش کی مگر صوفیا کی کثرت اور صدیوں کی جمع قوت نے اس گروہ احرا ر کو کامیاب نہ ہونے دیا‘‘۔&lt;br /&gt;
صوفیا نے لسان العصر کی تائید و اعانت حاصل کرنے کے لیے اسرار کی طرف انہیں توجہ دلائی اور انہوںنے تصوف اور بالخصوص حافظ کے متعلق علامہ کے اعتراضات کو عدم پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اقبا کو اس کے متعلق اطلاع دی۔ اقبال لسان العصر کو پیر و مرشد مانتے تھے اور کہتے تھے کہ پیر و مرشد سے کسی مرید بے ریا کا اختلاف بے حد قلق انگیز ہوتا ہے لیکن مرید نے پوری جرات اور مردانگی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا علامہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں نے خواجہ حافظ پر کہٰں یہ الزا م نہیں لگایا کہ ان کے دیوان سے مے کشی بڑھ گئی ہے۔ میرا اعتراض حافظ پر بالکل اور نوعیت کا ہے اسرار خودی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ایک لٹریری نصب العین کی تنقید تھی جو مسلمانوں میں کئی صدیوں سے پاپولر ہے۔ اپنے وقت پر اس نصب الععین سے ضرور فائدہ ہوا ۔ اس وقت یہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر بھی ہے۔ خواجہ حافظؒ کی ولایت سے اس تنقید میں کوئی سروکار نہ تھا۔ نہ ان کی شخصیت سے۔ نہ اشعار میں مے سے مراد وہ مے ہے جو لوگ ہوٹلوں میں پیتے ہیں بلکہ اس مے سے مراد وہ حالات سکر ہے جو حافظ کے کلام سے بحیثیت مجموعی پیدا ہوتی ہے چونکہ حافظ دلی اور عارف تصور کیے گئے ہیں اس واسطے ان کی شاعرانہ حیثیت عوام نے بالکل نظر انداز کر دی ہے اور میرے ریمارک تصو ف اور ولایت پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھے گئے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں حضرت اکبر سے التجا ئے انصاف کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معاف کیجیے گا آپ کے خطو ط سے یہ معلوم ہوا ہے کہ (ممکن ہے غلطی پر ہوں) کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی میں صرف وہی اشعار دیکھے ہیں جو حافظ کے متعلق لکھے گئے ہیں باقی اشعار پر شاید نظر نہیں فرمائی۔ کاش آپ کو ان کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی کہ آپ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محفوظ رہتے۔‘‘&lt;br /&gt;
اس کے بعد ایک خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ مجھے تناقض کا ملزم گردانتے ہیںَ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ میری بدنصیبی ہے یہ کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی کو اب تک پڑھا نہیں ہے۔ میں نے کسی گزشتہ خط میں عرض کیا تھا کہ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محترز رہنے کے لیے میری خاطر ایک دفعہ ضرور پڑھجائیے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ اعتراض نہ ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اعتراضات کی نوعیت اور جواب خطوط کی تفصیل سے موجود ہے۔&lt;br /&gt;
              &lt;br /&gt;
             *[[غیر اسلامی تصوف اور اس کے ادبی نصب العین سے بغاوت]]*&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A8%DB%8C_%D9%86%D8%B5%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%8C%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%BA%D8%A7%D9%88%D8%AA&amp;diff=9461</id>
		<title>غیر اسلامی تصوف اور اس کے ادبی نصب العین سے بغاوت</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%BA%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81_%D8%A7%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D8%B3_%DA%A9%DB%92_%D8%A7%D8%AF%D8%A8%DB%8C_%D9%86%D8%B5%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%8C%D9%86_%D8%B3%DB%92_%D8%A8%D8%BA%D8%A7%D9%88%D8%AA&amp;diff=9461"/>
		<updated>2018-06-27T18:40:40Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;  اقبا ل نے غیر اسلامی تصوف اور اس کے نصب العین سے کیوں بغاوتکی خود ان کی زبانی سن لیجیے: ’...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبا ل نے غیر اسلامی تصوف اور اس کے نصب العین سے کیوں بغاوتکی خود ان کی زبانی سن لیجیے:&lt;br /&gt;
’’عجمی تصوف سے لٹریچر میں دلفریبی اور حسن و چمک پیدا ہوتا ہے۔ مگر انسان کے طبائع کو پست کرنے والا ہے۔ اسلامی تصوف دل میں قوت پیدا کرتا ہے اور اس قوت کا اثر لٹریچرپر ہوتا ہے ۔ میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ مسلانوں کا لٹریچر تمام ممالک اسلامیہ میں قابل اصلاح ہے۔ یاسیہ لٹریچر کبھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ قوم کی زندگی کے لیے اس کا اور اس کے لٹریچر کا رجائیہ ہونا ضروری ہے۔ اسرار خودی میں حافظ پر جو کچھ لکھا گیا ہے اس کو خارج کر کے اور اشعار لکھے ہیں جن کا عنوان یہ ہے درحقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیہ ان اشعار کو پڑھ کر مجھے یقین ہے کہ بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی اور میرا اصل مطلب واضح ہو جائے گا‘‘۔&lt;br /&gt;
لسان العصر کو مفصل جوابات لکھنے کے بعد تیسری مرتبہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’زیادہ کیا عرض کروں سوائے اس کے کہ مجھ پر عنایت فرمائیے۔ عنایت کیا رحم کیجیے اور اسرار خودی کو ایک دفعہ پڑھ جائیے۔ جس طرح منصور کو شبلی کے پتھر سے زخم آیا اور اس کی تکلیف سے اس نے آہ و فریاد کی اسی طرح مجھ کو آپ کا اوعتراض تکلیف دیتا ہے۔‘‘&lt;br /&gt;
عجمی ادب و تصوف کے مسلمانوں کی زندگی پر اثرات کے سلسلہ میں مولوی سراج الدین پال صاحب کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مسلمان مردہ ہیں انحطاط ملی نے ان کے تمام قویٰ شل کر دیا ہے اور انحطاط کا سب سے بڑا جادو یہ ہے کہ وہ اپنے صید پر ایسا اثر ڈالتا ہے کہ جس سے انحطاط کا مسحور اپنے قاتل کو اپنا مربی تصور کرنے لگ جاتا ہے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے مگر ہمیں اپنے ادائے فرض سے کام ہے ملامت کا خوف رکھنا ہمارے مذہب میں حرام ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
مولوی سراج الدین پال صاحب ہی کوحافظ پر ایک مضمون لکھنے کی ترغیب دیتے ہیں اور متعدد خطوط میں ان کی رہنمائی کے لیے کتابوں رسالوں اور اخباروں کے حوالے دیتے ہیں جن سے ان کی علم دوستی اور وسعت نظر کا اندازہ ہوتا ہے محولہ بالا خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’حقیقت یہ ہے کہ کسی مذہب یا قوم کے دستور العمل و شعار میں باطنی معانی تلاش کرنا یا باطنی مفہوم پیدا کرنا اصل میں ا س دستور کو مسخ کر دینا ہے۔ یہ ایک نہایت سٹل طریق تنسیخ کا ہے ۔ اور یہ طریق وہی قومیں ایجاد یا اختیار کرتی ہیں جن کی فطرت گو سفندی ہو… تاہم وقت پا کر ایران کا آبائی اور طبعی مذاق اچھی طرح سے ظاہر ہوا۔ ان شعراء نے نہایت عجیب و غریب اور بظاہر دلفریب طریقوں سے شعائر اسلام کی تردید و تنسیخ کی ہے۔ اور اسلام کی ہر محمود شے کو ایک طرح سے مذموم بیان کیا ہے اگر اسلام افلا س کو بر ا کہتا ہے تو حکیم سنائی اسکے اعلیٰ درجہ کی سعادت قرار دیتا ہے۔ اسلام جہاد فی سبیل اللہ کو حیات کے لیے ضروری تصور کرتا ہے تو شعرائے عجم ا س شعار میں کوئی اور معنی تلاش کرتے ہیں مثلاً:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غازی زپئے شہادت اندر تگ و پوے ست&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غافل کہ شہید عشق فاضل ترازوست&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
در روز قیامت ایں بہ او کے ماند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایں کشتہ دشمن است و آں کشتہ دوست&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ رباعی شاعرانہ اعتبار سے بہت عمدہ ہے اور قابل تعریف ۔ مگر انصاف سے دیکھا جائے تو جہاد اسلامیہ کی تردید میں اس سے زیادہ دلفریب اور خوب صورت طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ شاعر نے کمال یہ کیا ہے کہ جس کو اس نے زہر دیا ہے اس کو احساس بھی اس امر کا نہیں ہو سکتا کہ کسی نے مجھے زہر دیا ہے۔ بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ مجھے آب حیات پلا دیا گیا ہے۔ آہ مسلمان کئی صدیوں سے یہی  سمجھ رہے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
حافظ اور تصوف سے متعلق حافظ محمد اسلم جیراجپوری کے نام بھی اقبال کا مکتوب لائق توجہ ہے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’پیرزادہ مظفر الدین صاحب نے میرا مطلب مطلق نہیں سمجھا۔ تصوف سے اگر اخلاق فی العمل مراد ہے (اور یہی مفہوم قرون اولیٰ میں اس کا لیا جاتا تھا) تو کسی مسلمان کو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ ہاں جب تصوف فلسفہ بننے کی کوشش کرتا ہے اور عجمی اثرات کی وج سے نظام عالم کے حقائق اور باری تعالیٰ کی ذات سے متعلق موشگافیاں کر کے کشفی نظریہ پیش کرتا ہے تو میری روح اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے۔ میں نے ایک تاریخ تصوف کی لکھنی شروع کی تھی مگر افسوس کہ مسالہ نہ مل سکا اور ایک دو باب لکھ کر رہ گیا۔&lt;br /&gt;
تصوف اور خودی کے مسائل پر مولوی ظفر احمد صاحب صدیقی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’غلام قوم مادیات کو وروحانیات پر مقدم سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اور جب انسان میں خوئے غلامی راسخ ہو جاتہے تو وہ رہ ایسی تعلیم سے بیزاری کے بہانے تلاش کرتا ہے جس کا مقصد قوت نفس اور روح انسانی کا ترفع ہو… بہرحال حدو د خودی کے تعین کا نام شریعت ہے او ر شریعت اپنے قلب کی گہرائیوں میں محسوس کرنے کا نام طریقت ہے۔ جب احکام الٰہی خودی میں اس حد تک سرایت کر جائیں کہ خودی کے پرائیویٹ امیال و عواطف باقی نہ رہیں اور صرف رضائے الٰہی اس کا مقصود ہو جائے تو زندگی کی اس کیفیت کو بعض اکابر صوفیائے اسلام نے فنا کہا ہے۔ بعض نے اسی کا نام بقا رکھا ہے۔ لیکن ہندی اور ایرانی صوفیا نے اکثر نے مسئلہ فنا کی تفسیر فلسفہ ویدانت اور بدھ مت کے زیر اثر کی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسلمان اس وقت عملی اعتبار سے ناکارہ محض ہے میرے عقیدہ کی رو سے یہ تفسیر بغداد کی تباہی سے بھی زیادہ خطرناک تھی او ر ایک معنی میں میری تمام تحریریں اسی تفسیر کے خلاف ایک قسم کی بغاوت ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
حافظؒ کے  متعلق مولوی سراج الدین پال کے نا م ایک خط میں اپنا نظریہ اور طریق تحقیق بیان کرتے ہیں جس کی صحت اور دانش و مصلحت آج سورج کی طرح روشن اور مسلم ہے:&lt;br /&gt;
’’… اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ حافظ کے معاصرانہ تاریخ کو غور سے دیکھیے مسلمانوں کی دماغی فضا کس قسم کی تھی اور کون کون سے فلسفیانہ مسائل اس وقت اسلامی دماغ کے سامنے تھے۔ مسلمانوں کی پولیٹکل حالت کیا تھی۔ پھر ان سب باتوں کی روشنی میں حافظ کے کلام کا مطالعہ کیجیے… اور سب سے آخر میں شاعر حافظ ہے (اگر اسے صوفی سمجھاجائے)&lt;br /&gt;
یہ حیرت کی بات ہے کہ تصوف کی تما م شاعری مسلمانوں کے پولیٹکل انحطاط کے زمانے میں پیدا ہوئی اور ہونا بھی یہی چاہیے تھا کہ جس قوم میں طاقت و توانائی مفقود ہو جائے جیسا کہ تاتاری یورش کے بعد مسلمانوں میں مفقود ہو گئی تو پھر اس قوم کا نقطہ نگاہ بدل جایا کرتاہے ان کے نزدیک ناتوانی ایک حسین و جمیل شے ہو جاتی ہے اور ترک دنیا موجب تسکین اس ترک دنیا کے پردے میں قومیں اپنی سستی و کاہلی اور اس شکست کو جو ان کو تنازع للبقا میں ہو چھپایا کرتی ہیں خو د ہندوستان کے مسلمانوں کو دیکھیے کہ ان کے ادبیات کا انتہائی کمال لکھنو کی مرثیہ گوئی پر ختم ہوا‘‘۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9455</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9455"/>
		<updated>2018-06-27T18:35:57Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
                  *[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]*&lt;br /&gt;
==شریعت اور تصوف==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’کئی صدیوں سے علماء اور صوفیا میں طاقت کے لیے جنگ ہو رہی تھی جس میں آخر کار صوفیا غالب آئے یہاں تک کہ اب برائے نام علماء جو باقی ہیں جب تک کسی خانوادے میں بیعت نہ لیتے ہوں ہر دل عزیز نہیں ہو سکتے۔ یہ روش گویا علماء کی طرف سے اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ مجدد الف ثانی عالمگیر اور مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہم نے اسلامی سیرت کے احیاء کی کوشش کی مگر صوفیا کی کثرت اور صدیوں کی جمع قوت نے اس گروہ احرا ر کو کامیاب نہ ہونے دیا‘‘۔&lt;br /&gt;
صوفیا نے لسان العصر کی تائید و اعانت حاصل کرنے کے لیے اسرار کی طرف انہیں توجہ دلائی اور انہوںنے تصوف اور بالخصوص حافظ کے متعلق علامہ کے اعتراضات کو عدم پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اقبا کو اس کے متعلق اطلاع دی۔ اقبال لسان العصر کو پیر و مرشد مانتے تھے اور کہتے تھے کہ پیر و مرشد سے کسی مرید بے ریا کا اختلاف بے حد قلق انگیز ہوتا ہے لیکن مرید نے پوری جرات اور مردانگی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا علامہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں نے خواجہ حافظ پر کہٰں یہ الزا م نہیں لگایا کہ ان کے دیوان سے مے کشی بڑھ گئی ہے۔ میرا اعتراض حافظ پر بالکل اور نوعیت کا ہے اسرار خودی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ایک لٹریری نصب العین کی تنقید تھی جو مسلمانوں میں کئی صدیوں سے پاپولر ہے۔ اپنے وقت پر اس نصب الععین سے ضرور فائدہ ہوا ۔ اس وقت یہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر بھی ہے۔ خواجہ حافظؒ کی ولایت سے اس تنقید میں کوئی سروکار نہ تھا۔ نہ ان کی شخصیت سے۔ نہ اشعار میں مے سے مراد وہ مے ہے جو لوگ ہوٹلوں میں پیتے ہیں بلکہ اس مے سے مراد وہ حالات سکر ہے جو حافظ کے کلام سے بحیثیت مجموعی پیدا ہوتی ہے چونکہ حافظ دلی اور عارف تصور کیے گئے ہیں اس واسطے ان کی شاعرانہ حیثیت عوام نے بالکل نظر انداز کر دی ہے اور میرے ریمارک تصو ف اور ولایت پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھے گئے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں حضرت اکبر سے التجا ئے انصاف کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معاف کیجیے گا آپ کے خطو ط سے یہ معلوم ہوا ہے کہ (ممکن ہے غلطی پر ہوں) کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی میں صرف وہی اشعار دیکھے ہیں جو حافظ کے متعلق لکھے گئے ہیں باقی اشعار پر شاید نظر نہیں فرمائی۔ کاش آپ کو ان کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی کہ آپ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محفوظ رہتے۔‘‘&lt;br /&gt;
اس کے بعد ایک خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ مجھے تناقض کا ملزم گردانتے ہیںَ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ میری بدنصیبی ہے یہ کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی کو اب تک پڑھا نہیں ہے۔ میں نے کسی گزشتہ خط میں عرض کیا تھا کہ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محترز رہنے کے لیے میری خاطر ایک دفعہ ضرور پڑھجائیے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ اعتراض نہ ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اعتراضات کی نوعیت اور جواب خطوط کی تفصیل سے موجود ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9453</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9453"/>
		<updated>2018-06-27T18:34:45Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
                  *[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]*&lt;br /&gt;
==شریعت اور تصوف==&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’کئی صدیوں سے علماء اور صوفیا میں طاقت کے لیے جنگ ہو رہی تھی جس میں آخر کار صوفیا غالب آئے یہاں تک کہ اب برائے نام علماء جو باقی ہیں جب تک کسی خانوادے میں بیعت نہ لیتے ہوں ہر دل عزیز نہیں ہو سکتے۔ یہ روش گویا علماء کی طرف سے اپنی شکست کا اعتراف ہے۔ مجدد الف ثانی عالمگیر اور مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہم نے اسلامی سیرت کے احیاء کی کوشش کی مگر صوفیا کی کثرت اور صدیوں کی جمع قوت نے اس گروہ احرا ر کو کامیاب نہ ہونے دیا‘‘۔&lt;br /&gt;
صوفیا نے لسان العصر کی تائید و اعانت حاصل کرنے کے لیے اسرار کی طرف انہیں توجہ دلائی اور انہوںنے تصوف اور بالخصوص حافظ کے متعلق علامہ کے اعتراضات کو عدم پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور اقبا کو اس کے متعلق اطلاع دی۔ اقبال لسان العصر کو پیر و مرشد مانتے تھے اور کہتے تھے کہ پیر و مرشد سے کسی مرید بے ریا کا اختلاف بے حد قلق انگیز ہوتا ہے لیکن مرید نے پوری جرات اور مردانگی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا علامہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں نے خواجہ حافظ پر کہٰں یہ الزا م نہیں لگایا کہ ان کے دیوان سے مے کشی بڑھ گئی ہے۔ میرا اعتراض حافظ پر بالکل اور نوعیت کا ہے اسرار خودی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ایک لٹریری نصب العین کی تنقید تھی جو مسلمانوں میں کئی صدیوں سے پاپولر ہے۔ اپنے وقت پر اس نصب الععین سے ضرور فائدہ ہوا ۔ اس وقت یہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر بھی ہے۔ خواجہ حافظؒ کی ولایت سے اس تنقید میں کوئی سروکار نہ تھا۔ نہ ان کی شخصیت سے۔ نہ اشعار میں مے سے مراد وہ مے ہے جو لوگ ہوٹلوں میں پیتے ہیں بلکہ اس مے سے مراد وہ حالات سکر ہے جو حافظ کے کلام سے بحیثیت مجموعی پیدا ہوتی ہے چونکہ حافظ دلی اور عارف تصور کیے گئے ہیں اس واسطے ان کی شاعرانہ حیثیت عوام نے بالکل نظر انداز کر دی ہے اور میرے ریمارک تصو ف اور ولایت پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھے گئے ہیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں حضرت اکبر سے التجا ئے انصاف کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معاف کیجیے گا آپ کے خطو ط سے یہ معلوم ہوا ہے کہ (ممکن ہے غلطی پر ہوں) کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی میں صرف وہی اشعار دیکھے ہیں جو حافظ کے متعلق لکھے گئے ہیں باقی اشعار پر شاید نظر نہیں فرمائی۔ کاش آپ کو ان کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی کہ آپ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محفوظ رہتے۔‘‘&lt;br /&gt;
اس کے بعد ایک خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ مجھے تناقض کا ملزم گردانتے ہیںَ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ میری بدنصیبی ہے یہ کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی کو اب تک پڑھا نہیں ہے۔ میں نے کسی گزشتہ خط میں عرض کیا تھا کہ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محترز رہنے کے لیے میری خاطر ایک دفعہ ضرور پڑھجائیے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ اعتراض نہ ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اعتراضات کی نوعیت اور جواب خطوط کی تفصیل سے موجود ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9452</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9452"/>
		<updated>2018-06-27T18:32:28Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
                  *[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]*&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9451</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9451"/>
		<updated>2018-06-27T18:32:03Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
                  *[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9450</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9450"/>
		<updated>2018-06-27T18:31:16Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;br /&gt;
*[[معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D9%85%D8%B9%D8%B1%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%B2_%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D9%88_%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%86%DA%AF&amp;diff=9449</id>
		<title>معرکہ اسرار و رموز یا شریعت و طریقت کی جنگ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D9%85%D8%B9%D8%B1%DA%A9%DB%81_%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1_%D9%88_%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%B2_%DB%8C%D8%A7_%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D8%B9%D8%AA_%D9%88_%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D8%AC%D9%86%DA%AF&amp;diff=9449"/>
		<updated>2018-06-27T18:30:20Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot; مثنوی اسرار خودی و مثنوی رموز بے خودی اقبال کے افکار و پیام کا ماحاصل اولین و آخرین ہیں۔ اسرا ر ک...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
مثنوی اسرار خودی و مثنوی رموز بے خودی اقبال کے افکار و پیام کا ماحاصل اولین و آخرین ہیں۔ اسرا ر کی اشاعت اول میں علامہ مرحوم نے حافظؒ کے متعلق چند اشعار لکھے تھے۔ جن پر صوفیائے کرام کے علمبردار بے حد چراغ پا ہوئے اور علامہ مرحوم پر ہر طرف سے یورش کر دی۔ علامہ مرحوم نے اس سلسلہ میں مہاراجہ کو اس ہنگامہ کے دو سال بعد لکھا:&lt;br /&gt;
’’خواجہ صاحب نے مثنوی اسرار خودی پر اعتراض کیے تھے۔ چونکہ میرا عقیدہ تھا اور ہے کہ اس مثنوی کا پڑھان اس ملک کے لوگوں کے لیی مفید ہے اور اس بات کا اندیشہ تھا کہ خواجہ صاحب کے مضامین کا اثر اچھا نہ ہو گا۔ اس واسطے مجھے اپنی پوزیشن صاف کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ورنہ کسی قسم کے بحث مباحثے کی مطلق ضرورت نہ تھی نہ بحث کرنا میرا شعار ہے۔ بلکہ جہاں کہیں بحث ہو رہی ہو وہاں سے گریز کرتا ہوں‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن جب دوسروں نے اقبال کو اس ناگوار بحث میں گھسیٹا تو اقبال کا اصول حریفوں سے مختلف تھا:&lt;br /&gt;
’’میں نے صاف باطنی کے ساتھ لکھا تھا کہ آپ میرے ساتھ ناانصافی نہ کریں علمی بحث ہونی چاہیے ۔ حریف کوبدنام کرنا مقصود نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ اس کا قائل کرنا اور راہ راست پر لانا‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال کو اپنے نظریات کی تائید میں لکھنا پڑا اور آج ہمیں اقبال کے ان خطوط سے اقبال کے کلام کی وہ نادر تشریح میسر آتی ہ جو دنیا کی نظر سے اب تک اوجھل تھی۔ الحمد اللہ اس مجموعہ مکاتیب میں بعض خطوط ایسے بھی ہیں جن کی فراہمی اور اشاعت کی خواہش خود علامہ مرحوم کو بھی تھی۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=9448</id>
		<title>Iqbalnama:Majmooa Makatib-e-Iqbal</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=9448"/>
		<updated>2018-06-27T18:27:59Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
*[[..دیباچہ..]]&lt;br /&gt;
*[[خلوص]]&lt;br /&gt;
*[[علم دوستی]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9447</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9447"/>
		<updated>2018-06-27T18:26:59Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: /* علم دوستی */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9446</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9446"/>
		<updated>2018-06-27T18:25:38Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم &lt;br /&gt;
                                              کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9444</id>
		<title>علم دوستی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%B9%D9%84%D9%85_%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C&amp;diff=9444"/>
		<updated>2018-06-27T18:25:00Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;==علم دوستی== اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہ...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;==علم دوستی==&lt;br /&gt;
اقبال کی نمایاں ترین خصوصیت جو ان مکاتیب سے سامنے آتی ہے ان کی علم دوستی ہے۔ خالص مذہبی مباحث سے قطع نظر بھی کرلیجیے تو اقبال ایک علم دوست اور علم پرور انسان نظر آتے ہیں اور حالات سازگار ہوتے تو یہی ان کا محبوب مشغلہ ہوتا۔ حکمائے اسلام کی بحث زمان اور مکان کی حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ متکلمین نے علم مناظر و رویا کی رو سے خدائے تعالیٰ کی رویت کے امکان سے جو بحث کی ہے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ حال کے روسی علماء کی تصانیف کی جستجو کرائی جا رہی ہے۔ اور ان کے ترجمہ کی سفارش کی جا رہی ہے۔ تصوف اور حافظ پر سیر حاصل ریسرچ اور تحقیق علمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے مسلمانوں نے منطق اسقرائی پر جو کچھ خود لکھا ہے اوریونانیوں کی منطق پر انہوںنے جو اضافے کے ہیں۔ اس کے متعلق خود تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دارالمصنیفن کی طرف سے ہندوستان کے حکما ئے اسلام پر ایک کتاب لکھنے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔ الغزالی سے متعلق ریسرچ پر مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نادر مخطوطات کی فہرست کی تیاری کا کام کرایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ کبھی فارسی کا کورس تیار کرنے کا خیال ہے۔ غرض علم دوستی علامہ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ اسی علم دوستی کا نتیجہ ہے کہ ان کے مکاتیب کے سطر سطر سے اہل علم کا احترام پایا جاتاہے جس کی مثالیں صفحہ صفحہ پر بکھری نظر آتی ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4284</id>
		<title>خلوص</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4284"/>
		<updated>2018-06-14T21:07:10Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال کی زندگی سراپا خلوص تھی اور ان خطوط میں اس کی لفظی و عملی شہادت کثرت سے موجود ہے۔ وہ دوستوں کے دکھ درد میں ان کا شریک اور ان کی امداد و اعانت پر کمر بستہ ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی مروت کے لیے بھی دلی اور دائمی احسان مندی اس کا خاصہ ہے۔ عطیہ بیگم اس امر پر اظہار تاسف کرتی ہیں کہ شمالی ہندوستان میں اقبال کو عوام میںوہ عقیدت اور قدر و منزلت حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’لو گ ریاکاری سے عقیدت رکھتے ہیں اور اسی کا احترام کرتے ہیں۔ میں ایک بے ریا زندگی بسر کرتاہوں اور منافقت سے کوسوں دور ہوں۔ اگر ریاکاری و منافقت ہی میرے لیے وجہ حصول احترام و عقیدت ہو سکتی ہے تو خدا کرے میں اس دنیا سے ایسا بے تعلق اور بیگانہ ہو جائوں کہ میرے لیے بھی ایک آنکھ اشک بار اور ایک بھی زباں نوحہ خواں نہ ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال کی زبان حقیقت ترجمان پر حق ضرور جاری ہو جایا کرتاتھا چنانچہ ۱۹۰۹ء میں عطیہ بیگم کو ہی ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اگر وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میںطوفان بپا کیے ہوئے ہیں عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی۔ دنیا میرے گناہوں پر پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کرے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال کے قلب با صفا اور زبان بے ریا سے نکلے ہوئے یہ کلمات کتنے سچے ثابت ہوئے اور اس کی وفات پر ایک دنیا نے اسے آہوں اور آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کیا اور آج:&lt;br /&gt;
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری&lt;br /&gt;
کہ خاک کوہ کو میں نے بتایا راز الوندی!&lt;br /&gt;
(اقبال)&lt;br /&gt;
مہاراجہ سر کشن پرشاد سے بہت عرصہ اقبال کی خط و کتابت رہی۔ اقبال کی نیاز مندی اور حفظ مراتب کی شان ابتدا سے انتہا تک یکساں رہی۔ اقبال کے جاننے والے حیران ہیں کہ آخر اس ہندو رئیس  میں کیا خوبی تھی کہ جو اقبال ا س کا گرویدہ ہو گیا۔ حضرت علامہ کے ایک ندیم خاص نے تو ایک پرائیویٹ گفتگو میں یہاںتک فرمایا کہ اقبال نے کبھی مہاراجہ سے تعلقات کا اشارتہً بھی ذکر نہیں فرمایا تھا۔ لیجیے اقبال کی زبانی اس رابطہ کی نوعیت ملاحظہ فرما لیجیے۔ مارچ ۱۹۱۷ء میں مہاراجہ بہادر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے خلوص سرکار سے ہے اس کا راز معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں سرکار کی قبائے امارت سے میرے دل کو مسرت ہے۔ مگر میری نگاہ اسے سے پرے جاتی ہے۔ اور اس چیز پر جا ٹھہرتی ہے جو اس قبا میں پوشیدہ ہے۔ الحمد اللہ یہ خلوص کسی غرض کا پردہ دار نہیں اورنہ انشاء اللہ ہو گا۔ انسانی قلب کے لیے اس سے بڑھ کر زبوں بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا خلوص پروردہ اغراض و مقاصد ہو جائے انشاء اللہ العزیز اقبال کو آپ حاضر و غائب اپنا مخلص پائیں گے۔ اللہ نے اس کو نگاہ بلند اور دل غیور عطا کیا ہے۔ جو خدمت کا طالب نہیں اور احباب کی خدمت کو ہمیشہ حاضر ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’انہیں باتوں سے اقبال آ پ کا گرویدہ ہے۔ امارت عزت آبرو‘ جاہ و حشم عام ہے مگر دل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر امیر کے پہلو میں نہیں ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس سے ایک پہلے خط میں مہاراجہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ کہ آئینہ دل گر د غرض سے پاک ہے۔ اقبال کا شعار ہمیشہ محبت و خلوص ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔ اغراض کا شائبہ خلوص کو مسموم کر دیتا ہے۔ اور خلوص وہ چیز ہے کہ اس کو محفوظ و بے لوث رکھنا بندہ درگاہ کی زندگی کا مقصود اعلیٰ و اسنیٰ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خلوص و بے ریائی کا نتیجہ تھاکہ یہ ہندو مہاراجہ جس کی حیثیئت کتنے ہی ہندو والیان ریاست سے بڑھ کر تھی اقبال کو اپنی بیٹیوں کے رشتے کی تلاش کی دوستانہ فرمائش کرتا ہے اور اقبال اس دوستانہ اعتماد کا پورا پورا عملی احترام کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں میں جا بجا ایسے شواہد موجود ہیں کہ اقبال نے کبھی کسی دوست کو کسی دوسرے دوست یا بیگانے کے متعلق ایسی بات نہیںلکھی کہ جو براہ راست اسے لکھنے یا کہنے پر آمادہ نہ ہوں۔&lt;br /&gt;
[[تہجد]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''قبول تنقید و اصلاح'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال نے شاعری سے ہمیشہ بیزاری کا اظہار کیا لیکن اسے اپنے خیالت کی اشاعت کا ای مقبول ذریعہ سمجھتے ہوئے اختیار کیے رکھا۔ شاعر فطرتاً حساس ہوتے ہیں۔ مصنف مصور شاعر اور ہر صاحب فن کے لیے اس کے کمال ہنر کی داد سب سے بڑی مسرت اور اس کے فن پر تنقید اس کے لیے انتہائے اذیت کا موجب ہوا کرتی ہے اور شاعر حضرات بالخصوص:&lt;br /&gt;
نازک مزاج شاہاں تاب سخن نہ دارد &lt;br /&gt;
ک مصداق ہوا کرتے ہیں  اقبال ایک طبع سلیم لے کر پید اہوئے تھے۔ تنقید و اصلاح کلام کے بارے میں بھی ان کا رویہ سلامتی انکساری حصول علم اور استفادہ ہی کا رہا اور اپنے کلام پر اعتراضات کو انہوںنے خندہ پیشانی اور دلی شکریہ سے قبول فرمایا۔&lt;br /&gt;
۱۹۰۳ء میں مولوی حبیب الرحمن خاں شیروانی کو اپنے اشعار پر تنقید موصول ہونے پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’حقیقت یہ ہے کہ آج مجھے اپنے ٹوٹے پھوٹے اشعار کی داد مل گئی۔ آپ کا تہ دل سے مشکور ہوں۔ آپ لوگ نہ ہوں تو واللہ ہم شعر کہنا ترک کر دیں۔ اگرچہ جلسہ میںہر طرف سے لوگ حسب معمول ان کی تعریف کرتے تھے۔ مگر جو مزا مجھے آپ کی داد سے ملا ہے اسے میرا دل ہی جانتا ہے۔ آ پ کا خط حفاظت سے صندوق میں بند کر دیا ہے نظر ثانی کے وقت آپ کی تنقیدوں سے فائدہ اٹھائوں گا‘‘۔&lt;br /&gt;
مولوی سید سلیمان ندوی کو جن کے علم و فضل اور خدمات دینی کا اقبال کو مخلصانہ اعتراف و احترام تھا لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معارف میں ابھی آپ کا ریویو مثنوی رموز بے خودی نظر سے گزرا… آپ نے جو کچھ فرمایا وہ میرے لیے سرمایہ افتخار ہے صحت الفاظ و محاورات کے متعلق جو کچھ آپ نے لکھا ہے ضرور صحیح ہو گا لیکن آپ نے ان لغزشوں کی طرف بھی توجہ کرتے تو آپ کا ریویو میرے لیے مفید ہوتا۔ اگر آپ نے غلط ملط الفاظ اور محاورات نوٹ کر رکھے ہیں تو مہربانی کر کے مجھے ا ن سے آگاہ کیجیے کہ دوسرے ایڈیشن میں ان کی اصلاح ہو جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں اپنی لغزشوں پر آگاہی کے لیے تقاضا کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’رموز بے خودی کی لغزشوں سے آغاہ کرنے کا آپ نے وعد ہ کیا تھا۔ اب تو ایک ماہ سے بہت زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ امید ہے ک توجہ فرمائی جائے تاکہ میں دوسرے ایڈیشن میں آپ کے ارشادات سے مستفید ہو سکوں‘‘۔&lt;br /&gt;
اس تقاضے کے جواب میں جوطویل الفاظ و محاورات اور بعض اشعار کی نوعیت کے متعلق موصول ہوئی اس پر سید صاحب موصوف کو اپنے الفاظ کی بنا پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مثالیں اساتذہ موجود ہیں مگرا س خیا ل سے آ پ کا وقت ضائع ہو گا نظر انداز کرتا ہوں البتہ اگر آ پ اجازت دیں تو لکھوں گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اور پھر کس قدر انکسار اور طالب علمانہ جستجو ارو احترام کے اندازمیں لکھا:&lt;br /&gt;
’’محض یہ معلوم کرنے کے لیے کہ میں نے غلط مثالیں تو نہیں انتخاب کیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اجازت موصول ہونے پر اعتراضات کے جواب میں مثالوں میں اساتذہ کے اشعار بطور سند پیش کیے محض ایک مثال پیش کرتا ہوں خیال ہے کہ سید صاحب کا ذوق شعر اس شعر کو پڑھ کر ایک مرتبہ تو وجد میں آ ہی گیا ہو گا۔ علامہ نے عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ سے متعلق مثنوی میںلکھا تھا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کور ذوقاں داستانہا ساختند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وسعت ادراک او نشاختند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال سید صاحب کو لکھتے ہیں کہ کور ذوق کی نسبت آپ کا ارشاد تھا کہ بے مزہ ترکیب ہے۔ اس کے جواب میں یہ سند پیش کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
چہ غم زیں عروس سخن رابتہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ بر کور ذوقاں شود جلوہ گر &lt;br /&gt;
(ظہوری)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد احمد خاں صاحب نے دو ایک اشعار کی معانی کی وضاحت چاہی اورلکھا کہ ان کے دوستوں کو:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قید دستور سے بالا ہے مگر دل میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فرش سے شعر ہوا عرش پہ نازل میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کے مصرع دوم بالخصوص لفظ ’’نازل‘‘ پر اعتراض ہے جس کے معنے اوپر سے نیچے آنے کے لیں لہٰذا فرش سے عرش پر نازل ہونا &lt;br /&gt;
صحیح نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے دوسرے دو اشعار کے متعلق تو جواب لکھا لیکن اس اعتراض کے متعلق لکھا کہ تیسرے سوال کا جواب ذوق سلیم سے پوچھیے نہ مجھ سے نہ منطق سے نہ کسی ماہر زبان سے۔&lt;br /&gt;
آل احمد سرور معلم شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی نے اپنے چند شکوک تحریر فرمائے ہیں۔ انہیںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے کلام پر ناقدانہ نظر ڈالنے سے پہلے حقائق اسلامیہ کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگر آپ پور ے غو ر و توجہ سے یہ مطالعہ کریں تو ممکن ہے کہ آپ بھی انہی نتائج تک پہنچیں جن تک میں پہنچا ہوں۔ اس صورت میں غالباً آپ کے شکوک تمام رفع ہو جائیں گے۔ یہ ممکن ہے کہ آپ کا Viewمجھ سے مختلف ہو یا آپ کود دین اسلام کے حقائق ہی کو ناقص تصور کریں۔ اس دوسری صورت میں دوستانہ بحث ہو سکتی ہے۔ جس کا نتیجہ معلوم نہیں کیا ہو آپ کے خط سے معلو م ہوتا ہے کہ آپ نے میرے کلام کا بھی بالاستعیاب مطالعہ نہیں کیا۔ اگر میرا خیا ل صحیح ہے تو میں آپ کو دوستانہ مشورہ دیتا ہوں اور آپ بھی اس کی طرف توجہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے بہت سی باتیں خود بخود آپ کی سمجھ میں آ جائیں گی۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک عقیدت منداقبال کی ایک پرانی نظم پر کسی تنقید کی طرف توجہ دلاتے ہیں تواغلاط کتابت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’نقاد کی نظر سے نظم کے حقیقی اسقام البتہ پوشیدہ رہے۔ شعر محاورہ اور بندش ی درستی اور چستی کا نام نہیں۔ میرا ادبی نصب العین نقاد کے نصب العین سے مختلف ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ نے ہمیشہ تنقید کا خیر مقدم کیا۔ اور اعتراض کو سمجھنے اور جواب کے سمجھانے میں عالی حوصلگی سے کام لیا ہے۔ ایک مرتبہ جب کسی نااہل نے علامہ اقبال کے کلام میں اصلاح کی جرات کی تو علامہ اقبال نے اپنے انداز خاص میں ان کے ارشادات عالیہ کا جواب لکھا۔ بابو عبدالمجید صاحب کو ۱۹۰۴ ء میں لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
’’یہ کوئی صاحب چھوٹے شملہ سے میری غزل کی اصلاح کر کے ارسال کرتے ہیں۔ میری طرف سے ان کا شکریہ ادا کیجیے اور عرض کیجیے کہ بہتر ہو اگر آپ امیر و داغ کی اصلاح کیا کریں۔ مجھ گمنام کی اصلاح کرنے سے آپ کی شہرت نہ ہو گی۔ میرے بے گناہ اشعار کو جو حضرت نے تیغ قلم سے مجروح کیا ہے اس کا صلہ انہیں خدا سے ملے… امید ہے کہ وہ برانہ سمجھیں گے۔ اکثر انسانوں کو کنج تنہائی میں بیٹھے بیٹھے ہمہ دانی کا دھوکا ہو جاتاہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اشعار کو تیغ قلم سے مجروح کرنے کی ترکیب سے مجھے حضرت علامہ کے استاد گرامی مولوی میر حسن صاحب کا ایک لطیفہ یاد آ گیا جو دوران ملازمت مرے کالج میں انہوںنے مجھ سے بیان فرمایا تھا۔ سیالکوٹ کے ایک مشہور شاعر جو اپنے آپ کو اقبال کا حریف سمجھتے تھے۔ اور آبائی پیشہ کے لحاظ سے قصا ب تھے مولوی کی خدمت میں ایک غزل لے کر حاضر ہوئے اور ملاحظہ کی فرمائش کی۔ مولوی صاحب نے غزل دیکھی اور خاموش رہے ۔ شاعر کا دل داد کے لیے گدگدا رہا تھا۔ مولوی صاحب نے پوچھا کہ اپنی رائے گرامی بھی &lt;br /&gt;
فرمائیے کیا ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا کہ میرے دوست! کیا کہوں آپ نے شاعری کا جھٹکا کر دیا ہے! [[تحفہ کلام و داد سخن]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''مصنفین کی حوصلہ افزائی و رہنمائی'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں کا صفحہ صفحہ اس پر شاہد ہے کہ علامہ مرحوم ایک علم دوست اور علم پرور بزر گ تھے اور یہی ان کا محبوب مشغلہ تھا اگر انہیں فارغ البالی نصیب ہوتی تو وہ ملت کی خدمات علمی و عینی کی انجام دہی میں اس عہد میں بے مثال ہوتے۔ اس پر بھی جو کچھ انہوں نے کیا ان کے حالات کے پیش نظر حد درجہ اہم اور ان کے ذوق افتاد طبیعت کا پتہ دیتا ہے۔ &lt;br /&gt;
اقبال نے ۱۹۰۰ء میں علم الاقتصاد کے نا م سے اردو میں اکنامکس پر سب سے پہلے کتاب تیار کی اور مجھے اس مضمون میں معلم کی حیثیت سے اور اس مضمون کو اپنی زبان میں منتقل کر دینے کی اہمیت کے پیش نظر اس کتاب کے دیکھنے کا بے حد اشتیاق تھا۔ جب لاہور سے احباب نے اس کتاب کے مہیا کرنے سے اپنی معذوری ظاہر کر دی تو میں نے کتب خانہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں جستجو شروع ککی۔ کتاب مل گئی اور میں نے بعد مطالعہ اسے کتب محفوظ میں داخل کرا دیا۔ اس کتاب کے مطالعہ سے حضرت علامہ کی قابلیت اور خدمت اردو کی صلاحیت کا جو اندازہ مجھے ہوا وہ ان حضرات کو ہرگز نہیں ہو سکتا جنہیں ا س کے دیکھنے کا موقع ملا۔ اگرچہ اس میں اولیت کا شرف علامہ ہی کو حاصل تھا۔ اور انہوںنے جو راہ ہموار کی تھی اس پر گامزن ہونا چنداں مشکل نہ تھا۔ تاہم جب ۱۹۱۷ء میں علی گڑھ سے پروفیسر الیاس برنی کی کتاب شائع ہوئی تو اقبال نے جو داد مصنف کو دی وہ اقبال کی دیدہ وری حوصلہ علم دوستی اور عظمت کی سرمایہ دار ہے۔ مصنف کو لکھتے  ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ کی تصنیف اردو زبان پر ایک احسان عظیم ہے مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ اردو زبان میں علم الاقتصد پر یہ پہلی کتاب ہے اور ہر پہلو سے کامل‘‘۔&lt;br /&gt;
مولوی غلام قادر صاحب فصیح مصنف تاریخ اسلام کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’خود مجھ پر جو اثر اس کے مطالعہ سے ہوا ہے اس کا اظہار میں اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کر سکتا کہ بسا اوقات دوران مطالعہ میں چشم پر آب ہو جاتاہوں۔ اس کا اثر میرے دل پر کئی کئی دن رہتا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ظہور الدین مہجور کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے یہ معلوم کر کے کمال مسرت ہوئی کہ آپ تذکرہ شعرائے کشمیر لکھنے والے ہیںَ میں کئی سالوں سے اس کے لکھنے کی تحریک کر رہا ہوں مگر افسوس ہے کہ کسی نے توجہ نہ کی۔ کام کی چیز یہ ہے کہ آپ کشمیر میں فارسی شعر گوئی کی تاریخ لکھیں ۔ مجھے یقین ہے کہ ایسی تصنیف نہایت بار آور ثابت ہو گی۔ اگر کبھی خود کشمیر میں یونیورسٹی بن گئی تو فارسی زبان کے نصاب میں اس کا کورس ہونا ضروری ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اللہ اللہ اس بزرگ کے خمیر میں علم اور عشق ملت کو کس طرح سمو دیا گیا ہے!&lt;br /&gt;
محمد اکرام صاحب کو غالب نامہ کے موصول ہونے پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’بلاشبہ آپ نے غالب پر ایک نہایت عمدہ تصنیف پیش کی ہے اگرچہ مجھے آپ کے چند نتائج سے اتفاق نہیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ حضرت غالب کو اردو نظم میں بیدل کی تقلید میں ناکامی ہوئی‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں انہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہسپانیہ پر نظم یوں تو تمام تر پرسوز ہے لیکن طارق سے متعلق اشعار بالخصوص دلگداز ہیں میں اسے محفوظ رکھوں گا اور کوشش کروں گا کہ یہ اشعار اردو میں منتقل ہو سکیں۔ میں اپنی سیاحت اندلس سے بے حد لذت گیر ہوا ہوں۔ وہاں دوسری نظموں کے علاوہ ایک نظم مسجد قرطبہ پر لکھی گئی جو کسی وقت شائع ہو گی۔ الحمرا ء کا تو مجھ پر کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا لیکن مسجد کی زیارت نے مجھے جذبات کی ایسی رفعت تک پہنچا دیا جو مجھے پہلے کبھی نصیب نہ ہوئی تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
سید سلیمان کی تصنیف عمر خیام پر انہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’جو کچھ آپ نے لکھ دیا ہے اس پر اب کوئی مشرقی یا مغربی عالم اضافہ نہ کر سکے گا‘‘۔&lt;br /&gt;
مولوی سراج الدین پال کے نام ان کے خطوط ملاحظہ فرمائیے اور دیکھیؤے کہ صرف خواجہ حافظ پر ای مضمون کی ترغیب کے لیے کتنی مرتبہ انہیں لکھا ہے  اور کس قدر حوالہ جات انہیں میہیا کیے ہیں اور کس طرح ان کی رہنمائی کی ہے۔ اسی طرح جو بات نہیں جانتے تھے یا جس کی وضاحت چاہتے تھے یا جس کے ایسے پہلو جو نظر انداز کر دیے گئے تھے۔ اسی طرح جو بات نہیں جانتے تھے یا جس کی وضاحت چاہتے تھے یا جس کے ایسے پہلو جو نظر انداز کر دیے گئے ہیں جاننا چاہتے تھے دوسروں سے پوچھتے تھے۔ جو دوسروں کو بتا سکتے تھے خوشی سے بتاتے تھے۔ اس سلسلہ میں صرف ایک اور مثال پیش کرتا ہوں۔&lt;br /&gt;
حافظ محمد فضل الرحمن انصاری کو ۱۹۳۷ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’جہاں تک اسلامی ریسرچ کا تعلق ہے فرانس جرمنی‘ انگلستان اور اٹلی کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے مقاصد خاص ہیں جن کو عالمانہ تحقیق اور حقائق حق کے ظاہری طلسم میں چھپایا جاتا ہے۔ ان حالات میں آ پ کے بلندمقاصد پر نظر رکھتے ہوئے بلاتامل کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے لیے یورپ جانا بے سود ہے:&lt;br /&gt;
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب&lt;br /&gt;
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں!&lt;br /&gt;
مصر جائیے عربی زبان میں مہارت پیدا کیجیے۔ اسلامی علوم اسلام کی دینی اور سیاسی تاریخ تصوف‘ فقہ ‘ تفسیر کا بغور مطالعہ کر کے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل روح تک پہنچنے کی کوشش کیجیے۔ پھر اگر ذہن خداداد ہے تو اور دل میں خدمت اسلام کی تڑپ ہے تو آپ اس تحریک کی بنیاد رکھ سکیں گے جو اس وقت آپ کے ذہن میں ہے&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4283</id>
		<title>خلوص</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4283"/>
		<updated>2018-06-14T21:06:26Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال کی زندگی سراپا خلوص تھی اور ان خطوط میں اس کی لفظی و عملی شہادت کثرت سے موجود ہے۔ وہ دوستوں کے دکھ درد میں ان کا شریک اور ان کی امداد و اعانت پر کمر بستہ ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی مروت کے لیے بھی دلی اور دائمی احسان مندی اس کا خاصہ ہے۔ عطیہ بیگم اس امر پر اظہار تاسف کرتی ہیں کہ شمالی ہندوستان میں اقبال کو عوام میںوہ عقیدت اور قدر و منزلت حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’لو گ ریاکاری سے عقیدت رکھتے ہیں اور اسی کا احترام کرتے ہیں۔ میں ایک بے ریا زندگی بسر کرتاہوں اور منافقت سے کوسوں دور ہوں۔ اگر ریاکاری و منافقت ہی میرے لیے وجہ حصول احترام و عقیدت ہو سکتی ہے تو خدا کرے میں اس دنیا سے ایسا بے تعلق اور بیگانہ ہو جائوں کہ میرے لیے بھی ایک آنکھ اشک بار اور ایک بھی زباں نوحہ خواں نہ ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال کی زبان حقیقت ترجمان پر حق ضرور جاری ہو جایا کرتاتھا چنانچہ ۱۹۰۹ء میں عطیہ بیگم کو ہی ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اگر وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میںطوفان بپا کیے ہوئے ہیں عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی۔ دنیا میرے گناہوں پر پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کرے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال کے قلب با صفا اور زبان بے ریا سے نکلے ہوئے یہ کلمات کتنے سچے ثابت ہوئے اور اس کی وفات پر ایک دنیا نے اسے آہوں اور آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کیا اور آج:&lt;br /&gt;
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری&lt;br /&gt;
کہ خاک کوہ کو میں نے بتایا راز الوندی!&lt;br /&gt;
(اقبال)&lt;br /&gt;
مہاراجہ سر کشن پرشاد سے بہت عرصہ اقبال کی خط و کتابت رہی۔ اقبال کی نیاز مندی اور حفظ مراتب کی شان ابتدا سے انتہا تک یکساں رہی۔ اقبال کے جاننے والے حیران ہیں کہ آخر اس ہندو رئیس  میں کیا خوبی تھی کہ جو اقبال ا س کا گرویدہ ہو گیا۔ حضرت علامہ کے ایک ندیم خاص نے تو ایک پرائیویٹ گفتگو میں یہاںتک فرمایا کہ اقبال نے کبھی مہاراجہ سے تعلقات کا اشارتہً بھی ذکر نہیں فرمایا تھا۔ لیجیے اقبال کی زبانی اس رابطہ کی نوعیت ملاحظہ فرما لیجیے۔ مارچ ۱۹۱۷ء میں مہاراجہ بہادر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے خلوص سرکار سے ہے اس کا راز معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں سرکار کی قبائے امارت سے میرے دل کو مسرت ہے۔ مگر میری نگاہ اسے سے پرے جاتی ہے۔ اور اس چیز پر جا ٹھہرتی ہے جو اس قبا میں پوشیدہ ہے۔ الحمد اللہ یہ خلوص کسی غرض کا پردہ دار نہیں اورنہ انشاء اللہ ہو گا۔ انسانی قلب کے لیے اس سے بڑھ کر زبوں بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا خلوص پروردہ اغراض و مقاصد ہو جائے انشاء اللہ العزیز اقبال کو آپ حاضر و غائب اپنا مخلص پائیں گے۔ اللہ نے اس کو نگاہ بلند اور دل غیور عطا کیا ہے۔ جو خدمت کا طالب نہیں اور احباب کی خدمت کو ہمیشہ حاضر ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’انہیں باتوں سے اقبال آ پ کا گرویدہ ہے۔ امارت عزت آبرو‘ جاہ و حشم عام ہے مگر دل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر امیر کے پہلو میں نہیں ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس سے ایک پہلے خط میں مہاراجہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ کہ آئینہ دل گر د غرض سے پاک ہے۔ اقبال کا شعار ہمیشہ محبت و خلوص ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔ اغراض کا شائبہ خلوص کو مسموم کر دیتا ہے۔ اور خلوص وہ چیز ہے کہ اس کو محفوظ و بے لوث رکھنا بندہ درگاہ کی زندگی کا مقصود اعلیٰ و اسنیٰ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خلوص و بے ریائی کا نتیجہ تھاکہ یہ ہندو مہاراجہ جس کی حیثیئت کتنے ہی ہندو والیان ریاست سے بڑھ کر تھی اقبال کو اپنی بیٹیوں کے رشتے کی تلاش کی دوستانہ فرمائش کرتا ہے اور اقبال اس دوستانہ اعتماد کا پورا پورا عملی احترام کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں میں جا بجا ایسے شواہد موجود ہیں کہ اقبال نے کبھی کسی دوست کو کسی دوسرے دوست یا بیگانے کے متعلق ایسی بات نہیںلکھی کہ جو براہ راست اسے لکھنے یا کہنے پر آمادہ نہ ہوں۔&lt;br /&gt;
[[تہجد]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''قبول تنقید و اصلاح'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال نے شاعری سے ہمیشہ بیزاری کا اظہار کیا لیکن اسے اپنے خیالت کی اشاعت کا ای مقبول ذریعہ سمجھتے ہوئے اختیار کیے رکھا۔ شاعر فطرتاً حساس ہوتے ہیں۔ مصنف مصور شاعر اور ہر صاحب فن کے لیے اس کے کمال ہنر کی داد سب سے بڑی مسرت اور اس کے فن پر تنقید اس کے لیے انتہائے اذیت کا موجب ہوا کرتی ہے اور شاعر حضرات بالخصوص:&lt;br /&gt;
نازک مزاج شاہاں تاب سخن نہ دارد &lt;br /&gt;
ک مصداق ہوا کرتے ہیں  اقبال ایک طبع سلیم لے کر پید اہوئے تھے۔ تنقید و اصلاح کلام کے بارے میں بھی ان کا رویہ سلامتی انکساری حصول علم اور استفادہ ہی کا رہا اور اپنے کلام پر اعتراضات کو انہوںنے خندہ پیشانی اور دلی شکریہ سے قبول فرمایا۔&lt;br /&gt;
۱۹۰۳ء میں مولوی حبیب الرحمن خاں شیروانی کو اپنے اشعار پر تنقید موصول ہونے پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’حقیقت یہ ہے کہ آج مجھے اپنے ٹوٹے پھوٹے اشعار کی داد مل گئی۔ آپ کا تہ دل سے مشکور ہوں۔ آپ لوگ نہ ہوں تو واللہ ہم شعر کہنا ترک کر دیں۔ اگرچہ جلسہ میںہر طرف سے لوگ حسب معمول ان کی تعریف کرتے تھے۔ مگر جو مزا مجھے آپ کی داد سے ملا ہے اسے میرا دل ہی جانتا ہے۔ آ پ کا خط حفاظت سے صندوق میں بند کر دیا ہے نظر ثانی کے وقت آپ کی تنقیدوں سے فائدہ اٹھائوں گا‘‘۔&lt;br /&gt;
مولوی سید سلیمان ندوی کو جن کے علم و فضل اور خدمات دینی کا اقبال کو مخلصانہ اعتراف و احترام تھا لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معارف میں ابھی آپ کا ریویو مثنوی رموز بے خودی نظر سے گزرا… آپ نے جو کچھ فرمایا وہ میرے لیے سرمایہ افتخار ہے صحت الفاظ و محاورات کے متعلق جو کچھ آپ نے لکھا ہے ضرور صحیح ہو گا لیکن آپ نے ان لغزشوں کی طرف بھی توجہ کرتے تو آپ کا ریویو میرے لیے مفید ہوتا۔ اگر آپ نے غلط ملط الفاظ اور محاورات نوٹ کر رکھے ہیں تو مہربانی کر کے مجھے ا ن سے آگاہ کیجیے کہ دوسرے ایڈیشن میں ان کی اصلاح ہو جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں اپنی لغزشوں پر آگاہی کے لیے تقاضا کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’رموز بے خودی کی لغزشوں سے آغاہ کرنے کا آپ نے وعد ہ کیا تھا۔ اب تو ایک ماہ سے بہت زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ امید ہے ک توجہ فرمائی جائے تاکہ میں دوسرے ایڈیشن میں آپ کے ارشادات سے مستفید ہو سکوں‘‘۔&lt;br /&gt;
اس تقاضے کے جواب میں جوطویل الفاظ و محاورات اور بعض اشعار کی نوعیت کے متعلق موصول ہوئی اس پر سید صاحب موصوف کو اپنے الفاظ کی بنا پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مثالیں اساتذہ موجود ہیں مگرا س خیا ل سے آ پ کا وقت ضائع ہو گا نظر انداز کرتا ہوں البتہ اگر آ پ اجازت دیں تو لکھوں گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اور پھر کس قدر انکسار اور طالب علمانہ جستجو ارو احترام کے اندازمیں لکھا:&lt;br /&gt;
’’محض یہ معلوم کرنے کے لیے کہ میں نے غلط مثالیں تو نہیں انتخاب کیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اجازت موصول ہونے پر اعتراضات کے جواب میں مثالوں میں اساتذہ کے اشعار بطور سند پیش کیے محض ایک مثال پیش کرتا ہوں خیال ہے کہ سید صاحب کا ذوق شعر اس شعر کو پڑھ کر ایک مرتبہ تو وجد میں آ ہی گیا ہو گا۔ علامہ نے عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ سے متعلق مثنوی میںلکھا تھا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کور ذوقاں داستانہا ساختند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وسعت ادراک او نشاختند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال سید صاحب کو لکھتے ہیں کہ کور ذوق کی نسبت آپ کا ارشاد تھا کہ بے مزہ ترکیب ہے۔ اس کے جواب میں یہ سند پیش کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
چہ غم زیں عروس سخن رابتہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ بر کور ذوقاں شود جلوہ گر &lt;br /&gt;
(ظہوری)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد احمد خاں صاحب نے دو ایک اشعار کی معانی کی وضاحت چاہی اورلکھا کہ ان کے دوستوں کو:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قید دستور سے بالا ہے مگر دل میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فرش سے شعر ہوا عرش پہ نازل میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کے مصرع دوم بالخصوص لفظ ’’نازل‘‘ پر اعتراض ہے جس کے معنے اوپر سے نیچے آنے کے لیں لہٰذا فرش سے عرش پر نازل ہونا &lt;br /&gt;
صحیح نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے دوسرے دو اشعار کے متعلق تو جواب لکھا لیکن اس اعتراض کے متعلق لکھا کہ تیسرے سوال کا جواب ذوق سلیم سے پوچھیے نہ مجھ سے نہ منطق سے نہ کسی ماہر زبان سے۔&lt;br /&gt;
آل احمد سرور معلم شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی نے اپنے چند شکوک تحریر فرمائے ہیں۔ انہیںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے کلام پر ناقدانہ نظر ڈالنے سے پہلے حقائق اسلامیہ کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگر آپ پور ے غو ر و توجہ سے یہ مطالعہ کریں تو ممکن ہے کہ آپ بھی انہی نتائج تک پہنچیں جن تک میں پہنچا ہوں۔ اس صورت میں غالباً آپ کے شکوک تمام رفع ہو جائیں گے۔ یہ ممکن ہے کہ آپ کا Viewمجھ سے مختلف ہو یا آپ کود دین اسلام کے حقائق ہی کو ناقص تصور کریں۔ اس دوسری صورت میں دوستانہ بحث ہو سکتی ہے۔ جس کا نتیجہ معلوم نہیں کیا ہو آپ کے خط سے معلو م ہوتا ہے کہ آپ نے میرے کلام کا بھی بالاستعیاب مطالعہ نہیں کیا۔ اگر میرا خیا ل صحیح ہے تو میں آپ کو دوستانہ مشورہ دیتا ہوں اور آپ بھی اس کی طرف توجہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے بہت سی باتیں خود بخود آپ کی سمجھ میں آ جائیں گی۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک عقیدت منداقبال کی ایک پرانی نظم پر کسی تنقید کی طرف توجہ دلاتے ہیں تواغلاط کتابت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’نقاد کی نظر سے نظم کے حقیقی اسقام البتہ پوشیدہ رہے۔ شعر محاورہ اور بندش ی درستی اور چستی کا نام نہیں۔ میرا ادبی نصب العین نقاد کے نصب العین سے مختلف ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ نے ہمیشہ تنقید کا خیر مقدم کیا۔ اور اعتراض کو سمجھنے اور جواب کے سمجھانے میں عالی حوصلگی سے کام لیا ہے۔ ایک مرتبہ جب کسی نااہل نے علامہ اقبال کے کلام میں اصلاح کی جرات کی تو علامہ اقبال نے اپنے انداز خاص میں ان کے ارشادات عالیہ کا جواب لکھا۔ بابو عبدالمجید صاحب کو ۱۹۰۴ ء میں لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
’’یہ کوئی صاحب چھوٹے شملہ سے میری غزل کی اصلاح کر کے ارسال کرتے ہیں۔ میری طرف سے ان کا شکریہ ادا کیجیے اور عرض کیجیے کہ بہتر ہو اگر آپ امیر و داغ کی اصلاح کیا کریں۔ مجھ گمنام کی اصلاح کرنے سے آپ کی شہرت نہ ہو گی۔ میرے بے گناہ اشعار کو جو حضرت نے تیغ قلم سے مجروح کیا ہے اس کا صلہ انہیں خدا سے ملے… امید ہے کہ وہ برانہ سمجھیں گے۔ اکثر انسانوں کو کنج تنہائی میں بیٹھے بیٹھے ہمہ دانی کا دھوکا ہو جاتاہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اشعار کو تیغ قلم سے مجروح کرنے کی ترکیب سے مجھے حضرت علامہ کے استاد گرامی مولوی میر حسن صاحب کا ایک لطیفہ یاد آ گیا جو دوران ملازمت مرے کالج میں انہوںنے مجھ سے بیان فرمایا تھا۔ سیالکوٹ کے ایک مشہور شاعر جو اپنے آپ کو اقبال کا حریف سمجھتے تھے۔ اور آبائی پیشہ کے لحاظ سے قصا ب تھے مولوی کی خدمت میں ایک غزل لے کر حاضر ہوئے اور ملاحظہ کی فرمائش کی۔ مولوی صاحب نے غزل دیکھی اور خاموش رہے ۔ شاعر کا دل داد کے لیے گدگدا رہا تھا۔ مولوی صاحب نے پوچھا کہ اپنی رائے گرامی بھی &lt;br /&gt;
فرمائیے کیا ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا کہ میرے دوست! کیا کہوں آپ نے شاعری کا جھٹکا کر دیا ہے! [[تحفہ کلام و داد سخن]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''مصنفین کی حوصلہ افزائی و رہنمائی'''&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں کا صفحہ صفحہ اس پر شاہد ہے کہ علامہ مرحوم ایک علم دوست اور علم پرور بزر گ تھے اور یہی ان کا محبوب مشغلہ تھا اگر انہیں فارغ البالی نصیب ہوتی تو وہ ملت کی خدمات علمی و عینی کی انجام دہی میں اس عہد میں بے مثال ہوتے۔ اس پر بھی جو کچھ انہوں نے کیا ان کے حالات کے پیش نظر حد درجہ اہم اور ان کے ذوق افتاد طبیعت کا پتہ دیتا ہے۔ &lt;br /&gt;
اقبال نے ۱۹۰۰ء میں علم الاقتصاد کے نا م سے اردو میں اکنامکس پر سب سے پہلے کتاب تیار کی اور مجھے اس مضمون میں معلم کی حیثیت سے اور اس مضمون کو اپنی زبان میں منتقل کر دینے کی اہمیت کے پیش نظر اس کتاب کے دیکھنے کا بے حد اشتیاق تھا۔ جب لاہور سے احباب نے اس کتاب کے مہیا کرنے سے اپنی معذوری ظاہر کر دی تو میں نے کتب خانہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں جستجو شروع ککی۔ کتاب مل گئی اور میں نے بعد مطالعہ اسے کتب محفوظ میں داخل کرا دیا۔ اس کتاب کے مطالعہ سے حضرت علامہ کی قابلیت اور خدمت اردو کی صلاحیت کا جو اندازہ مجھے ہوا وہ ان حضرات کو ہرگز نہیں ہو سکتا جنہیں ا س کے دیکھنے کا موقع ملا۔ اگرچہ اس میں اولیت کا شرف علامہ ہی کو حاصل تھا۔ اور انہوںنے جو راہ ہموار کی تھی اس پر گامزن ہونا چنداں مشکل نہ تھا۔ تاہم جب ۱۹۱۷ء میں علی گڑھ سے پروفیسر الیاس برنی کی کتاب شائع ہوئی تو اقبال نے جو داد مصنف کو دی وہ اقبال کی دیدہ وری حوصلہ علم دوستی اور عظمت کی سرمایہ دار ہے۔ مصنف کو لکھتے  ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ کی تصنیف اردو زبان پر ایک احسان عظیم ہے مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ اردو زبان میں علم الاقتصد پر یہ پہلی کتاب ہے اور ہر پہلو سے کامل‘‘۔&lt;br /&gt;
مولوی غلام قادر صاحب فصیح مصنف تاریخ اسلام کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’خود مجھ پر جو اثر اس کے مطالعہ سے ہوا ہے اس کا اظہار میں اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کر سکتا کہ بسا اوقات دوران مطالعہ میں چشم پر آب ہو جاتاہوں۔ اس کا اثر میرے دل پر کئی کئی دن رہتا ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ظہور الدین مہجور کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے یہ معلوم کر کے کمال مسرت ہوئی کہ آپ تذکرہ شعرائے کشمیر لکھنے والے ہیںَ میں کئی سالوں سے اس کے لکھنے کی تحریک کر رہا ہوں مگر افسوس ہے کہ کسی نے توجہ نہ کی۔ کام کی چیز یہ ہے کہ آپ کشمیر میں فارسی شعر گوئی کی تاریخ لکھیں ۔ مجھے یقین ہے کہ ایسی تصنیف نہایت بار آور ثابت ہو گی۔ اگر کبھی خود کشمیر میں یونیورسٹی بن گئی تو فارسی زبان کے نصاب میں اس کا کورس ہونا ضروری ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اللہ اللہ اس بزرگ کے خمیر میں علم اور عشق ملت کو کس طرح سمو دیا گیا ہے!&lt;br /&gt;
محمد اکرام صاحب کو غالب نامہ کے موصول ہونے پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’بلاشبہ آپ نے غالب پر ایک نہایت عمدہ تصنیف پیش کی ہے اگرچہ مجھے آپ کے چند نتائج سے اتفاق نہیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ حضرت غالب کو اردو نظم میں بیدل کی تقلید میں ناکامی ہوئی‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں انہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’ہسپانیہ پر نظم یوں تو تمام تر پرسوز ہے لیکن طارق سے متعلق اشعار بالخصوص دلگداز ہیں میں اسے محفوظ رکھوں گا اور کوشش کروں گا کہ یہ اشعار اردو میں منتقل ہو سکیں۔ میں اپنی سیاحت اندلس سے بے حد لذت گیر ہوا ہوں۔ وہاں دوسری نظموں کے علاوہ ایک نظم مسجد قرطبہ پر لکھی گئی جو کسی وقت شائع ہو گی۔ الحمرا ء کا تو مجھ پر کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا لیکن مسجد کی زیارت نے مجھے جذبات کی ایسی رفعت تک پہنچا دیا جو مجھے پہلے کبھی نصیب نہ ہوئی تھی‘‘۔&lt;br /&gt;
سید سلیمان کی تصنیف عمر خیام پر انہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’جو کچھ آپ نے لکھ دیا ہے اس پر اب کوئی مشرقی یا مغربی عالم اضافہ نہ کر سکے گا‘‘۔&lt;br /&gt;
مولوی سراج الدین پال کے نام ان کے خطوط ملاحظہ فرمائیے اور دیکھیؤے کہ صرف خواجہ حافظ پر ای مضمون کی ترغیب کے لیے کتنی مرتبہ انہیں لکھا ہے  اور کس قدر حوالہ جات انہیں میہیا کیے ہیں اور کس طرح ان کی رہنمائی کی ہے۔ اسی طرح جو بات نہیں جانتے تھے یا جس کی وضاحت چاہتے تھے یا جس کے ایسے پہلو جو نظر انداز کر دیے گئے تھے۔ اسی طرح جو بات نہیں جانتے تھے یا جس کی وضاحت چاہتے تھے یا جس کے ایسے پہلو جو نظر انداز کر دیے گئے ہیں جاننا چاہتے تھے دوسروں سے پوچھتے تھے۔ جو دوسروں کو بتا سکتے تھے خوشی سے بتاتے تھے۔ اس سلسلہ میں صرف ایک اور مثال پیش کرتا ہوں۔&lt;br /&gt;
حافظ محمد فضل الرحمن انصاری کو ۱۹۳۷ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’جہاں تک اسلامی ریسرچ کا تعلق ہے فرانس جرمنی‘ انگلستان اور اٹلی کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے مقاصد خاص ہیں جن کو عالمانہ تحقیق اور حقائق حق کے ظاہری طلسم میں چھپایا جاتا ہے۔ ان حالات میں آ پ کے بلندمقاصد پر نظر رکھتے ہوئے بلاتامل کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے لیے یورپ جانا بے سود ہے:&lt;br /&gt;
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب&lt;br /&gt;
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں!&lt;br /&gt;
مصر جائیے عربی زبان میں مہارت پیدا کیجیے۔ اسلامی علوم اسلام کی دینی اور سیاسی تاریخ تصوف‘ فقہ ‘ تفسیر کا بغور مطالعہ کر کے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل روح تک پہنچنے کی کوشش کیجیے۔ پھر اگر ذہن خداداد ہے تو اور دل میں خدمت اسلام کی تڑپ ہے تو آپ اس تحریک کی بنیاد رکھ سکیں گے جو اس وقت آپ کے ذہن میں ہے&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4282</id>
		<title>خلوص</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4282"/>
		<updated>2018-06-14T21:02:33Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال کی زندگی سراپا خلوص تھی اور ان خطوط میں اس کی لفظی و عملی شہادت کثرت سے موجود ہے۔ وہ دوستوں کے دکھ درد میں ان کا شریک اور ان کی امداد و اعانت پر کمر بستہ ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی مروت کے لیے بھی دلی اور دائمی احسان مندی اس کا خاصہ ہے۔ عطیہ بیگم اس امر پر اظہار تاسف کرتی ہیں کہ شمالی ہندوستان میں اقبال کو عوام میںوہ عقیدت اور قدر و منزلت حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’لو گ ریاکاری سے عقیدت رکھتے ہیں اور اسی کا احترام کرتے ہیں۔ میں ایک بے ریا زندگی بسر کرتاہوں اور منافقت سے کوسوں دور ہوں۔ اگر ریاکاری و منافقت ہی میرے لیے وجہ حصول احترام و عقیدت ہو سکتی ہے تو خدا کرے میں اس دنیا سے ایسا بے تعلق اور بیگانہ ہو جائوں کہ میرے لیے بھی ایک آنکھ اشک بار اور ایک بھی زباں نوحہ خواں نہ ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال کی زبان حقیقت ترجمان پر حق ضرور جاری ہو جایا کرتاتھا چنانچہ ۱۹۰۹ء میں عطیہ بیگم کو ہی ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اگر وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میںطوفان بپا کیے ہوئے ہیں عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی۔ دنیا میرے گناہوں پر پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کرے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال کے قلب با صفا اور زبان بے ریا سے نکلے ہوئے یہ کلمات کتنے سچے ثابت ہوئے اور اس کی وفات پر ایک دنیا نے اسے آہوں اور آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کیا اور آج:&lt;br /&gt;
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری&lt;br /&gt;
کہ خاک کوہ کو میں نے بتایا راز الوندی!&lt;br /&gt;
(اقبال)&lt;br /&gt;
مہاراجہ سر کشن پرشاد سے بہت عرصہ اقبال کی خط و کتابت رہی۔ اقبال کی نیاز مندی اور حفظ مراتب کی شان ابتدا سے انتہا تک یکساں رہی۔ اقبال کے جاننے والے حیران ہیں کہ آخر اس ہندو رئیس  میں کیا خوبی تھی کہ جو اقبال ا س کا گرویدہ ہو گیا۔ حضرت علامہ کے ایک ندیم خاص نے تو ایک پرائیویٹ گفتگو میں یہاںتک فرمایا کہ اقبال نے کبھی مہاراجہ سے تعلقات کا اشارتہً بھی ذکر نہیں فرمایا تھا۔ لیجیے اقبال کی زبانی اس رابطہ کی نوعیت ملاحظہ فرما لیجیے۔ مارچ ۱۹۱۷ء میں مہاراجہ بہادر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے خلوص سرکار سے ہے اس کا راز معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں سرکار کی قبائے امارت سے میرے دل کو مسرت ہے۔ مگر میری نگاہ اسے سے پرے جاتی ہے۔ اور اس چیز پر جا ٹھہرتی ہے جو اس قبا میں پوشیدہ ہے۔ الحمد اللہ یہ خلوص کسی غرض کا پردہ دار نہیں اورنہ انشاء اللہ ہو گا۔ انسانی قلب کے لیے اس سے بڑھ کر زبوں بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا خلوص پروردہ اغراض و مقاصد ہو جائے انشاء اللہ العزیز اقبال کو آپ حاضر و غائب اپنا مخلص پائیں گے۔ اللہ نے اس کو نگاہ بلند اور دل غیور عطا کیا ہے۔ جو خدمت کا طالب نہیں اور احباب کی خدمت کو ہمیشہ حاضر ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’انہیں باتوں سے اقبال آ پ کا گرویدہ ہے۔ امارت عزت آبرو‘ جاہ و حشم عام ہے مگر دل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر امیر کے پہلو میں نہیں ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس سے ایک پہلے خط میں مہاراجہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ کہ آئینہ دل گر د غرض سے پاک ہے۔ اقبال کا شعار ہمیشہ محبت و خلوص ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔ اغراض کا شائبہ خلوص کو مسموم کر دیتا ہے۔ اور خلوص وہ چیز ہے کہ اس کو محفوظ و بے لوث رکھنا بندہ درگاہ کی زندگی کا مقصود اعلیٰ و اسنیٰ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خلوص و بے ریائی کا نتیجہ تھاکہ یہ ہندو مہاراجہ جس کی حیثیئت کتنے ہی ہندو والیان ریاست سے بڑھ کر تھی اقبال کو اپنی بیٹیوں کے رشتے کی تلاش کی دوستانہ فرمائش کرتا ہے اور اقبال اس دوستانہ اعتماد کا پورا پورا عملی احترام کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں میں جا بجا ایسے شواہد موجود ہیں کہ اقبال نے کبھی کسی دوست کو کسی دوسرے دوست یا بیگانے کے متعلق ایسی بات نہیںلکھی کہ جو براہ راست اسے لکھنے یا کہنے پر آمادہ نہ ہوں۔&lt;br /&gt;
[[تہجد]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''قبول تنقید و اصلاح'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال نے شاعری سے ہمیشہ بیزاری کا اظہار کیا لیکن اسے اپنے خیالت کی اشاعت کا ای مقبول ذریعہ سمجھتے ہوئے اختیار کیے رکھا۔ شاعر فطرتاً حساس ہوتے ہیں۔ مصنف مصور شاعر اور ہر صاحب فن کے لیے اس کے کمال ہنر کی داد سب سے بڑی مسرت اور اس کے فن پر تنقید اس کے لیے انتہائے اذیت کا موجب ہوا کرتی ہے اور شاعر حضرات بالخصوص:&lt;br /&gt;
نازک مزاج شاہاں تاب سخن نہ دارد &lt;br /&gt;
ک مصداق ہوا کرتے ہیں  اقبال ایک طبع سلیم لے کر پید اہوئے تھے۔ تنقید و اصلاح کلام کے بارے میں بھی ان کا رویہ سلامتی انکساری حصول علم اور استفادہ ہی کا رہا اور اپنے کلام پر اعتراضات کو انہوںنے خندہ پیشانی اور دلی شکریہ سے قبول فرمایا۔&lt;br /&gt;
۱۹۰۳ء میں مولوی حبیب الرحمن خاں شیروانی کو اپنے اشعار پر تنقید موصول ہونے پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’حقیقت یہ ہے کہ آج مجھے اپنے ٹوٹے پھوٹے اشعار کی داد مل گئی۔ آپ کا تہ دل سے مشکور ہوں۔ آپ لوگ نہ ہوں تو واللہ ہم شعر کہنا ترک کر دیں۔ اگرچہ جلسہ میںہر طرف سے لوگ حسب معمول ان کی تعریف کرتے تھے۔ مگر جو مزا مجھے آپ کی داد سے ملا ہے اسے میرا دل ہی جانتا ہے۔ آ پ کا خط حفاظت سے صندوق میں بند کر دیا ہے نظر ثانی کے وقت آپ کی تنقیدوں سے فائدہ اٹھائوں گا‘‘۔&lt;br /&gt;
مولوی سید سلیمان ندوی کو جن کے علم و فضل اور خدمات دینی کا اقبال کو مخلصانہ اعتراف و احترام تھا لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معارف میں ابھی آپ کا ریویو مثنوی رموز بے خودی نظر سے گزرا… آپ نے جو کچھ فرمایا وہ میرے لیے سرمایہ افتخار ہے صحت الفاظ و محاورات کے متعلق جو کچھ آپ نے لکھا ہے ضرور صحیح ہو گا لیکن آپ نے ان لغزشوں کی طرف بھی توجہ کرتے تو آپ کا ریویو میرے لیے مفید ہوتا۔ اگر آپ نے غلط ملط الفاظ اور محاورات نوٹ کر رکھے ہیں تو مہربانی کر کے مجھے ا ن سے آگاہ کیجیے کہ دوسرے ایڈیشن میں ان کی اصلاح ہو جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں اپنی لغزشوں پر آگاہی کے لیے تقاضا کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’رموز بے خودی کی لغزشوں سے آغاہ کرنے کا آپ نے وعد ہ کیا تھا۔ اب تو ایک ماہ سے بہت زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ امید ہے ک توجہ فرمائی جائے تاکہ میں دوسرے ایڈیشن میں آپ کے ارشادات سے مستفید ہو سکوں‘‘۔&lt;br /&gt;
اس تقاضے کے جواب میں جوطویل الفاظ و محاورات اور بعض اشعار کی نوعیت کے متعلق موصول ہوئی اس پر سید صاحب موصوف کو اپنے الفاظ کی بنا پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مثالیں اساتذہ موجود ہیں مگرا س خیا ل سے آ پ کا وقت ضائع ہو گا نظر انداز کرتا ہوں البتہ اگر آ پ اجازت دیں تو لکھوں گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اور پھر کس قدر انکسار اور طالب علمانہ جستجو ارو احترام کے اندازمیں لکھا:&lt;br /&gt;
’’محض یہ معلوم کرنے کے لیے کہ میں نے غلط مثالیں تو نہیں انتخاب کیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اجازت موصول ہونے پر اعتراضات کے جواب میں مثالوں میں اساتذہ کے اشعار بطور سند پیش کیے محض ایک مثال پیش کرتا ہوں خیال ہے کہ سید صاحب کا ذوق شعر اس شعر کو پڑھ کر ایک مرتبہ تو وجد میں آ ہی گیا ہو گا۔ علامہ نے عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ سے متعلق مثنوی میںلکھا تھا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کور ذوقاں داستانہا ساختند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وسعت ادراک او نشاختند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال سید صاحب کو لکھتے ہیں کہ کور ذوق کی نسبت آپ کا ارشاد تھا کہ بے مزہ ترکیب ہے۔ اس کے جواب میں یہ سند پیش کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
چہ غم زیں عروس سخن رابتہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ بر کور ذوقاں شود جلوہ گر &lt;br /&gt;
(ظہوری)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد احمد خاں صاحب نے دو ایک اشعار کی معانی کی وضاحت چاہی اورلکھا کہ ان کے دوستوں کو:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قید دستور سے بالا ہے مگر دل میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فرش سے شعر ہوا عرش پہ نازل میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کے مصرع دوم بالخصوص لفظ ’’نازل‘‘ پر اعتراض ہے جس کے معنے اوپر سے نیچے آنے کے لیں لہٰذا فرش سے عرش پر نازل ہونا &lt;br /&gt;
صحیح نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے دوسرے دو اشعار کے متعلق تو جواب لکھا لیکن اس اعتراض کے متعلق لکھا کہ تیسرے سوال کا جواب ذوق سلیم سے پوچھیے نہ مجھ سے نہ منطق سے نہ کسی ماہر زبان سے۔&lt;br /&gt;
آل احمد سرور معلم شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی نے اپنے چند شکوک تحریر فرمائے ہیں۔ انہیںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے کلام پر ناقدانہ نظر ڈالنے سے پہلے حقائق اسلامیہ کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگر آپ پور ے غو ر و توجہ سے یہ مطالعہ کریں تو ممکن ہے کہ آپ بھی انہی نتائج تک پہنچیں جن تک میں پہنچا ہوں۔ اس صورت میں غالباً آپ کے شکوک تمام رفع ہو جائیں گے۔ یہ ممکن ہے کہ آپ کا Viewمجھ سے مختلف ہو یا آپ کود دین اسلام کے حقائق ہی کو ناقص تصور کریں۔ اس دوسری صورت میں دوستانہ بحث ہو سکتی ہے۔ جس کا نتیجہ معلوم نہیں کیا ہو آپ کے خط سے معلو م ہوتا ہے کہ آپ نے میرے کلام کا بھی بالاستعیاب مطالعہ نہیں کیا۔ اگر میرا خیا ل صحیح ہے تو میں آپ کو دوستانہ مشورہ دیتا ہوں اور آپ بھی اس کی طرف توجہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے بہت سی باتیں خود بخود آپ کی سمجھ میں آ جائیں گی۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک عقیدت منداقبال کی ایک پرانی نظم پر کسی تنقید کی طرف توجہ دلاتے ہیں تواغلاط کتابت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’نقاد کی نظر سے نظم کے حقیقی اسقام البتہ پوشیدہ رہے۔ شعر محاورہ اور بندش ی درستی اور چستی کا نام نہیں۔ میرا ادبی نصب العین نقاد کے نصب العین سے مختلف ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ نے ہمیشہ تنقید کا خیر مقدم کیا۔ اور اعتراض کو سمجھنے اور جواب کے سمجھانے میں عالی حوصلگی سے کام لیا ہے۔ ایک مرتبہ جب کسی نااہل نے علامہ اقبال کے کلام میں اصلاح کی جرات کی تو علامہ اقبال نے اپنے انداز خاص میں ان کے ارشادات عالیہ کا جواب لکھا۔ بابو عبدالمجید صاحب کو ۱۹۰۴ ء میں لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
’’یہ کوئی صاحب چھوٹے شملہ سے میری غزل کی اصلاح کر کے ارسال کرتے ہیں۔ میری طرف سے ان کا شکریہ ادا کیجیے اور عرض کیجیے کہ بہتر ہو اگر آپ امیر و داغ کی اصلاح کیا کریں۔ مجھ گمنام کی اصلاح کرنے سے آپ کی شہرت نہ ہو گی۔ میرے بے گناہ اشعار کو جو حضرت نے تیغ قلم سے مجروح کیا ہے اس کا صلہ انہیں خدا سے ملے… امید ہے کہ وہ برانہ سمجھیں گے۔ اکثر انسانوں کو کنج تنہائی میں بیٹھے بیٹھے ہمہ دانی کا دھوکا ہو جاتاہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اشعار کو تیغ قلم سے مجروح کرنے کی ترکیب سے مجھے حضرت علامہ کے استاد گرامی مولوی میر حسن صاحب کا ایک لطیفہ یاد آ گیا جو دوران ملازمت مرے کالج میں انہوںنے مجھ سے بیان فرمایا تھا۔ سیالکوٹ کے ایک مشہور شاعر جو اپنے آپ کو اقبال کا حریف سمجھتے تھے۔ اور آبائی پیشہ کے لحاظ سے قصا ب تھے مولوی کی خدمت میں ایک غزل لے کر حاضر ہوئے اور ملاحظہ کی فرمائش کی۔ مولوی صاحب نے غزل دیکھی اور خاموش رہے ۔ شاعر کا دل داد کے لیے گدگدا رہا تھا۔ مولوی صاحب نے پوچھا کہ اپنی رائے گرامی بھی &lt;br /&gt;
فرمائیے کیا ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا کہ میرے دوست! کیا کہوں آپ نے شاعری کا جھٹکا کر دیا ہے! [[تحفہ کلام و داد سخن]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%81_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%D8%AE%D9%86&amp;diff=4278</id>
		<title>تحفہ کلام و داد سخن</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%81_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%D8%AE%D9%86&amp;diff=4278"/>
		<updated>2018-06-14T20:59:57Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال عمر بھر شاعری سے انکار کرتے رہے لیکن کسی صاحب ذو ق اور سخن فہم کو ان کی رنگیں نوائی اور جادو بیانی یا رائے انکار نہیں ۔ اپنے شعر کی شوکت وعظمت اور تاثیرو قوت کا ان کو کس قد ر صحیح اندازہ تھا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
باغباں زور کلامم آزمود&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصرعے ارید و شمشیرے درود&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شاعر کے کلام کی داد کے لیے سخن فہمی کو جو اہمیت حاصل ہے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ انہوںنے منشی سراج الدین &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صاحب کو ۱۹۱۵ء میں لکھا:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ آ پ کو مثنوی پسند ہوئی آپ ہندوستان کے ان چیدہ لوگوں میں سے ہیں کہ جن کو شاعری سے طبعی مناسبت ہے اور اگر ذرا نیچر فیاضی سے کام لیتی توآپ کو زمرہ شعراء میں پیدا کرتی بہرحال شعر کا صحیح ذوق شاعری سے کم نہیں بلکہ کم از کم ایک اعتبار سے ا س سے بہتر ہے۔ محض ذوق شعر رکھنے والا شعر کا ویسا ہی لطف اٹھا سکتا ہے جیسا کہ خود شاعر اور تصنیف اور تصنیف کی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شدید تکلیف اسے اٹھانی نہیں پڑتی‘‘۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شاعر ی میں اقبال کی پور ی عمر گزری اور اس کی شاعری نے دنیائے اسلام میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ اقبال نے کون کون سے شعروں کے پسند کیے اورکون کون سے اشعار اہل ذوق کی خدمت میں لطف اندوزی کے لیے پیش کیے۔ مکاتیب اقبال میں ملاحظہ فرمائیے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں سید سلیمان ندوی کے شعر:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہزار بار مجھے لے گیا ہے مقتل میں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ ایک قطرہ خوں جو رگ گلو میں ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کی دل کھول کر داددی ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ماہ را بہ فلک دونیم کند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فقر را ترکمانئے  ہم است&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کے مصرع ثانی کو خاص طور پر پسند فرمایا اور دہرایا ہے لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’آپ کا مصرع لاجواب ہے…&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
معارف میں کسی ہندو شاعر کاشعر نظر سے گزرا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بس کہ از شرم تو در پرداز رنگ گلشن است&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
رشتہ نظارہ بندد در ہوا گلدستہ را&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور کچھ عرصہ ہوا اخبا ر ’’انجیل‘‘ میں کسی نے نہایت عمدہ شعر لکھا تھا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شب چو انداز ہم آغوشی اویاد کنم&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خویش را تنگ بہ برگیرم و فریاد کنم&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نیاز الدین خان کو لکھتے ہیں اور عنوان مکتوب گرامی کا یہ شعر ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عصیان ما و رحمت پروردگار ما&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایں را نہایتے است نہ آں را نہایتے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شعر مندرجہ عنوان نے بے چین کر دیا ہے سبحان اللہ! گرامی کے اس شعر پر ایک لاکھ دفعہ اللہ اکبر پڑھنا چاہیے۔ خواجہ حافظ تو ایک طرف فارسی لٹریچر میں اس پائے کا شعر بہت کم نکلے گا… ابکہ یہ خط لکھ رہا ہوں شعر مندرجہ عنوان کے اثر سے دل سو ز و گداز سے معمور ہے۔ گرامی صاحب اپنے شعر کا اثر دیکھتے تو نہ صرف میری ولایت کے قائل ہو جاتے بلکہ اپنی ولایت میں بھی انہیں شک نہ رہتا‘‘۔&lt;br /&gt;
حضرت علامہ کو اپنے کلام میں سے کچھ اشعارپسن تھے جنہیں وہ تحفتہً احباب ذوق اور سخن فہم دوستوں کو بھیجتے تھے۔&lt;br /&gt;
مولانا اکبر الہ آبادی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’سیدھے آسان اور مختصر الفاظ میں حقائق بیان کرنا آپ کا کمال ہے۔ عبدالماجد صاحب نے جو شعر آپ کا پسند کیا ہے نہایت خوب صورت ہے۔ میں نے بھی اسی مضمون پر ایک شعر لکھا تھا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
گل تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شمع بولی گریہ غم کے سوا کچھ بھی نہیں‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا اکبر الہ آبادی کی خدمت ہی میں ایک دوسرے خط میں چند اشعار ارسال فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فزوں قبیلہ آں پختہ کار باد کہ گفت&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چراغ راہ حیات است جلوہ امید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بیار بادہ کہ گردوں بکام ما گردید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مثال غنچہ نواہاز شاخسار دمید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مقطع لاجواب ہے اوران کو ا س زمانے کی ذہنی کیفیت اور ماحول کا آئینہ دار:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نواز حوصلہ دوستاں بلند تراست&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غزل سر اشدم آنجا کہ کس نشیند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا اکبر ہی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مثنوی کا تیسرا حصہ لکھنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ دو شعر یاد آئے ہیں جو دو یا تین ماہ ہوئے لکھے تھے۔ عرض کرتا ہوں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
درجہاں مانند جوئے کوہسار&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
از نشیب و ہم فراز آگاہ شو&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یا مثال سیل بے زنہار خیز&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فارغ از پست و بلند راہ شو&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت گرامی کو ۱۹۱۰ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’آپ نے ایک غزل لکھی تھی فرسنگ است تنگ است۔ اسی زمین پر میں ایک استاد کا ایک شعر نہایت پسند آیا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہلاک شیشہ درخوں نشستہ خویشم&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ آخریں نفسش عذر خواہی سنگ است&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سر کشن پرشاد کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’حال ہی میں ایک اردو غزل لکھی تھی۔ اس کے ایک دو شعر ملاحظہ کے لیے لکھتا ہوں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عشق ہو مصلحت اندیش توہے خام ابھی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شیوہ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو ہے زناری بت خانہ ایام ابھی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مہاراجہ کو ہی ایک دوسرے موقع پر مضمون اور مہاراجہ کی مناسبت س کیا برمحل لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’بھلا یہ دو شعرکیسے ہیں؟ بنظر اصلاح ملاحظہ فرمائیے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہ یزداں روز محشر برہمن گفت&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فروغ زندگی تاب شرر بود&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ولیکن نہ رنجی بار تو گویم&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صنم از آدمی پائندہ تربود&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مہاراجہ ہی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’کیا دلکش اور معنی خیز شعر کسی ایرانی شاعر کا ہے:&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
بزمے کہ دراںسفرہ کشد جلوہ دیدار&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کونین غبارے است کہ از بال مگس ریخت&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی ایڈیٹر عبرت کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر مضمون کی داد دیتے ہوئے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں نے ان کی زندگی کے تمام واقعات ایک شعر میں بند کر دیے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہمت و کشت ملت راچو ابر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ثانی اسلام و غار و بدر و قبر‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولوی الف دین صاحب کے دو اشعار میں اصلاح کی تجویز فرمانے کے بعد لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’باقی اشعار نہایت عمدہ اور صاف ہیں مثنوی اسرار خودی کے دوسرے حصہ کا قریب پانچ سو شعر لکھا گیا ہے مگر ہاتف کبھی کبھی دوچار ہوتے ہیں اور مجھے فرصت کم ہے۔ امید ہے کہ رفتہ رفتہ ہو جائیں گے۔ ہجرت کے مفہوم کے متعلق چند اشعار جو لکھے ہیں عرض کرتا ہوں تاکہ آپ اندازہ کر سکٰں کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس کے بعد ۲۱ اشعار لکھے ہیں۔&lt;br /&gt;
حضرت علامہ کو عالمگیرؒ سے خاص عقیدت تھی۔ جن پر مثنوی میں ان کی فارسی نظم اہل ذوق کے لیے ایک وجد انگیز تحفہ ہے۔ ۱۹۱۵ء میں سفر حیدر آباد میں علامہ مزار عالمگیر پر حاضر ہوئے اورایک نظم لکھنے کا خیال پیدا ہوا۔ اس زمانے میں شاعری سے بیزاری بہت بڑھی ہوئی تھی لیکن عالمگیرؒ کے کردار کا احترام ہدیہ عقیدت کا طالب تھا۔ عطیہ بیگم کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھ میں اب شاعری کے لیے کوئی ولولہ باقی نہیں رہا۔ ایسا محسو س کرتا ہوں کہ کسی نے میری شاعری کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ ارومیں محروم تخیل کر دیا گیا ہوں۔ شاید حضرت عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ پر جن کے مرقد  منور کی میں نے حال ہی میں زیارت کی سعادت حاصل کی ہے میری ایک نظم ہو گی جو میرے آخری اشعار ہوں گے۔ اس نظم کا لکھنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں میرا خیال ہے کہ اگر مکمل ہو گئی تو کافی عرصہ تک زندہ رہے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی سلسلہ میں علامہ اقبال کے بڑے بھائی کو عقیدت ملاحظہ فرمائیے۔ اقبال لسان العصر اکبر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’عالمگیر ؒ کے مزار پر حاضر ہوا تھا میرے بڑے بھائی بھی میرے ساتھ تھے۔ کہنے لگے کہ میں قنات کے اندر نہ جائوں گا (مزار کے گرد قنات تھی) کہ میری ڈاڑھی غیر مشروع ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’فی الحال مثنوی کا دوسرا حصہ بھی ملتوی ہے مگر اس میں عالمگیر اورنگ زیبؒ کے متعلق جو اشعار لکھے ہیں ان میں سے ایک عرض کرتا ہوں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
درمیان کارزار کفر و دیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ترکش مارا خدنگ آخریں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پروفیسر اکبر منیر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اشعار جو آپ نے بھیجے ہیں نہایت دلچسپ ہیں اور بالخصوص مسلمانے نمی بینم نے مجھے رلا دیا‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں انہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ کا قیام ایران یقینا آپ کے لیے نہایت خوشگوار سود مند ثابت ہوا ہے۔ اس کی بدولت آپ کے کلام میں ایک سادگی قوت اور جلا آگئی ہے ‘‘۔&lt;br /&gt;
دعوت شعر گوئی یا مصرع بندی کی ایک ہی مثال مکاتیب اقبال میں ملتی ہے۔ مہاراجہ کشن پرشاد کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کئی دن سے ایک مصرع ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ اس پر اشعار لکھیے یا اس پر مصرع لگائیے۔ مولانا گرامی کی خدمت میں بھی یہ مصرع ارسال کیا ہے اور مولانا اکبر کی خدمت میں بھی لکھوں گا:&lt;br /&gt;
ایں سر خلیل است بآذر نتواں گفت‘‘&lt;br /&gt;
مکاتیب میں جابجا اشعار سے متعلق دلچسپ اشارات ملتے ہیں۔ اس سلسلہ کو علامہ کی تحریر پر جو انہوںنے علامہ کیفی چریا کوٹی کو لکھی تھی ختم کرتا ہوں۔ جس سے اہل علم سے علامہ کی عقیدت ظاہر ہوتی ہے:&lt;br /&gt;
’’آپ کی مرسلہ نظم پہنچی میری عزت ہوئی میں اس پر کیا اظہار خیال کروں! ہم لوگ آپ کے زلہ ربا ہیں آپ کے خاندان میں سے ایک عالم فیضیاب ہے اور آپ کی ذات سے ہو رہا ہے۔ آپ ہمارے رہنما ہیں‘‘&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%81_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%D8%AE%D9%86&amp;diff=4274</id>
		<title>تحفہ کلام و داد سخن</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AA%D8%AD%D9%81%DB%81_%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D9%88_%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%B3%D8%AE%D9%86&amp;diff=4274"/>
		<updated>2018-06-14T20:54:29Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt; اقبال عمر بھر شاعری سے انکار کرتے رہے لیکن کسی صاحب ذو ق اور سخن فہم کو ان کی رنگیں نوائی...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال عمر بھر شاعری سے انکار کرتے رہے لیکن کسی صاحب ذو ق اور سخن فہم کو ان کی رنگیں نوائی اور جادو بیانی یا رائے انکار نہیں ۔ اپنے شعر کی شوکت وعظمت اور تاثیرو قوت کا ان کو کس قد ر صحیح اندازہ تھا:&lt;br /&gt;
باغباں زور کلامم آزمود&lt;br /&gt;
مصرعے ارید و شمشیرے درود&lt;br /&gt;
شاعر کے کلام کی داد کے لیے سخن فہمی کو جو اہمیت حاصل ہے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ انہوںنے منشی سراج الدین صاحب کو ۱۹۱۵ء میں لکھا:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ آ پ کو مثنوی پسند ہوئی آپ ہندوستان کے ان چیدہ لوگوں میں سے ہیں کہ جن کو شاعری سے طبعی مناسبت ہے اور اگر ذرا نیچر فیاضی سے کام لیتی توآپ کو زمرہ شعراء میں پیدا کرتی بہرحال شعر کا صحیح ذوق شاعری سے کم نہیں بلکہ کم از کم ایک اعتبار سے ا س سے بہتر ہے۔ محض ذوق شعر رکھنے والا شعر کا ویسا ہی لطف اٹھا سکتا ہے جیسا کہ خود شاعر اور تصنیف اور تصنیف کی شدید تکلیف اسے اٹھانی نہیں پڑتی‘‘۔&lt;br /&gt;
شاعر ی میں اقبال کی پور ی عمر گزری اور اس کی شاعری نے دنیائے اسلام میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ اقبال نے کون کون سے شعروں کے پسند کیے اورکون کون سے اشعار اہل ذوق کی خدمت میں لطف اندوزی کے لیے پیش کیے۔ مکاتیب اقبال میں ملاحظہ فرمائیے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں سید سلیمان ندوی کے شعر:&lt;br /&gt;
ہزار بار مجھے لے گیا ہے مقتل میں&lt;br /&gt;
وہ ایک قطرہ خوں جو رگ گلو میں ہے&lt;br /&gt;
کی دل کھول کر داددی ہے:&lt;br /&gt;
ماہ را بہ فلک دونیم کند&lt;br /&gt;
فقر را ترکمانئے  ہم است&lt;br /&gt;
کے مصرع ثانی کو خاص طور پر پسند فرمایا اور دہرایا ہے لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ کا مصرع لاجواب ہے…&lt;br /&gt;
معارف میں کسی ہندو شاعر کاشعر نظر سے گزرا:&lt;br /&gt;
بس کہ از شرم تو در پرداز رنگ گلشن است&lt;br /&gt;
رشتہ نظارہ بندد در ہوا گلدستہ را&lt;br /&gt;
اور کچھ عرصہ ہوا اخبا ر ’’انجیل‘‘ میں کسی نے نہایت عمدہ شعر لکھاتھا:&lt;br /&gt;
شب چو انداز ہم آغوشی اویاد کنم&lt;br /&gt;
خویش را تنگ بہ برگیرم و فریاد کنم&lt;br /&gt;
نیاز الدین خان کو لکھتے ہیں اور عنوان مکتوب گرامی کا یہ شعر ہے:&lt;br /&gt;
عصیان ما و رحمت پروردگار ما&lt;br /&gt;
ایں را نہایتے است نہ آں را نہایتے&lt;br /&gt;
شعر مندرجہ عنوان نے بے چین کر دیا ہے سبحان اللہ! گرامی کے اس شعر پر ایک لاکھ دفعہ اللہ اکبر پڑھنا چاہیے۔ خواجہ حافظ تو ایک طرف فارسی لٹریچر میں اس پائے کا شعر بہت کم نکلے گا… ابکہ یہ خط لکھ رہا ہوں شعر مندرجہ عنوان کے اثر سے دل سو ز و گداز سے معمور ہے۔ گرامی صاحب اپنے شعر کا اثر دیکھتے تو نہ صرف میری ولایت کے قائل ہو جاتے بلکہ اپنی ولایت میں بھی انہیں شک نہ رہتا‘‘۔&lt;br /&gt;
حضرت علامہ کو اپنے کلام میں سے کچھ اشعارپسن تھے جنہیں وہ تحفتہً احباب ذوق اور سخن فہم دوستوں کو بھیجتے تھے۔&lt;br /&gt;
مولانا اکبر الہ آبادی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’سیدھے آسان اور مختصر الفاظ میں حقائق بیان کرنا آپ کا کمال ہے۔ عبدالماجد صاحب نے جو شعر آپ کا پسند کیا ہے نہایت خوب صورت ہے۔ میں نے بھی اسی مضمون پر ایک شعر لکھا تھا:&lt;br /&gt;
گل تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر&lt;br /&gt;
شمع بولی گریہ غم کے سوا کچھ بھی نہیں‘‘&lt;br /&gt;
مولانا اکبر الہ آبادی کی خدمت ہی میں ایک دوسرے خط میں چند اشعار ارسال فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;
فزوں قبیلہ آں پختہ کار باد کہ گفت&lt;br /&gt;
چراغ راہ حیات است جلوہ امید&lt;br /&gt;
بیار بادہ کہ گردوں بکام ما گردید&lt;br /&gt;
مثال غنچہ نواہاز شاخسار دمید&lt;br /&gt;
مقطع لاجواب ہے اوران کو ا س زمانے کی ذہنی کیفیت اور ماحول کا آئینہ دار:&lt;br /&gt;
نواز حوصلہ دوستاں بلند تراست&lt;br /&gt;
غزل سر اشدم آنجا کہ کس نشیند&lt;br /&gt;
مولانا اکبر ہی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مثنوی کا تیسرا حصہ لکھنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ دو شعر یاد آئے ہیں جو دو یا تین ماہ ہوئے لکھے تھے۔ عرض کرتا ہوں:&lt;br /&gt;
درجہاں مانند جوئے کوہسار&lt;br /&gt;
از نشیب و ہم فراز آگاہ شو&lt;br /&gt;
یا مثال سیل بے زنہار خیز&lt;br /&gt;
فارغ از پست و بلند راہ شو&lt;br /&gt;
حضرت گرامی کو ۱۹۱۰ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ نے ایک غزل لکھی تھی فرسنگ است تنگ است۔ اسی زمین پر میں ایک استاد کا ایک شعر نہایت پسند آیا:&lt;br /&gt;
ہلاک شیشہ درخوں نشستہ خویشم&lt;br /&gt;
کہ آخریں نفسش عذر خواہی سنگ است&lt;br /&gt;
سر کشن پرشاد کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’حال ہی میں ایک اردو غزل لکھی تھی۔ اس کے ایک دو شعر ملاحظہ کے لیے لکھتا ہوں:&lt;br /&gt;
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل&lt;br /&gt;
عشق ہو مصلحت اندیش توہے خام ابھی&lt;br /&gt;
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق&lt;br /&gt;
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی&lt;br /&gt;
شیوہ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی &lt;br /&gt;
تو ہے زناری بت خانہ ایام ابھی&lt;br /&gt;
مہاراجہ کو ہی ایک دوسرے موقع پر مضمون اور مہاراجہ کی مناسبت س کیا برمحل لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’بھلا یہ دو شعرکیسے ہیں؟ بنظر اصلاح ملاحظہ فرمائیے:&lt;br /&gt;
بہ یزداں روز محشر برہمن گفت&lt;br /&gt;
فروغ زندگی تاب شرر بود&lt;br /&gt;
ولیکن نہ رنجی بار تو گویم&lt;br /&gt;
صنم از آدمی پائندہ تربود&lt;br /&gt;
مہاراجہ ہی کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کیا دلکش اور معنی خیز شعر کسی ایرانی شاعر کا ہے:&lt;br /&gt;
بزمے کہ دراںسفرہ کشد جلوہ دیدار&lt;br /&gt;
کونین غبارے است کہ از بال مگس ریخت&lt;br /&gt;
مولانا اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی ایڈیٹر عبرت کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر مضمون کی داد دیتے ہوئے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میں نے ان کی زندگی کے تمام واقعات ایک شعر میں بند کر دیے ہیں:&lt;br /&gt;
ہمت و کشت ملت راچو ابر&lt;br /&gt;
ثانی اسلام و غار و بدر و قبر‘‘&lt;br /&gt;
مولوی الف دین صاحب کے دو اشعار میں اصلاح کی تجویز فرمانے کے بعد لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’باقی اشعار نہایت عمدہ اور صاف ہیں مثنوی اسرار خودی کے دوسرے حصہ کا قریب پانچ سو شعر لکھا گیا ہے مگر ہاتف کبھی کبھی دوچار ہوتے ہیں اور مجھے فرصت کم ہے۔ امید ہے کہ رفتہ رفتہ ہو جائیں گے۔ ہجرت کے مفہوم کے متعلق چند اشعار جو لکھے ہیں عرض کرتا ہوں تاکہ آپ اندازہ کر سکٰں کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اس کے بعد ۲۱ اشعار لکھے ہیں۔&lt;br /&gt;
حضرت علامہ کو عالمگیرؒ سے خاص عقیدت تھی۔ جن پر مثنوی میں ان کی فارسی نظم اہل ذوق کے لیے ایک وجد انگیز تحفہ ہے۔ ۱۹۱۵ء میں سفر حیدر آباد میں علامہ مزار عالمگیر پر حاضر ہوئے اورایک نظم لکھنے کا خیال پیدا ہوا۔ اس زمانے میں شاعری سے بیزاری بہت بڑھی ہوئی تھی لیکن عالمگیرؒ کے کردار کا احترام ہدیہ عقیدت کا طالب تھا۔ عطیہ بیگم کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھ میں اب شاعری کے لیے کوئی ولولہ باقی نہیں رہا۔ ایسا محسو س کرتا ہوں کہ کسی نے میری شاعری کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ ارومیں محروم تخیل کر دیا گیا ہوں۔ شاید حضرت عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ پر جن کے مرقد  منور کی میں نے حال ہی میں زیارت کی سعادت حاصل کی ہے میری ایک نظم ہو گی جو میرے آخری اشعار ہوں گے۔ اس نظم کا لکھنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں میرا خیال ہے کہ اگر مکمل ہو گئی تو کافی عرصہ تک زندہ رہے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی سلسلہ میں علامہ اقبال کے بڑے بھائی کو عقیدت ملاحظہ فرمائیے۔ اقبال لسان العصر اکبر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’عالمگیر ؒ کے مزار پر حاضر ہوا تھا میرے بڑے بھائی بھی میرے ساتھ تھے۔ کہنے لگے کہ میں قنات کے اندر نہ جائوں گا (مزار کے گرد قنات تھی) کہ میری ڈاڑھی غیر مشروع ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
لسان العصر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’فی الحال مثنوی کا دوسرا حصہ بھی ملتوی ہے مگر اس میں عالمگیر اورنگ زیبؒ کے متعلق جو اشعار لکھے ہیں ان میں سے ایک عرض کرتا ہوں:&lt;br /&gt;
درمیان کارزار کفر و دیں&lt;br /&gt;
ترکش مارا خدنگ آخریں&lt;br /&gt;
پروفیسر اکبر منیر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اشعار جو آپ نے بھیجے ہیں نہایت دلچسپ ہیں اور بالخصوص مسلمانے نمی بینم نے مجھے رلا دیا‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں انہیں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’آپ کا قیام ایران یقینا آپ کے لیے نہایت خوشگوار سود مند ثابت ہوا ہے۔ اس کی بدولت آپ کے کلام میں ایک سادگی قوت اور جلا آگئی ہے ‘‘۔&lt;br /&gt;
دعوت شعر گوئی یا مصرع بندی کی ایک ہی مثال مکاتیب اقبال میں ملتی ہے۔ مہاراجہ کشن پرشاد کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’کئی دن سے ایک مصرع ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ اس پر اشعار لکھیے یا اس پر مصرع لگائیے۔ مولانا گرامی کی خدمت میں بھی یہ مصرع ارسال کیا ہے اور مولانا اکبر کی خدمت میں بھی لکھوں گا:&lt;br /&gt;
ایں سر خلیل است بآذر نتواں گفت‘‘&lt;br /&gt;
مکاتیب میں جابجا اشعار سے متعلق دلچسپ اشارات ملتے ہیں۔ اس سلسلہ کو علامہ کی تحریر پر جو انہوںنے علامہ کیفی چریا کوٹی کو لکھی تھی ختم کرتا ہوں۔ جس سے اہل علم سے علامہ کی عقیدت ظاہر ہوتی ہے:&lt;br /&gt;
’’آپ کی مرسلہ نظم پہنچی میری عزت ہوئی میں اس پر کیا اظہار خیال کروں! ہم لوگ آپ کے زلہ ربا ہیں آپ کے خاندان میں سے ایک عالم فیضیاب ہے اور آپ کی ذات سے ہو رہا ہے۔ آپ ہمارے رہنما ہیں‘‘&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4268</id>
		<title>خلوص</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4268"/>
		<updated>2018-06-14T20:47:27Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال کی زندگی سراپا خلوص تھی اور ان خطوط میں اس کی لفظی و عملی شہادت کثرت سے موجود ہے۔ وہ دوستوں کے دکھ درد میں ان کا شریک اور ان کی امداد و اعانت پر کمر بستہ ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی مروت کے لیے بھی دلی اور دائمی احسان مندی اس کا خاصہ ہے۔ عطیہ بیگم اس امر پر اظہار تاسف کرتی ہیں کہ شمالی ہندوستان میں اقبال کو عوام میںوہ عقیدت اور قدر و منزلت حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’لو گ ریاکاری سے عقیدت رکھتے ہیں اور اسی کا احترام کرتے ہیں۔ میں ایک بے ریا زندگی بسر کرتاہوں اور منافقت سے کوسوں دور ہوں۔ اگر ریاکاری و منافقت ہی میرے لیے وجہ حصول احترام و عقیدت ہو سکتی ہے تو خدا کرے میں اس دنیا سے ایسا بے تعلق اور بیگانہ ہو جائوں کہ میرے لیے بھی ایک آنکھ اشک بار اور ایک بھی زباں نوحہ خواں نہ ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال کی زبان حقیقت ترجمان پر حق ضرور جاری ہو جایا کرتاتھا چنانچہ ۱۹۰۹ء میں عطیہ بیگم کو ہی ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اگر وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میںطوفان بپا کیے ہوئے ہیں عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی۔ دنیا میرے گناہوں پر پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کرے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال کے قلب با صفا اور زبان بے ریا سے نکلے ہوئے یہ کلمات کتنے سچے ثابت ہوئے اور اس کی وفات پر ایک دنیا نے اسے آہوں اور آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کیا اور آج:&lt;br /&gt;
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری&lt;br /&gt;
کہ خاک کوہ کو میں نے بتایا راز الوندی!&lt;br /&gt;
(اقبال)&lt;br /&gt;
مہاراجہ سر کشن پرشاد سے بہت عرصہ اقبال کی خط و کتابت رہی۔ اقبال کی نیاز مندی اور حفظ مراتب کی شان ابتدا سے انتہا تک یکساں رہی۔ اقبال کے جاننے والے حیران ہیں کہ آخر اس ہندو رئیس  میں کیا خوبی تھی کہ جو اقبال ا س کا گرویدہ ہو گیا۔ حضرت علامہ کے ایک ندیم خاص نے تو ایک پرائیویٹ گفتگو میں یہاںتک فرمایا کہ اقبال نے کبھی مہاراجہ سے تعلقات کا اشارتہً بھی ذکر نہیں فرمایا تھا۔ لیجیے اقبال کی زبانی اس رابطہ کی نوعیت ملاحظہ فرما لیجیے۔ مارچ ۱۹۱۷ء میں مہاراجہ بہادر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے خلوص سرکار سے ہے اس کا راز معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں سرکار کی قبائے امارت سے میرے دل کو مسرت ہے۔ مگر میری نگاہ اسے سے پرے جاتی ہے۔ اور اس چیز پر جا ٹھہرتی ہے جو اس قبا میں پوشیدہ ہے۔ الحمد اللہ یہ خلوص کسی غرض کا پردہ دار نہیں اورنہ انشاء اللہ ہو گا۔ انسانی قلب کے لیے اس سے بڑھ کر زبوں بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا خلوص پروردہ اغراض و مقاصد ہو جائے انشاء اللہ العزیز اقبال کو آپ حاضر و غائب اپنا مخلص پائیں گے۔ اللہ نے اس کو نگاہ بلند اور دل غیور عطا کیا ہے۔ جو خدمت کا طالب نہیں اور احباب کی خدمت کو ہمیشہ حاضر ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’انہیں باتوں سے اقبال آ پ کا گرویدہ ہے۔ امارت عزت آبرو‘ جاہ و حشم عام ہے مگر دل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر امیر کے پہلو میں نہیں ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس سے ایک پہلے خط میں مہاراجہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ کہ آئینہ دل گر د غرض سے پاک ہے۔ اقبال کا شعار ہمیشہ محبت و خلوص ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔ اغراض کا شائبہ خلوص کو مسموم کر دیتا ہے۔ اور خلوص وہ چیز ہے کہ اس کو محفوظ و بے لوث رکھنا بندہ درگاہ کی زندگی کا مقصود اعلیٰ و اسنیٰ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خلوص و بے ریائی کا نتیجہ تھاکہ یہ ہندو مہاراجہ جس کی حیثیئت کتنے ہی ہندو والیان ریاست سے بڑھ کر تھی اقبال کو اپنی بیٹیوں کے رشتے کی تلاش کی دوستانہ فرمائش کرتا ہے اور اقبال اس دوستانہ اعتماد کا پورا پورا عملی احترام کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں میں جا بجا ایسے شواہد موجود ہیں کہ اقبال نے کبھی کسی دوست کو کسی دوسرے دوست یا بیگانے کے متعلق ایسی بات نہیںلکھی کہ جو براہ راست اسے لکھنے یا کہنے پر آمادہ نہ ہوں۔&lt;br /&gt;
[[تہجد]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
'''قبول تنقید و اصلاح'''&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال نے شاعری سے ہمیشہ بیزاری کا اظہار کیا لیکن اسے اپنے خیالت کی اشاعت کا ای مقبول ذریعہ سمجھتے ہوئے اختیار کیے رکھا۔ شاعر فطرتاً حساس ہوتے ہیں۔ مصنف مصور شاعر اور ہر صاحب فن کے لیے اس کے کمال ہنر کی داد سب سے بڑی مسرت اور اس کے فن پر تنقید اس کے لیے انتہائے اذیت کا موجب ہوا کرتی ہے اور شاعر حضرات بالخصوص:&lt;br /&gt;
نازک مزاج شاہاں تاب سخن نہ دارد &lt;br /&gt;
ک مصداق ہوا کرتے ہیں  اقبال ایک طبع سلیم لے کر پید اہوئے تھے۔ تنقید و اصلاح کلام کے بارے میں بھی ان کا رویہ سلامتی انکساری حصول علم اور استفادہ ہی کا رہا اور اپنے کلام پر اعتراضات کو انہوںنے خندہ پیشانی اور دلی شکریہ سے قبول فرمایا۔&lt;br /&gt;
۱۹۰۳ء میں مولوی حبیب الرحمن خاں شیروانی کو اپنے اشعار پر تنقید موصول ہونے پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’حقیقت یہ ہے کہ آج مجھے اپنے ٹوٹے پھوٹے اشعار کی داد مل گئی۔ آپ کا تہ دل سے مشکور ہوں۔ آپ لوگ نہ ہوں تو واللہ ہم شعر کہنا ترک کر دیں۔ اگرچہ جلسہ میںہر طرف سے لوگ حسب معمول ان کی تعریف کرتے تھے۔ مگر جو مزا مجھے آپ کی داد سے ملا ہے اسے میرا دل ہی جانتا ہے۔ آ پ کا خط حفاظت سے صندوق میں بند کر دیا ہے نظر ثانی کے وقت آپ کی تنقیدوں سے فائدہ اٹھائوں گا‘‘۔&lt;br /&gt;
مولوی سید سلیمان ندوی کو جن کے علم و فضل اور خدمات دینی کا اقبال کو مخلصانہ اعتراف و احترام تھا لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’معارف میں ابھی آپ کا ریویو مثنوی رموز بے خودی نظر سے گزرا… آپ نے جو کچھ فرمایا وہ میرے لیے سرمایہ افتخار ہے صحت الفاظ و محاورات کے متعلق جو کچھ آپ نے لکھا ہے ضرور صحیح ہو گا لیکن آپ نے ان لغزشوں کی طرف بھی توجہ کرتے تو آپ کا ریویو میرے لیے مفید ہوتا۔ اگر آپ نے غلط ملط الفاظ اور محاورات نوٹ کر رکھے ہیں تو مہربانی کر کے مجھے ا ن سے آگاہ کیجیے کہ دوسرے ایڈیشن میں ان کی اصلاح ہو جائے‘‘۔&lt;br /&gt;
ایک دوسرے خط میں اپنی لغزشوں پر آگاہی کے لیے تقاضا کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’رموز بے خودی کی لغزشوں سے آغاہ کرنے کا آپ نے وعد ہ کیا تھا۔ اب تو ایک ماہ سے بہت زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ امید ہے ک توجہ فرمائی جائے تاکہ میں دوسرے ایڈیشن میں آپ کے ارشادات سے مستفید ہو سکوں‘‘۔&lt;br /&gt;
اس تقاضے کے جواب میں جوطویل الفاظ و محاورات اور بعض اشعار کی نوعیت کے متعلق موصول ہوئی اس پر سید صاحب موصوف کو اپنے الفاظ کی بنا پر لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مثالیں اساتذہ موجود ہیں مگرا س خیا ل سے آ پ کا وقت ضائع ہو گا نظر انداز کرتا ہوں البتہ اگر آ پ اجازت دیں تو لکھوں گا‘‘۔&lt;br /&gt;
اور پھر کس قدر انکسار اور طالب علمانہ جستجو ارو احترام کے اندازمیں لکھا:&lt;br /&gt;
’’محض یہ معلوم کرنے کے لیے کہ میں نے غلط مثالیں تو نہیں انتخاب کیں‘‘۔&lt;br /&gt;
اجازت موصول ہونے پر اعتراضات کے جواب میں مثالوں میں اساتذہ کے اشعار بطور سند پیش کیے محض ایک مثال پیش کرتا ہوں خیال ہے کہ سید صاحب کا ذوق شعر اس شعر کو پڑھ کر ایک مرتبہ تو وجد میں آ ہی گیا ہو گا۔ علامہ نے عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ سے متعلق مثنوی میںلکھا تھا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کور ذوقاں داستانہا ساختند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وسعت ادراک او نشاختند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اقبال سید صاحب کو لکھتے ہیں کہ کور ذوق کی نسبت آپ کا ارشاد تھا کہ بے مزہ ترکیب ہے۔ اس کے جواب میں یہ سند پیش کرتے ہیں:&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
چہ غم زیں عروس سخن رابتہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ بر کور ذوقاں شود جلوہ گر &lt;br /&gt;
(ظہوری)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد احمد خاں صاحب نے دو ایک اشعار کی معانی کی وضاحت چاہی اورلکھا کہ ان کے دوستوں کو:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قید دستور سے بالا ہے مگر دل میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فرش سے شعر ہوا عرش پہ نازل میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کے مصرع دوم بالخصوص لفظ ’’نازل‘‘ پر اعتراض ہے جس کے معنے اوپر سے نیچے آنے کے لیں لہٰذا فرش سے عرش پر نازل ہونا &lt;br /&gt;
صحیح نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے دوسرے دو اشعار کے متعلق تو جواب لکھا لیکن اس اعتراض کے متعلق لکھا کہ تیسرے سوال کا جواب ذوق سلیم سے پوچھیے نہ مجھ سے نہ منطق سے نہ کسی ماہر زبان سے۔&lt;br /&gt;
آل احمد سرور معلم شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی نے اپنے چند شکوک تحریر فرمائے ہیں۔ انہیںلکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’میرے کلام پر ناقدانہ نظر ڈالنے سے پہلے حقائق اسلامیہ کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگر آپ پور ے غو ر و توجہ سے یہ مطالعہ کریں تو ممکن ہے کہ آپ بھی انہی نتائج تک پہنچیں جن تک میں پہنچا ہوں۔ اس صورت میں غالباً آپ کے شکوک تمام رفع ہو جائیں گے۔ یہ ممکن ہے کہ آپ کا Viewمجھ سے مختلف ہو یا آپ کود دین اسلام کے حقائق ہی کو ناقص تصور کریں۔ اس دوسری صورت میں دوستانہ بحث ہو سکتی ہے۔ جس کا نتیجہ معلوم نہیں کیا ہو آپ کے خط سے معلو م ہوتا ہے کہ آپ نے میرے کلام کا بھی بالاستعیاب مطالعہ نہیں کیا۔ اگر میرا خیا ل صحیح ہے تو میں آپ کو دوستانہ مشورہ دیتا ہوں اور آپ بھی اس کی طرف توجہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے بہت سی باتیں خود بخود آپ کی سمجھ میں آ جائیں گی۔ ‘‘&lt;br /&gt;
ایک عقیدت منداقبال کی ایک پرانی نظم پر کسی تنقید کی طرف توجہ دلاتے ہیں تواغلاط کتابت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’نقاد کی نظر سے نظم کے حقیقی اسقام البتہ پوشیدہ رہے۔ شعر محاورہ اور بندش ی درستی اور چستی کا نام نہیں۔ میرا ادبی نصب العین نقاد کے نصب العین سے مختلف ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ نے ہمیشہ تنقید کا خیر مقدم کیا۔ اور اعتراض کو سمجھنے اور جواب کے سمجھانے میں عالی حوصلگی سے کام لیا ہے۔ ایک مرتبہ جب کسی نااہل نے علامہ اقبال کے کلام میں اصلاح کی جرات کی تو علامہ اقبال نے اپنے انداز خاص میں ان کے ارشادات عالیہ کا جواب لکھا۔ بابو عبدالمجید صاحب کو ۱۹۰۴ ء میں لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
’’یہ کوئی صاحب چھوٹے شملہ سے میری غزل کی اصلاح کر کے ارسال کرتے ہیں۔ میری طرف سے ان کا شکریہ ادا کیجیے اور عرض کیجیے کہ بہتر ہو اگر آپ امیر و داغ کی اصلاح کیا کریں۔ مجھ گمنام کی اصلاح کرنے سے آپ کی شہرت نہ ہو گی۔ میرے بے گناہ اشعار کو جو حضرت نے تیغ قلم سے مجروح کیا ہے اس کا صلہ انہیں خدا سے ملے… امید ہے کہ وہ برانہ سمجھیں گے۔ اکثر انسانوں کو کنج تنہائی میں بیٹھے بیٹھے ہمہ دانی کا دھوکا ہو جاتاہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اشعار کو تیغ قلم سے مجروح کرنے کی ترکیب سے مجھے حضرت علامہ کے استاد گرامی مولوی میر حسن صاحب کا ایک لطیفہ یاد آ گیا جو دوران ملازمت مرے کالج میں انہوںنے مجھ سے بیان فرمایا تھا۔ سیالکوٹ کے ایک مشہور شاعر جو اپنے آپ کو اقبال کا حریف سمجھتے تھے۔ اور آبائی پیشہ کے لحاظ سے قصا ب تھے مولوی کی خدمت میں ایک غزل لے کر حاضر ہوئے اور ملاحظہ کی فرمائش کی۔ مولوی صاحب نے غزل دیکھی اور خاموش رہے ۔ شاعر کا دل داد کے لیے گدگدا رہا تھا۔ مولوی صاحب نے پوچھا کہ اپنی رائے گرامی بھی فرمائیے کیا ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا کہ میرے دوست! کیا کہوں آپ نے شاعری کا جھٹکا کر دیا ہے!&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4265</id>
		<title>خلوص</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4265"/>
		<updated>2018-06-14T20:41:17Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال کی زندگی سراپا خلوص تھی اور ان خطوط میں اس کی لفظی و عملی شہادت کثرت سے موجود ہے۔ وہ دوستوں کے دکھ درد میں ان کا شریک اور ان کی امداد و اعانت پر کمر بستہ ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی مروت کے لیے بھی دلی اور دائمی احسان مندی اس کا خاصہ ہے۔ عطیہ بیگم اس امر پر اظہار تاسف کرتی ہیں کہ شمالی ہندوستان میں اقبال کو عوام میںوہ عقیدت اور قدر و منزلت حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’لو گ ریاکاری سے عقیدت رکھتے ہیں اور اسی کا احترام کرتے ہیں۔ میں ایک بے ریا زندگی بسر کرتاہوں اور منافقت سے کوسوں دور ہوں۔ اگر ریاکاری و منافقت ہی میرے لیے وجہ حصول احترام و عقیدت ہو سکتی ہے تو خدا کرے میں اس دنیا سے ایسا بے تعلق اور بیگانہ ہو جائوں کہ میرے لیے بھی ایک آنکھ اشک بار اور ایک بھی زباں نوحہ خواں نہ ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال کی زبان حقیقت ترجمان پر حق ضرور جاری ہو جایا کرتاتھا چنانچہ ۱۹۰۹ء میں عطیہ بیگم کو ہی ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اگر وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میںطوفان بپا کیے ہوئے ہیں عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی۔ دنیا میرے گناہوں پر پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کرے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال کے قلب با صفا اور زبان بے ریا سے نکلے ہوئے یہ کلمات کتنے سچے ثابت ہوئے اور اس کی وفات پر ایک دنیا نے اسے آہوں اور آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کیا اور آج:&lt;br /&gt;
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری&lt;br /&gt;
کہ خاک کوہ کو میں نے بتایا راز الوندی!&lt;br /&gt;
(اقبال)&lt;br /&gt;
مہاراجہ سر کشن پرشاد سے بہت عرصہ اقبال کی خط و کتابت رہی۔ اقبال کی نیاز مندی اور حفظ مراتب کی شان ابتدا سے انتہا تک یکساں رہی۔ اقبال کے جاننے والے حیران ہیں کہ آخر اس ہندو رئیس  میں کیا خوبی تھی کہ جو اقبال ا س کا گرویدہ ہو گیا۔ حضرت علامہ کے ایک ندیم خاص نے تو ایک پرائیویٹ گفتگو میں یہاںتک فرمایا کہ اقبال نے کبھی مہاراجہ سے تعلقات کا اشارتہً بھی ذکر نہیں فرمایا تھا۔ لیجیے اقبال کی زبانی اس رابطہ کی نوعیت ملاحظہ فرما لیجیے۔ مارچ ۱۹۱۷ء میں مہاراجہ بہادر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے خلوص سرکار سے ہے اس کا راز معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں سرکار کی قبائے امارت سے میرے دل کو مسرت ہے۔ مگر میری نگاہ اسے سے پرے جاتی ہے۔ اور اس چیز پر جا ٹھہرتی ہے جو اس قبا میں پوشیدہ ہے۔ الحمد اللہ یہ خلوص کسی غرض کا پردہ دار نہیں اورنہ انشاء اللہ ہو گا۔ انسانی قلب کے لیے اس سے بڑھ کر زبوں بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا خلوص پروردہ اغراض و مقاصد ہو جائے انشاء اللہ العزیز اقبال کو آپ حاضر و غائب اپنا مخلص پائیں گے۔ اللہ نے اس کو نگاہ بلند اور دل غیور عطا کیا ہے۔ جو خدمت کا طالب نہیں اور احباب کی خدمت کو ہمیشہ حاضر ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’انہیں باتوں سے اقبال آ پ کا گرویدہ ہے۔ امارت عزت آبرو‘ جاہ و حشم عام ہے مگر دل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر امیر کے پہلو میں نہیں ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس سے ایک پہلے خط میں مہاراجہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ کہ آئینہ دل گر د غرض سے پاک ہے۔ اقبال کا شعار ہمیشہ محبت و خلوص ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔ اغراض کا شائبہ خلوص کو مسموم کر دیتا ہے۔ اور خلوص وہ چیز ہے کہ اس کو محفوظ و بے لوث رکھنا بندہ درگاہ کی زندگی کا مقصود اعلیٰ و اسنیٰ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خلوص و بے ریائی کا نتیجہ تھاکہ یہ ہندو مہاراجہ جس کی حیثیئت کتنے ہی ہندو والیان ریاست سے بڑھ کر تھی اقبال کو اپنی بیٹیوں کے رشتے کی تلاش کی دوستانہ فرمائش کرتا ہے اور اقبال اس دوستانہ اعتماد کا پورا پورا عملی احترام کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں میں جا بجا ایسے شواہد موجود ہیں کہ اقبال نے کبھی کسی دوست کو کسی دوسرے دوست یا بیگانے کے متعلق ایسی بات نہیںلکھی کہ جو براہ راست اسے لکھنے یا کہنے پر آمادہ نہ ہوں۔&lt;br /&gt;
[[تہجد]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4264</id>
		<title>خلوص</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4264"/>
		<updated>2018-06-14T20:40:46Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال کی زندگی سراپا خلوص تھی اور ان خطوط میں اس کی لفظی و عملی شہادت کثرت سے موجود ہے۔ وہ دوستوں کے دکھ درد میں ان کا شریک اور ان کی امداد و اعانت پر کمر بستہ ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی مروت کے لیے بھی دلی اور دائمی احسان مندی اس کا خاصہ ہے۔ عطیہ بیگم اس امر پر اظہار تاسف کرتی ہیں کہ شمالی ہندوستان میں اقبال کو عوام میںوہ عقیدت اور قدر و منزلت حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’لو گ ریاکاری سے عقیدت رکھتے ہیں اور اسی کا احترام کرتے ہیں۔ میں ایک بے ریا زندگی بسر کرتاہوں اور منافقت سے کوسوں دور ہوں۔ اگر ریاکاری و منافقت ہی میرے لیے وجہ حصول احترام و عقیدت ہو سکتی ہے تو خدا کرے میں اس دنیا سے ایسا بے تعلق اور بیگانہ ہو جائوں کہ میرے لیے بھی ایک آنکھ اشک بار اور ایک بھی زباں نوحہ خواں نہ ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال کی زبان حقیقت ترجمان پر حق ضرور جاری ہو جایا کرتاتھا چنانچہ ۱۹۰۹ء میں عطیہ بیگم کو ہی ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اگر وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میںطوفان بپا کیے ہوئے ہیں عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی۔ دنیا میرے گناہوں پر پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کرے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال کے قلب با صفا اور زبان بے ریا سے نکلے ہوئے یہ کلمات کتنے سچے ثابت ہوئے اور اس کی وفات پر ایک دنیا نے اسے آہوں اور آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کیا اور آج:&lt;br /&gt;
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری&lt;br /&gt;
کہ خاک کوہ کو میں نے بتایا راز الوندی!&lt;br /&gt;
(اقبال)&lt;br /&gt;
مہاراجہ سر کشن پرشاد سے بہت عرصہ اقبال کی خط و کتابت رہی۔ اقبال کی نیاز مندی اور حفظ مراتب کی شان ابتدا سے انتہا تک یکساں رہی۔ اقبال کے جاننے والے حیران ہیں کہ آخر اس ہندو رئیس  میں کیا خوبی تھی کہ جو اقبال ا س کا گرویدہ ہو گیا۔ حضرت علامہ کے ایک ندیم خاص نے تو ایک پرائیویٹ گفتگو میں یہاںتک فرمایا کہ اقبال نے کبھی مہاراجہ سے تعلقات کا اشارتہً بھی ذکر نہیں فرمایا تھا۔ لیجیے اقبال کی زبانی اس رابطہ کی نوعیت ملاحظہ فرما لیجیے۔ مارچ ۱۹۱۷ء میں مہاراجہ بہادر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے خلوص سرکار سے ہے اس کا راز معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں سرکار کی قبائے امارت سے میرے دل کو مسرت ہے۔ مگر میری نگاہ اسے سے پرے جاتی ہے۔ اور اس چیز پر جا ٹھہرتی ہے جو اس قبا میں پوشیدہ ہے۔ الحمد اللہ یہ خلوص کسی غرض کا پردہ دار نہیں اورنہ انشاء اللہ ہو گا۔ انسانی قلب کے لیے اس سے بڑھ کر زبوں بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا خلوص پروردہ اغراض و مقاصد ہو جائے انشاء اللہ العزیز اقبال کو آپ حاضر و غائب اپنا مخلص پائیں گے۔ اللہ نے اس کو نگاہ بلند اور دل غیور عطا کیا ہے۔ جو خدمت کا طالب نہیں اور احباب کی خدمت کو ہمیشہ حاضر ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’انہیں باتوں سے اقبال آ پ کا گرویدہ ہے۔ امارت عزت آبرو‘ جاہ و حشم عام ہے مگر دل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر امیر کے پہلو میں نہیں ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس سے ایک پہلے خط میں مہاراجہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ کہ آئینہ دل گر د غرض سے پاک ہے۔ اقبال کا شعار ہمیشہ محبت و خلوص ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔ اغراض کا شائبہ خلوص کو مسموم کر دیتا ہے۔ اور خلوص وہ چیز ہے کہ اس کو محفوظ و بے لوث رکھنا بندہ درگاہ کی زندگی کا مقصود اعلیٰ و اسنیٰ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خلوص و بے ریائی کا نتیجہ تھاکہ یہ ہندو مہاراجہ جس کی حیثیئت کتنے ہی ہندو والیان ریاست سے بڑھ کر تھی اقبال کو اپنی بیٹیوں کے رشتے کی تلاش کی دوستانہ فرمائش کرتا ہے اور اقبال اس دوستانہ اعتماد کا پورا پورا عملی احترام کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں میں جا بجا ایسے شواہد موجود ہیں کہ اقبال نے کبھی کسی دوست کو کسی دوسرے دوست یا بیگانے کے متعلق ایسی بات نہیںلکھی کہ جو براہ راست اسے لکھنے یا کہنے پر آمادہ نہ ہوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
[[تہجد]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4263</id>
		<title>خلوص</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4263"/>
		<updated>2018-06-14T20:40:04Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال کی زندگی سراپا خلوص تھی اور ان خطوط میں اس کی لفظی و عملی شہادت کثرت سے موجود ہے۔ وہ دوستوں کے دکھ درد میں ان کا شریک اور ان کی امداد و اعانت پر کمر بستہ ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی مروت کے لیے بھی دلی اور دائمی احسان مندی اس کا خاصہ ہے۔ عطیہ بیگم اس امر پر اظہار تاسف کرتی ہیں کہ شمالی ہندوستان میں اقبال کو عوام میںوہ عقیدت اور قدر و منزلت حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’لو گ ریاکاری سے عقیدت رکھتے ہیں اور اسی کا احترام کرتے ہیں۔ میں ایک بے ریا زندگی بسر کرتاہوں اور منافقت سے کوسوں دور ہوں۔ اگر ریاکاری و منافقت ہی میرے لیے وجہ حصول احترام و عقیدت ہو سکتی ہے تو خدا کرے میں اس دنیا سے ایسا بے تعلق اور بیگانہ ہو جائوں کہ میرے لیے بھی ایک آنکھ اشک بار اور ایک بھی زباں نوحہ خواں نہ ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال کی زبان حقیقت ترجمان پر حق ضرور جاری ہو جایا کرتاتھا چنانچہ ۱۹۰۹ء میں عطیہ بیگم کو ہی ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اگر وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میںطوفان بپا کیے ہوئے ہیں عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی۔ دنیا میرے گناہوں پر پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کرے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال کے قلب با صفا اور زبان بے ریا سے نکلے ہوئے یہ کلمات کتنے سچے ثابت ہوئے اور اس کی وفات پر ایک دنیا نے اسے آہوں اور آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کیا اور آج:&lt;br /&gt;
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری&lt;br /&gt;
کہ خاک کوہ کو میں نے بتایا راز الوندی!&lt;br /&gt;
(اقبال)&lt;br /&gt;
مہاراجہ سر کشن پرشاد سے بہت عرصہ اقبال کی خط و کتابت رہی۔ اقبال کی نیاز مندی اور حفظ مراتب کی شان ابتدا سے انتہا تک یکساں رہی۔ اقبال کے جاننے والے حیران ہیں کہ آخر اس ہندو رئیس  میں کیا خوبی تھی کہ جو اقبال ا س کا گرویدہ ہو گیا۔ حضرت علامہ کے ایک ندیم خاص نے تو ایک پرائیویٹ گفتگو میں یہاںتک فرمایا کہ اقبال نے کبھی مہاراجہ سے تعلقات کا اشارتہً بھی ذکر نہیں فرمایا تھا۔ لیجیے اقبال کی زبانی اس رابطہ کی نوعیت ملاحظہ فرما لیجیے۔ مارچ ۱۹۱۷ء میں مہاراجہ بہادر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے خلوص سرکار سے ہے اس کا راز معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں سرکار کی قبائے امارت سے میرے دل کو مسرت ہے۔ مگر میری نگاہ اسے سے پرے جاتی ہے۔ اور اس چیز پر جا ٹھہرتی ہے جو اس قبا میں پوشیدہ ہے۔ الحمد اللہ یہ خلوص کسی غرض کا پردہ دار نہیں اورنہ انشاء اللہ ہو گا۔ انسانی قلب کے لیے اس سے بڑھ کر زبوں بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا خلوص پروردہ اغراض و مقاصد ہو جائے انشاء اللہ العزیز اقبال کو آپ حاضر و غائب اپنا مخلص پائیں گے۔ اللہ نے اس کو نگاہ بلند اور دل غیور عطا کیا ہے۔ جو خدمت کا طالب نہیں اور احباب کی خدمت کو ہمیشہ حاضر ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’انہیں باتوں سے اقبال آ پ کا گرویدہ ہے۔ امارت عزت آبرو‘ جاہ و حشم عام ہے مگر دل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر امیر کے پہلو میں نہیں ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس سے ایک پہلے خط میں مہاراجہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ کہ آئینہ دل گر د غرض سے پاک ہے۔ اقبال کا شعار ہمیشہ محبت و خلوص ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔ اغراض کا شائبہ خلوص کو مسموم کر دیتا ہے۔ اور خلوص وہ چیز ہے کہ اس کو محفوظ و بے لوث رکھنا بندہ درگاہ کی زندگی کا مقصود اعلیٰ و اسنیٰ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خلوص و بے ریائی کا نتیجہ تھاکہ یہ ہندو مہاراجہ جس کی حیثیئت کتنے ہی ہندو والیان ریاست سے بڑھ کر تھی اقبال کو اپنی بیٹیوں کے رشتے کی تلاش کی دوستانہ فرمائش کرتا ہے اور اقبال اس دوستانہ اعتماد کا پورا پورا عملی احترام کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں میں جا بجا ایسے شواہد موجود ہیں کہ اقبال نے کبھی کسی دوست کو کسی دوسرے دوست یا بیگانے کے متعلق ایسی بات نہیںلکھی کہ جو براہ راست اسے لکھنے یا کہنے پر آمادہ نہ ہوں۔&lt;br /&gt;
[[[تہجد]]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AA%DB%81%D8%AC%D8%AF&amp;diff=4261</id>
		<title>تہجد</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AA%DB%81%D8%AC%D8%AF&amp;diff=4261"/>
		<updated>2018-06-14T20:38:43Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt; مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی ب...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے&lt;br /&gt;
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا&lt;br /&gt;
اور نماز بے حضور از من نیاید کہنے والے اقبال اپنے خلوص و بے ریائی کی بدولت ہی جب موقع پید اہو گیا تو اپنے ایک ہندو دوست کو جس کے متعلق یقین ہے کہ وہ اس راز یا حقیقت کو عام نہیں کرے گا تاکہ اس سے اقبا کو شہرت حاصل ہو۔ ۱۹۱۶ء میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’سردی آ رہی ہے صبح چار بجے کبھی تین بجے اٹھتاہوں اور پھراس کے بعد نہیں سوتا سوائے اس کے کہ مصلے پر اونگھ جائوں‘‘۔&lt;br /&gt;
۱۹۱۸ء میں ایک دوسرے خط میں مہاراجہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’سرکار کی صاحبزادی کی علالت کی خبر سن کر متردد ہوا ہوں۔ اللہ تعالیٰ صحت عاجل کرامت فرمائے انشاء اللہ کل صبح نماز کے بعد دعا کروں گا۔ کل رمضان کا چاند یہاں دکھائی دیا۔ آج رمضان المبارک کی پہلی ہے۔ بندہ روسیاہ کبھی کبھی تہجد کے لیے اٹھتا ہے اور بعض دفعہ تمام رات بیداری میں گزر جاتی ہے سو خدا کے فضل و کرم سے تہجد سے پہلے بھی اور بعد میں بھی دعا کروں گا کہ اس وقت عبادت الٰہی میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے۔ کیا عجب ہے کہ دعا قبول ہو جائے‘‘&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=4257</id>
		<title>Iqbalnama:Majmooa Makatib-e-Iqbal</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=4257"/>
		<updated>2018-06-14T20:31:24Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
*[[..دیباچہ..]]&lt;br /&gt;
*[[خلوص]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4255</id>
		<title>خلوص</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=%D8%AE%D9%84%D9%88%D8%B5&amp;diff=4255"/>
		<updated>2018-06-14T20:30:03Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt; اقبال کی زندگی سراپا خلوص تھی اور ان خطوط میں اس کی لفظی و عملی شہادت کثرت سے موجود ہے۔ و...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
اقبال کی زندگی سراپا خلوص تھی اور ان خطوط میں اس کی لفظی و عملی شہادت کثرت سے موجود ہے۔ وہ دوستوں کے دکھ درد میں ان کا شریک اور ان کی امداد و اعانت پر کمر بستہ ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی مروت کے لیے بھی دلی اور دائمی احسان مندی اس کا خاصہ ہے۔ عطیہ بیگم اس امر پر اظہار تاسف کرتی ہیں کہ شمالی ہندوستان میں اقبال کو عوام میںوہ عقیدت اور قدر و منزلت حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’لو گ ریاکاری سے عقیدت رکھتے ہیں اور اسی کا احترام کرتے ہیں۔ میں ایک بے ریا زندگی بسر کرتاہوں اور منافقت سے کوسوں دور ہوں۔ اگر ریاکاری و منافقت ہی میرے لیے وجہ حصول احترام و عقیدت ہو سکتی ہے تو خدا کرے میں اس دنیا سے ایسا بے تعلق اور بیگانہ ہو جائوں کہ میرے لیے بھی ایک آنکھ اشک بار اور ایک بھی زباں نوحہ خواں نہ ہو‘‘۔&lt;br /&gt;
لیکن اقبال کی زبان حقیقت ترجمان پر حق ضرور جاری ہو جایا کرتاتھا چنانچہ ۱۹۰۹ء میں عطیہ بیگم کو ہی ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’اگر وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میںطوفان بپا کیے ہوئے ہیں عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی۔ دنیا میرے گناہوں پر پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کرے گی‘‘۔&lt;br /&gt;
اقبال کے قلب با صفا اور زبان بے ریا سے نکلے ہوئے یہ کلمات کتنے سچے ثابت ہوئے اور اس کی وفات پر ایک دنیا نے اسے آہوں اور آنسوئوں کا خراج عقیدت پیش کیا اور آج:&lt;br /&gt;
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری&lt;br /&gt;
کہ خاک کوہ کو میں نے بتایا راز الوندی!&lt;br /&gt;
(اقبال)&lt;br /&gt;
مہاراجہ سر کشن پرشاد سے بہت عرصہ اقبال کی خط و کتابت رہی۔ اقبال کی نیاز مندی اور حفظ مراتب کی شان ابتدا سے انتہا تک یکساں رہی۔ اقبال کے جاننے والے حیران ہیں کہ آخر اس ہندو رئیس  میں کیا خوبی تھی کہ جو اقبال ا س کا گرویدہ ہو گیا۔ حضرت علامہ کے ایک ندیم خاص نے تو ایک پرائیویٹ گفتگو میں یہاںتک فرمایا کہ اقبال نے کبھی مہاراجہ سے تعلقات کا اشارتہً بھی ذکر نہیں فرمایا تھا۔ لیجیے اقبال کی زبانی اس رابطہ کی نوعیت ملاحظہ فرما لیجیے۔ مارچ ۱۹۱۷ء میں مہاراجہ بہادر کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’مجھے خلوص سرکار سے ہے اس کا راز معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں سرکار کی قبائے امارت سے میرے دل کو مسرت ہے۔ مگر میری نگاہ اسے سے پرے جاتی ہے۔ اور اس چیز پر جا ٹھہرتی ہے جو اس قبا میں پوشیدہ ہے۔ الحمد اللہ یہ خلوص کسی غرض کا پردہ دار نہیں اورنہ انشاء اللہ ہو گا۔ انسانی قلب کے لیے اس سے بڑھ کر زبوں بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا خلوص پروردہ اغراض و مقاصد ہو جائے انشاء اللہ العزیز اقبال کو آپ حاضر و غائب اپنا مخلص پائیں گے۔ اللہ نے اس کو نگاہ بلند اور دل غیور عطا کیا ہے۔ جو خدمت کا طالب نہیں اور احباب کی خدمت کو ہمیشہ حاضر ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خط میں لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’انہیں باتوں سے اقبال آ پ کا گرویدہ ہے۔ امارت عزت آبرو‘ جاہ و حشم عام ہے مگر دل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر امیر کے پہلو میں نہیں ہوتا‘‘۔&lt;br /&gt;
اس سے ایک پہلے خط میں مہاراجہ کو لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
’’الحمد اللہ کہ آئینہ دل گر د غرض سے پاک ہے۔ اقبال کا شعار ہمیشہ محبت و خلوص ہے اور انشاء اللہ رہے گا۔ اغراض کا شائبہ خلوص کو مسموم کر دیتا ہے۔ اور خلوص وہ چیز ہے کہ اس کو محفوظ و بے لوث رکھنا بندہ درگاہ کی زندگی کا مقصود اعلیٰ و اسنیٰ ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
اسی خلوص و بے ریائی کا نتیجہ تھاکہ یہ ہندو مہاراجہ جس کی حیثیئت کتنے ہی ہندو والیان ریاست سے بڑھ کر تھی اقبال کو اپنی بیٹیوں کے رشتے کی تلاش کی دوستانہ فرمائش کرتا ہے اور اقبال اس دوستانہ اعتماد کا پورا پورا عملی احترام کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اقبال نامہ کی دونوں جلدوں میں جا بجا ایسے شواہد موجود ہیں کہ اقبال نے کبھی کسی دوست کو کسی دوسرے دوست یا بیگانے کے متعلق ایسی بات نہیںلکھی کہ جو براہ راست اسے لکھنے یا کہنے پر آمادہ نہ ہوں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=..%D8%AF%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%86%DB%81..&amp;diff=4252</id>
		<title>..دیباچہ..</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=..%D8%AF%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%86%DB%81..&amp;diff=4252"/>
		<updated>2018-06-14T20:22:41Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
دیباچہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اقبال نامہ جلد دوم کی اشاعت کے ساتھ حکیم الامت فدائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عاشق ملت اسلامیہ ڈاکٹر سر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی ایک اہم علمی و معنوی یادگار کی فراہمی و حفاظت کی خدمت ایک گونہ تکمیل کو پہنچی۔ اس خدمت کی طرف سے غفلت ہمیں آئندہ نسلوں کی نظر میں محسن ناشناسی کا مرتکب اور ہماری بدذوقی اور دوں ہمتی کے لیے موجب نفریں قرار دیتی۔ ان مکاتیب کی فراہمی کا ایک مقصد حضرت علامہ کی وفات کے بعد ان کی ایک ایسی کتاب کی اشاعت تھا جو تمام عمر ان کے زیر تصنیف رہی ارو جس سے ان کے کلام کی تشریح کی وضاحت ہوتی ہے اوران کے افکار کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن میرا سب سے اہم مقصد سیرت نگار اقبال کے لیے ان کی ذات اور ان کے افکار سے متعلق خود ان کی قلمی شہادت مہیا کرنا تھا۔ افسوس بارہ سال کے طویل عرصے میں ہماری محفل اقبال کے کتنے ہی دوستوں شناسائوں اور ندیموں اور مشیروں سے خالی ہو چکی ہے۔ اور ان کی سیرت و شخصیت اور افکار و کلا م سے متعلق کتنا ہی قیمتی خزانہ معلومات ہمیشہ کے لیے ضائع ہو چکا ہے۔ لیکن مقام تاسف ہے کہ ملت نے اب تک اس خادم ملت کے سوانح حیات کی ترتیب کی طرف توجہ نہیںکی۔ یہ خدمت اپنی انجام دہی کے لیے ایک اجتماعی کوشش کی محتاج ہے۔ حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان کی بزم ہائے اقبال کو ہم اس اہم خدمت کی طرف ایک لمحہ کے توقف کے بغیر اقبال کی سیرت نگاری کا کام متفقہ کوششوں سے شروع کر دینا چاہتے ہیں۔ اور زیادہ سے زیادہ دو برس کے اندر اسے تکمیل تک پہنچانا چاہیے۔ ہم اتنا بھی نہ کر سکے تو یوم اقبال کے سالانہ ہنگامے ہمارے ذوق سلیم کے ماتم اور ہماری محسن ناشناسی کے مرثیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔&lt;br /&gt;
مکاتیب اقبال کی فراہمی کا کام یادش بخیر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں شروع ہوا اور جلد اول جس میں ۲۶۷ خطوط ہیں ۱۹۴۵ء میں شائع ہوئی۔ اس کی اشاعت کا مقصودیہ تھا کہ مکاتیب کی مزید فراہمی میں سہولت پیدا ہو چنانچہ ایک حد تک ایسا ہوا بھی لیکن جنگ نے ہر طرح کی مشکلات کو دوچند کر دیا جنگ کے خاتمہ پر ملک میں فسادات کا سلسلہ شروع ہوا۔ تقسیم برعظیم کے بعد اور آزادی کے جلو میں آنے والے ہنگامہ رستخیز میں دوسری کتنی ہی قیمتی یادگاروں کے ساتھ اقبال کے مکاتیب کے و ہ ذخیرے جن پر میری نظر تھی بظاہر ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گئے اور کتنے ہی نادر ذخیرے جن کا ہمیں علم نہ تھا اور جو اپنے وقت پر کسی نہ کسی طریق سے ضرور ظاہر ہوتے۔ اب بظاہر تلف ہو چکے ہیں۔ اس لیے جو کچھ ہو سکا وجہ مسرت ہے جو کچھ رہ گیا وہ موجب صد ہزار حسرت۔ &lt;br /&gt;
حصہ اول میں مکاتیب پر کوئی تبصرہ نہ تھا ۔ حصہ دوم کی تکمیل و اشاعت پر اظہار خیال کا وعدہ تھا۔ بعض احباب نے اس عرصہ میں مکاتیب حصہ اول کی روشنی میں اقبال کی سیرت پر طبع آزمائی فرمائی۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ ان خطوط کے تعارف کے طور پر مرتب مکاتیب یا چند سطور لکھنے کی ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے۔ &lt;br /&gt;
جو خطوط حاصل ہو سکے بلاکم و کاست شامل مجموعہ کر لیے گئے ہیں۔ ہر شخص اپنے مذاق و جستجو کے مطابق ان میں اپنی تسکین کا سامان مہیا پائے گا۔ کس کے لیے کون سے خطوط اور ا ن میں کون سی شے جاذب توجہ ہو گی ہمارے واردات قلبی اور سطح ذہنی پر موقوف ہے۔ اقبال کے متعلق معلومات کی طلب تمنا امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے گی۔ اور میں نہیں کہہ سکتا کہ ایک چوتھائی صدی کے بعد ان مکاتیب کے پڑھنے والوں کی نگاہ میں کون سی چیز زیادہ محبوب ہو گی۔ لہٰذا میں نے ان خطوط کو بھی اس مجموعہ میں شامل کر لیا ہے۔ جو آج بعض دوستوں کی نظر میں قطعاً غیر اہم ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کل یہی خطوط بڑے معرکے کی چیز ثابت ہوں اور کتنے ہی اہم مسائل کا فیصلہ ان کی روشنی میں کیا جا سکے۔ &lt;br /&gt;
ان خطوط کے مطالعہ کے بعد اقبال کی ذات کے متعلق جو امتیازات مجھے نظر آتے ہیں ان میں ان کا خلوص ان کی علم دوستی اسلام سے ان کی شیفتگی ہندوستان کے مسلمانوں کے زبوں حالی پر ان کی دل سوزی اور اصلاح حال کے لیے ان کی کاوش ممالک اسلامیہ کے لیے اتحاد و استقلال اور استحکام کی تجاویز اور کوشش اہل و عیال سے محبت دوستوں کے لیے جذبہ مروت اور عالم انسانیت کے لیے فلاح و خیر سگالی کے جذبات نمایاں ہیںَ ان میں سے چند کے متعلق ارشادات پر اکتفا کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ اقبال کو سمجھنے کے لیے ان کے کلام کی طرح ان کے خطوط کا مطالعہ بھی دوستداران اقبال کے لیے لازمی ہے&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=4251</id>
		<title>Iqbalnama:Majmooa Makatib-e-Iqbal</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=4251"/>
		<updated>2018-06-14T20:22:10Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
*[[..دیباچہ..]]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=..%D8%AF%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%86%DB%81..&amp;diff=4247</id>
		<title>..دیباچہ..</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=..%D8%AF%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%86%DB%81..&amp;diff=4247"/>
		<updated>2018-06-14T20:07:52Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt; دیباچہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اقبال نامہ جلد دوم کی اشاعت کے ساتھ حکیم الامت فدائے ر...&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
دیباچہ&lt;br /&gt;
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اقبال نامہ جلد دوم کی اشاعت کے ساتھ حکیم الامت فدائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عاشق ملت اسلامیہ ڈاکٹر سر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی ایک اہم علمی و معنوی یادگار کی فراہمی و حفاظت کی خدمت ایک گونہ تکمیل کو پہنچی۔ اس خدمت کی طرف سے غفلت ہمیں آئندہ نسلوں کی نظر میں محسن ناشناسی کا مرتکب اور ہماری بدذوقی اور دوں ہمتی کے لیے موجب نفریں قرار دیتی۔ ان مکاتیب کی فراہمی کا ایک مقصد حضرت علامہ کی وفات کے بعد ان کی ایک ایسی کتاب کی اشاعت تھا جو تمام عمر ان کے زیر تصنیف رہی ارو جس سے ان کے کلام کی تشریح کی وضاحت ہوتی ہے اوران کے افکار کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن میرا سب سے اہم مقصد سیرت نگار اقبال کے لیے ان کی ذات اور ان کے افکار سے متعلق خود ان کی قلمی شہادت مہیا کرنا تھا۔ افسوس بارہ سال کے طویل عرصے میں ہماری محفل اقبال کے کتنے ہی دوستوں شناسائوں اور ندیموں اور مشیروں سے خالی ہو چکی ہے۔ اور ان کی سیرت و شخصیت اور افکار و کلا م سے متعلق کتنا ہی قیمتی خزانہ معلومات ہمیشہ کے لیے ضائع ہو چکا ہے۔ لیکن مقام تاسف ہے کہ ملت نے اب تک اس خادم ملت کے سوانح حیات کی ترتیب کی طرف توجہ نہیںکی۔ یہ خدمت اپنی انجام دہی کے لیے ایک اجتماعی کوشش کی محتاج ہے۔ حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان کی بزم ہائے اقبال کو ہم اس اہم خدمت کی طرف ایک لمحہ کے توقف کے بغیر اقبال کی سیرت نگاری کا کام متفقہ کوششوں سے شروع کر دینا چاہتے ہیں۔ اور زیادہ سے زیادہ دو برس کے اندر اسے تکمیل تک پہنچانا چاہیے۔ ہم اتنا بھی نہ کر سکے تو یوم اقبال کے سالانہ ہنگامے ہمارے ذوق سلیم کے ماتم اور ہماری محسن ناشناسی کے مرثیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔&lt;br /&gt;
مکاتیب اقبال کی فراہمی کا کام یادش بخیر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں شروع ہوا اور جلد اول جس میں ۲۶۷ خطوط ہیں ۱۹۴۵ء میں شائع ہوئی۔ اس کی اشاعت کا مقصودیہ تھا کہ مکاتیب کی مزید فراہمی میں سہولت پیدا ہو چنانچہ ایک حد تک ایسا ہوا بھی لیکن جنگ نے ہر طرح کی مشکلات کو دوچند کر دیا جنگ کے خاتمہ پر ملک میں فسادات کا سلسلہ شروع ہوا۔ تقسیم برعظیم کے بعد اور آزادی کے جلو میں آنے والے ہنگامہ رستخیز میں دوسری کتنی ہی قیمتی یادگاروں کے ساتھ اقبال کے مکاتیب کے و ہ ذخیرے جن پر میری نظر تھی بظاہر ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گئے اور کتنے ہی نادر ذخیرے جن کا ہمیں علم نہ تھا اور جو اپنے وقت پر کسی نہ کسی طریق سے ضرور ظاہر ہوتے۔ اب بظاہر تلف ہو چکے ہیں۔ اس لیے جو کچھ ہو سکا وجہ مسرت ہے جو کچھ رہ گیا وہ موجب صد ہزار حسرت۔ &lt;br /&gt;
حصہ اول میں مکاتیب پر کوئی تبصرہ نہ تھا ۔ حصہ دوم کی تکمیل و اشاعت پر اظہار خیال کا وعدہ تھا۔ بعض احباب نے اس عرصہ میں مکاتیب حصہ اول کی روشنی میں اقبال کی سیرت پر طبع آزمائی فرمائی۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ ان خطوط کے تعارف کے طور پر مرتب مکاتیب یا چند سطور لکھنے کی ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے۔ &lt;br /&gt;
جو خطوط حاصل ہو سکے بلاکم و کاست شامل مجموعہ کر لیے گئے ہیں۔ ہر شخص اپنے مذاق و جستجو کے مطابق ان میں اپنی تسکین کا سامان مہیا پائے گا۔ کس کے لیے کون سے خطوط اور ا ن میں کون سی شے جاذب توجہ ہو گی ہمارے واردات قلبی اور سطح ذہنی پر موقوف ہے۔ اقبال کے متعلق معلومات کی طلب تمنا امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے گی۔ اور میں نہیں کہہ سکتا کہ ایک چوتھائی صدی کے بعد ان مکاتیب کے پڑھنے والوں کی نگاہ میں کون سی چیز زیادہ محبوب ہو گی۔ لہٰذا میں نے ان خطوط کو بھی اس مجموعہ میں شامل کر لیا ہے۔ جو آج بعض دوستوں کی نظر میں قطعاً غیر اہم ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کل یہی خطوط بڑے معرکے کی چیز ثابت ہوں اور کتنے ہی اہم مسائل کا فیصلہ ان کی روشنی میں کیا جا سکے۔ &lt;br /&gt;
ان خطوط کے مطالعہ کے بعد اقبال کی ذات کے متعلق جو امتیازات مجھے نظر آتے ہیں ان میں ان کا خلوص ان کی علم دوستی اسلام سے ان کی شیفتگی ہندوستان کے مسلمانوں کے زبوں حالی پر ان کی دل سوزی اور اصلاح حال کے لیے ان کی کاوش ممالک اسلامیہ کے لیے اتحاد و استقلال اور استحکام کی تجاویز اور کوشش اہل و عیال سے محبت دوستوں کے لیے جذبہ مروت اور عالم انسانیت کے لیے فلاح و خیر سگالی کے جذبات نمایاں ہیںَ ان میں سے چند کے متعلق ارشادات پر اکتفا کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ اقبال کو سمجھنے کے لیے ان کے کلام کی طرح ان کے خطوط کا مطالعہ بھی دوستداران اقبال کے لیے لازمی ہے&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=4245</id>
		<title>Iqbalnama:Majmooa Makatib-e-Iqbal</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=Iqbalnama:Majmooa_Makatib-e-Iqbal&amp;diff=4245"/>
		<updated>2018-06-14T20:04:14Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: Created page with &amp;quot;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
	<entry>
		<id>http://iqbal.wiki/index.php?title=Falsafa-e-Iran:Iqbal_Ki_Nazar_Main&amp;diff=3454</id>
		<title>Falsafa-e-Iran:Iqbal Ki Nazar Main</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://iqbal.wiki/index.php?title=Falsafa-e-Iran:Iqbal_Ki_Nazar_Main&amp;diff=3454"/>
		<updated>2018-06-13T19:21:17Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Zahra Naeem: /* دیباچہ */&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;&amp;lt;div dir =&amp;quot;rtl &amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
==پیش لفظ از مؤلف==&lt;br /&gt;
*[[پیش لفظ]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==کتاب کا انتساب از علامہ اقبالؒ ==&lt;br /&gt;
*[[ کتاب کا انتساب از علامہ اقبالؒ]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== دیباچہ ایضاً ==&lt;br /&gt;
*[[''دیباچہ'']]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==مباحث==&lt;br /&gt;
==پہلا باب: ایرانی ثنویت ==&lt;br /&gt;
*[[ پہلا باب: ایرانی ثنویت]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==دوسرا باب: ایران کے نوافلاطونی متبعین ارسطو ==&lt;br /&gt;
*[[دوسرا باب: ایران کے نوافلاطونی متبعین ارسطو]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==تیسراباب:اسلام میں عقل پرستی کا عروج و زوال ==&lt;br /&gt;
*[[تیسراباب:اسلام میں عقل پرستی کا عروج و زوال]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==چوتھا باب: تصوریت اور حقیقت پرستی کی بحث ==&lt;br /&gt;
*[[چوتھا باب: تصوریت اور حقیقت پرستی کی بحث]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==پانچواں باب: تصوّف ==&lt;br /&gt;
*[[پانچواں باب: تصوّف]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==چھٹا باب: دورِ آخر کا ایرانی فلسفہ==&lt;br /&gt;
*[[چھٹا باب: دورِ آخر کا ایرانی فلسفہ]]&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
==خاتمہ==&lt;br /&gt;
*[[''خاتمہ'']]&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Zahra Naeem</name></author>
		
	</entry>
</feed>